محبوب العلما و صلحا حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب قضاۓ الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں إنا لله وإنا إليه راجعون ۔ اللہ حضرت جی کی کامل مغفرت فرما کے قرب کے اعلی ترین مقامات جنت الفردوس میں نصیب فرمائے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
Reminder: Mehfil-Dhikr tonight @ 7:15 pm by Shaykh Ahmad Arshad (db)
⌛"When the 'Observer' and the 'Observed' become one, know that the 'Real Observer' was always Allahﷻ"
(Hayat-ul Awliyah: vol 9)
🎇💡The Majesty of the Almighty Allah ﷻ
سُبْحانَ مَنْ يَراني، ويَسْمَعُ كَلامي، ويَعْرِفُ مَكانِي. سُبْحانَ مَنْ يَذْكُرُني ولا يَنْساني
"Glory be to the One who sees me, hears my speech, and knows my place. Glory be to the One who remembers me and does not forget me."
وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُ
(Surah Al-Kahaf)
'The Gist: 'Sit with the lovers of Allah and choose their state of heart to be yours
نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
💗✨Aalimah Humera Ahmad is in Karachi!
جہاں میں جز تیرے جلووں کے چار سو کیا ہے،
یہ بزم شمس و قمر کیا ہے؟ رنگ و بو کیا ہے
تری تلاش میں نکلے تو ہوا یہ معلوم
جنون عشق کی منزل ہے، جستجو کیا ہے!
وہ جان کیا جو نہ ہو خرچ تیرے رستے میں
جو تیرے در پہ نہ جائے وہ لہو کیا ہے
ہے اِسی طرح سے ممکن تیری راہ سے گزرنا
کبھی دل پہ صبر کرنا کبھی دل سے شکر کرنا
ہی عاشقوں کا شیوہ یہی عاشقوں کی عادت
کبھی گریہ و بُُکا ہے کبھی آہیں سرد بھرنا
یہی عشق کی علامت یہی عشق کی ضمانت
کبھی ذکر ہو زباں سے کبھی دل میں یاد کرنا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعید بن مسلم اور امام سفیان رحمھم اللہ فرماتے ہیں: "ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اسے حق ہی پایا۔"
(الاستذکار للام ابن عبدالبر، فقہاء الامصار)
📅Reminder: Mehfil-e Dhikr by Shaykh Ahmad Arshad (db) tonight Insha'Allah
﴾وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ﴿ Surah Taha: 82
🤲O Allah! I don't come to You perfect
I come to You because You are perfect & I am Yours!
✨SHAYKH - The Guiding Light in a lost world!
روشنی دو طرح کی ہوتی ہے
ایک وہ جو راستہ دکھاتی ہے، دوسری وہ گرتے وقت تھام لیتی ہے۔ شیخ کا نور دونوں روشنیوں کا کام دیتا ہے
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو ، کھیتی بھی تو ، باراں بھی تو ، حاصل بھی تو
آہ ، کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تو ، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو ، منزل بھی تو