میں ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناطے شہباز
شریف کو وزیر اعظم ماننے سے انکار کرتا ہوں ۔
میرا ضمیر کسی چور اور سزا یافتہ شخص کو ملک کا سربراہ تسلیم نہیں کرتا ہے.
*Don’t stop the Chain* 🛑
*#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور*
@ImranKhanPTI
@AajKamranKha
@ImranRiazKhan@haroon_natamam
🖋️ "The light from his past helps lessen the darkness around his present."
Former Pakistan captain Imran Khan found an eight-day jail spell in 2007 unbearable – he has now been held for almost 1,000 days.
Read @OsmanSamiuddin on Imran Khan, an extract from this year's @WisdenAlmanack ⤵️
https://t.co/44f3wMWH6c
Deeply appreciative of Greg Chappell for raising his voice for my father.
It is heartening to see global cricketing leaders call for dignity and justice while he remains in solitary confinement for nearly 1000 days, having lost approximately 85% of the vision in his right eye, and still denied proper medical care and access to his doctors and family.
Thank you Greg, and all those who have stood beside him.
https://t.co/wbq0qlyoPN
It is critical and urgent that Imran Khan be examined and treated at a proper medical facility. Our recommendations to CJP clearly demanded that he be examined and treated at Shifa International Hospital (Islamabad) by specialist doctors, under the supervision of his personal physicians and in the presence of his family members. It is extremely unfortunate that Chief Justice Yahya Afridi expressed satisfaction with the doctors’ visit to Adiala Jail and completely disregarded the family’s lawful and legitimate demands.
What are they hiding?
The extraordinary effort by the government and establishment to prevent Imran Khan from being properly examined, tested, and treated in a reputable tertiary care hospital, under the supervision of his own doctors and in the presence of his family, raises serious questions. Government ministers have falsely claimed that his treatment was delayed because the family insisted on their presence along with his personal doctors. This was not a delaying tactic; it was a necessary safeguard to ensure transparency, proper care, and his safety. The additional doctor who accompanied the PIMS doctor to Adiala Jail was sent ONLY for examination, not treatment. What kind of comprehensive examinations can be conducted inside a jail facility, which lacks the equipment, environment, and safeguards of a proper hospital?
The PIMS doctors, along with a specialist from Al-Shifa Trust Eye Hospital, were sent to Adiala Jail on Monday, 16th February, to show compliance with the deadline set by Chief Justice Yahya Afridi. However, on Tuesday, 17th February, Imran Khan conveyed a message through Bushra Bibi via her daughter, clearly stating that he was NOT satisfied with the doctors’ visit or the treatment being provided, and he specifically asked that his blood tests should be conducted in the presence of his personal doctors, Dr. Asim and Dr. Faisal. We REJECT any medical reports drawn up as a result of examinations conducted in the absence of Imran Khan’s personal physicians and family member. URGENCY IS OF THE UTMOST IMPORTANCE.
میرے پاکستانیوں!!!
عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی صحت پر نا میں خود سیاست کرونگا اور نا ہی کسی کو کرنے دونگا۔ پوری قوم میں عمران خان صاحب کے لیے بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اس وقت غم اور غصہ پایا جا رہا ہے اُس کا مُجھے بخوبی احساس ہے۔ لیکن اس کو ہم نے اپنی کمزوری نہیں اپنی طاقت بنانی ہے۔ ہمیشہ سخت اور نازک وقت میں آپ کو اعصاب مضبوط رکھ کر حکمت سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کی پوشیدہ حکمت عملی ہی آپ کی بہترین طاقت ہوتی ہے۔
عمران خان صاحب کوئی معمولی شخص نہیں وہ پاکستان کا سابقہ اور موجودہ وزیر اعظم ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہے۔ اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جو ناقابل معافی فعل ہے۔ اب اس وقت اُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نا سوچیں کہ میں عمران خان صاحب کے علاج تک آرام سے بیٹھونگا۔
اس وقت جو ورکرز بغیر کسی آفیشل کال کے اپنی مدد اپ نکلے ہیں تو جہاں پر ہے وہی پُرامن رہے اور نزدیک ورکرز اُن کا ساتھ دیں۔ آپ سب نے آگے بھی پُرامن رہنا ہے۔ عمران خان صاحب کے مخالف جنہوں نے اُن کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ہم میں اپنے انتشاری لوگ شامل کر کے ہمارے پُرامن احتجاج کو کسی دوسری طرف لے جا کر ہمیں ہی نشانہ بنائینگے۔ آپ نے تمام انتشاری لوگوں پر نظر رکھنی ہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہے۔ کسی بھی منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین نہیں کرنا جب تک عمران خان صاحب کی فیملی اور جماعت کسی بھی خبر کی تصدیق نا کرے۔
تمام پاکستانیوں کو میں یہ اعتماد دلاتا ہوں کہ انشاء اللّٰہ آپ سب کے اعتماد، اتفاق و اتحاد اور سپورٹ سے عمران خان صاحب کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور فیملی کو اعتماد میں لے کر جلد از جلد ہوگا۔ یہ آپ سب کے ذہن میں ہونا چاہئے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے ساتھ ساتھ ہم نے اُن کی سیکورٹی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کچھ چیزیں بتا کر کی جائینگی اور کچھ چیزیں شاید فلحال ہمارے سامنے نا آئیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کا علاج 16 فروری تک ہوجانا چاہیے۔
@fawadchaudhry
اس کو بتائیں قانون اور الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے مطابق اس وقت پاکستان کی کسی اسمبلی میں تحریک انصاف کا کوئی ممبر ہے ہی نہیں۔
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!”
- عمران خان
#PakistanLovesImranKhan
ڈی جی آئی ایس پی آر پختونوں سے معافی مانگو۔ یہ پورے خیبرپختونخواہ کی توہین ہے۔ آپ نے آج یہ زبان استعمال کر کے یہ ثابت کردیا کہ جو سہیل آفریدی نے کہا تھا وہ ٹھیک کہا تھا۔ تم پختونوں کے وزیر اعلی کے بارے میں یہ کہہ رہے ہو تو عام پختون کے ساتھ کیا کیا سلوک ہوا ہوگا؟
When an authoritarian setup steals elections in broad daylight, when peaceful Pakistanis are shot, jailed, or silenced, when judges are bullied into obedience, when courts hand out predetermined sentences, and when a former prime minister is stripped of his basic rights, none of that is considered a “security threat.” Yet Imran Khan telling the truth from a prison cell suddenly is?
How is a man whose election was stolen, who has endured two years of state brutality, and who stands as a victim of the very system he challenges somehow more dangerous than the powers that undermine the Constitution?
How can one man, one office, or one institution place itself above the Constitution, above the rule of law, and above 240 million Pakistanis? The nation is done whispering. It wants answers.
#ذہنی_مریض_نامنظور
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
پریس کانفرنس کا موضوع : عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان عمران خان : پریس کانفرنس کا اختتام " ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے