تابش ہاشمی نے جیو نیوز پر بیٹھ کر عمران خان کی بیماری کی بات کی تھی جبکہ کل کھل عام آزاد کشمیر کے لئے بھی آواز اٹھایا۔
اور آج تابش ہاشمی کا پروگرام بند کر دیا گیا 💔
اسی اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ تھا نا کہ اگر عمران خان کی حکومت کو گھر نہ بھیجا جاتا تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا؟ تو سن لیں، جب عمران خان کی حکومت تھی، اس وقت ملک کی شرحِ نمو یعنی گروتھ ریٹ تقریباً 6 فیصد تھی۔ ملک ڈیفالٹ نہیں کر رہا تھا، بلکہ ترقی کر رہا تھا۔ پھر ایک چلتی پھرتی حکومت کو سازش کے ذریعے گھر بھیجا گیا، اور آج وہی نظام خود کولپس کر کے بیٹھا ہے۔
5 اگست صرف ایک جلسہ نہیں، بلکہ عوامی عزم کا اظہار ہے۔ عوام اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے۔ ان شاء اللہ، وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی آئندہ تحریک کا لائحۂ عمل پیش کریں گے۔ مزاحمت جاری رہے گی!
🚨ہم بطور انسان بڑے بے غیرت لوگ ہے
اس وقت ایک روپے پر عمران خان کو کتنی گالیاں دی جاتی تھی یاد ہے سب کو؟ لیکن جب سےشہباز مومن وزیر اعظم بنا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانیوں کی غیرت پتہ نہیں کدھر گئی ہے
ظہران خان نے سارے بدیانتو کو جھوٹا ثابت کردیا!!
جو بدیانت ٹچے صحافی کہتے ہیں, ہمارے پاس credible source نہیں اسلیے کشمیر پر بات نہیں کر سکتے, انکو ظہران نے اصل صحافت بتائی ہے!!
مظفرآباد میں اس وقت عورتیں اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔
اس بہن نے کہا کہ پاکستانی فوجی رات کو گھروں میں زبردستی گھس جاتے ہیں، سینکڑوں لوگوں کو شہید کیا۔ مریم نواز پر بھی لعنت بھیجی، کہا کہ اس کی رگوں میں کشمیری خون نہیں، جرنیلی خون بہتا ہے۔
یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے نا جس کا بیانیہ تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت برقرار رہی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ پھر اسی اسٹیبلشمنٹ نے بیانیہ بنایا کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آ گئے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا اور ترقی رک جائے گی۔
پھر کہا گیا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم اس لیے ضروری ہیں کیونکہ عدلیہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ وہ بھی کر کے دیکھ لیا، مگر اب فرمایا جا رہا ہے کہ پورا نظام ہی غلط ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہیے! شہزاد اقبال۔
نوجوان پریس کلب کے باہر ڈٹ گئے لا تعداد گرفتاریوں کے باوجود نوجوان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اس وقت مریم نواز کی گنڈا فورس کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں
نوجوانوں کا کہنا تھا کہ آج اس حکومت نے پنجاب کی تمام فورس صرف اس لیے پریس کلب کے باہر تعینات کر دی ہے تاکہ کشمیر کے حق میں احتجاج نہ ہونے دیا جائے
ایک اور نوجوان نے کہا کہ اس ملک میں فلسطین اور کشمیر کے لیے احتجاج کرنا قانونی جرم بنا دیا گیا ہے یہ وہی عورت ہے جو خود کو کشمیر کا خون کہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کشمیری نہیں بلکہ ایک ظالم حکمران ہے