بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مسلسل واقعات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر پا رہے۔ مذہبی آزادی، عزتِ نفس اور بنیادی انسانی حقوق بار بار پامال ہو رہے ہیں، جو ایک سنجیدہ تشویش اور عالمی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔
برسوں سے ملحد تھا، اب خدا پر یقین آ گیا۔ اب میری سمجھ میں آ گیا ہے کہ اس کرشماتی دنیا کو پیدا کرنے والی کوئی نہ کوئی ہستی ضرور ہے۔ یہ سب خودبخود نہیں ہوا ہوگا۔ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا بڑا بیان
دارالعلوم دیوبند، انڈیا میں جاری ایک سیمنار کے دوران ایک مولانا صاحب کو فون آیا۔
فون سنتے ہی وہ رونے لگ گئے۔
خبر یہ تھی کہ مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کا انتقال ہو گیا ہے۔
پیچھے بیٹھے مولانا کا زور زور سے رونے کا درد بھرا منظر دیکھے
آج دنیا ایسی تاریکی میں ڈوب گئی جس کی گونج صدیوں تک محسوس کی جائے گی
دکھ کی انتہا ہے لاکھوں دلوں کا چین و قرار پیر طریقت رہبر
شریعت سلسلہ نقشبندیہ کے نیّر تاباں محبوب العلماء حضرت اقدس مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب دار فانی سے رات بقا کی جانب اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔
دولت یا وراثت کے لیے نہیں، بلکہ صرف جنت کے اجر کے لیے
دو سعودی بھائی اپنی ضعیف ماں کی خدمت کا حق لینے عدالت پہنچ گئے، کیس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا
ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے:
اصل کامیابی دولت میں نہیں، بلکہ والدین کی خدمت میں
مقابلہ چیزوں میں نہیں، احسان اور خدمت میں ہونا چاہیے۔
آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں کیونکہ اس نے آپ کی محبت خالص مومنین کے دلوں میں ڈال دی ہے۔
تم مبارک ہو،
تم ہیرو ہو،
آپ ایک بہادر جنگجو ہیں رب آپ کو اپنے مقدس راستے پر ثابت قدم رکھے
"غزہ ہمارا نعرہ ہے،
غز0 فتح اور ثابت قدمی ہے،
غز0 دن اور رات ہے،
اے میرے دشمن میں تیرے مقابلے میں آگ کے پہاڑ سے آ رہا ہوں
میں اپنے خون سے تیرے لیے گولہ بارود بناؤں گا، اور تیرے خون سے ندیاں بہا دوں گا ۔۔۔"
یہ نعرے محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ شامی فوج کی گہری اور پختہ قومی روح کی++
شام کی آزادی کی تاریخی گھڑی پر،
شامی مسلمانوں کے دلوں میں مسرت، فخر، اور شکر گزاری کے جذبات موجزن ہیں۔
یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ 14 سال کی قربانیوں، صبر اور جدوجہد کا ثمر ہے۔
اللہ کریم
سرزمین شام کو ہمیشہ کے لیے امن، عدل اور وقار سے بھر دے۔
یہ قدم صرف دوڑ نہیں تاریخ کے سینے پر لکیر ہیں۔
جب زمین تنگ ہو جائے، ایمان افقوں کو فتح کرتا ہے اور یہ دوڑ خوف کی نہیں، وعدے کی تکمیل کی طرف ہے۔
جہاں ظالم کی سانس رکتی ہے، وہیں مجاہد کی پرواز شروع ہوتی ہے۔ 🔻⚔️
عاشقان مسجد اقصی
غزہ میں اجتماعی شادی۔ فلسطینی عوام کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ مٹائے جانے سے،ختم ہونے سے،نیست و نابود ہونے سے انکاری ہیں۔ ان کا وجود ،ان کی زندگی سے بھرپور سرگرمیاں ہی اصل مزاحمت ہے۔ ان کی ثابت قدمی اور ناامیدی سے انکار کوئی افسانہ اور کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے یہی تو عہد وفا ہے۔
⚔️ حماس قیادت کی قربانی !
الزامات تھے کہ قیادت سرنگوں میں عیش کر رہی ہے یا فائیو سٹار ہوٹلوں میں ہے اور اپنے عوام کو بھوک کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج حمaس قیادت اور ان کے بیٹے پہلی صف سے شہید ہو کر نکل رہے ہیں۔
اہم ترین مذاکرات کار کا بیٹا بھی رفح کی سرنگوں میں بھوک+
"میری وصیت ہے کہ تم مجھ پر رونا نہیں۔"
یہ خوبصورت نوخیز جوان حمaس کے اہم رہنما "غازی حمد" کا جوان بیٹا "عبداللہ" ہے،
جو رفح کی سرنگوں کے محصور جانبازوں میں سے ایک تھا اور آخری سانس تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور بالآخر شہید ہوگیا۔
تقبلھم اللہ الرحمن
اُس قلیل، مگر اہلِ ایمان جماعت پر سلام،
جو ہر سمت سے محاصرے میں ہے 💔
سلام ہو اُن تھکے ہارے، فاقہ کَش افراد پر 💔
سلام ہو اُن پر جنہیں امت نے تنہا چھوڑ دیا اور وہ اکیلے رہ گئے 💔
ان کے جوتے غداروں کے چہروں سے زیادہ پاک ہیں۔
یہ وہ ثابت قدم مرد ہیں جنکی بہادری، صبر اور استقامت کے اعتراف میں ہر آزاد شخص جھک جائے۔
انہوں نے اس وقت عزت کا پرچم بلند رکھا جب باقی لوگ غداری کی دلدل میں تھے
سلام ہو ان جوانوں پر، اور شرم و ذلت ہو ہر غدار اور خاموش تماشائی پر!