تمام کارکن اور ورکرز تیار رہیں، ان شاء اللہ بہت جلد پارٹی سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں۔ تمام ساتھیوں کو عزت دی جائے گی، ملاقاتیں ہوں گی، گلے شکوے دور کیے جائیں گے، اور دفاتر میں مشاورت کے لیے فون کے ذریعے مدعو کیا جائے گا۔
اگر محسن نقوی کے بعد DGISPR بھی یہ کہ رہے ہیں کہ گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا تو اسکا مطلب ملک میں گڈ گورننس نہیں ہے ۔ اسے حکومت کو چارج شیٹ کرنا نہیں کہیں تے کیا کہیں ؟
#Justasking
@azharjavaiduk جھوٹ رانا ثناء اللہ صاحب ایسا کچھ نہیں ہے آپکی سیاست آپ نے خود ختم کی ہے نوجوان طبقہ آپ لوگوں سے نفرت کرتا ہے اور یہ زمینی حقائق بتا رہا ہوں اپکو
دیکھا جائے تو ڈی جی ائی ایس پی ار نے بھی اصولی طور پر محسن نقوی کے موقف کی تائید کر دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے ابھی بھی وقت ہے کہ جو تھوڑی سی رہ گئی ہے، وہ عزت بچا کر حکومت چھوڑ کر کر ملکی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کر دے، یہ قربانی دینا یقینا بہت مشکل بھی ہوگا اور اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں لیکن ناقدین کو سسٹم ٹھیک کرنے دیں، البتہ 2022 سے اب تک اصلاحات کیوں نہ کر سکے اس پر بھی عوام کو ضرور اگاہ کر دیں اور معافی مانگ لیں۔ یونہی اقتدار سے چپکے رہے تو اس کی حیثیت مندر کے گھنٹے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت نئے گرداب میں پھنستی چلی جائے گی۔
سب ایک جگہ بیٹھ جائیں جتنے بھی فیصلہ ساز ہیں اور جتنے بھی ریاست کے ستون اور ایک ہی بار فیصلہ کرلیں کہ کون سا نظام چلے گا جو سب کو قابل قبول ہو یہاں پر ہر دو تین سال بعد ناکامیوں اور نظام کا رونا شروع کردیا جاتا ہے ذمہ داری بھی تو کوئی لے؟
ترجمان افواج پاکستان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ویسے تو وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیکر اس پر کمنٹ سے انکار کردیا تاہم کم و بیش گڈ گورننس اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق انہوں نے ہر سوال کا جواب دیا اور اس پر عوام کی رائے لینے پر بار بار زور دیتے رہے ۔۔۔۔۔
آپ سمجھ تو گئے ہونگے۔۔۔
ترجمان افواج پاکستان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی بریفنگ
رواں سال 40 ہزار سے زائد اینٹلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گیے جس میں 2084 دہشت گرد مارے گئے ہر روز 200 اینٹلی جنس بیسڈ آپریشنز ہورہے ہیں
ان آپریشنز کے دوران 800 سے زائد سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ۔
بلوچستان میں حقوق کے نام پر بہت کچھ کیا جارہا ہے بلوچستان کے اصل مسئلے کو سمجھنا ہوگا حقوق کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں آرٹیکل پانچ کے تحت ہر شہری کا ریاست اور آئین سے وفادار ہونا لازمی ہے۔۔۔
بلوچستان کا مسلئہ وہاں کے سردار اور ایلیٹ ہیں جو سمگلنگ سمیت بہت سے جرائم میں ملوث ہیں اپنا حصہ مانگتے ہیں وہ بھی ایک ہزار ارب روپے لیکن ہم نہیں دینگے ۔سردار کہتے ہیں کہ حصہ نہیں دوگے تو دہشت گردی کروائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی ار
ڈی جی آئی ایس پی آر
بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ادہشت گردی ہے احساس محرومی کا ڈرامہ کیا جاتا ہے اور مزدوروں کو یہ دہشت گرد نشانہ بناتے ہیں تاکہ ترقی نہ ہو۔۔۔