منتہا زہرہ قتل میں حیران کن انکشاف مجرم ایک نہیں ہے
منتہا زہرہ کو قران مجید پڑھانے والے قاری صاحب کے انکشافات
میں صبح سوا سات منتہا کو قران پڑھا کر چلا گیا 12 بجے اسکی والدہ نے مجھے فون کیا قاری صاحب منتہا گم ہو گئی ہے 1 گھنٹہ ہو گیا اسے تلاش کرتے ہوئے مل نہیں رہی آپ کے گھر تو نہیں چلی گئی
میرا گھر زیادہ دور نہیں ہے میں فوری یہاں آیا گلیوں میں دیکھا اور پھر اس دکان پر گیا جہاں بقول والدہ وہ چیز لینے گئی تھی میں جب دکان پر پہنچا تو مالک موجود تھا اور 3 چار لڑکے بھی میں نے ان سے پوچھا کہ منتہا یہاں آئی تھی؟ تو وہ بولے آئی تو تھی لیکن پتہ نہیں کدھر گئی میں نے پوچھا تم اندھے ہو یا نشہ کیا ہوا ہے 5 بندے ادھر کھڑے ہو بچی دکان میں آئی اور باہر واپس نہیں نکلی غائب ہو گئی اور تم کہتے ہو پتہ نہیں کہاں گئی اس پر مالک دکان اور لڑکے ہنسنے لگے اسکے بعد آدھے گھنٹے میں پولیس نے بچی کی لا۔ش چھت سے برآمد کر لی قاری صاحب اور اہل محلہ کے بقول ایک مجرم پار ہو چکا لیکن ہمیں پورا یقین ہے اصل واقعہ اور ہے اور یہ ایک لڑکے کا کیا دھرا نہیں اس میں زیادہ لوگ شامل ہیں ایک ملازم لڑکے کی کیا مجال کہ وہ دکان مالک اور اسکے بیٹوں کی موجودگی میں بچی کو دکان کے اوپر کمرے میں لے جائے اور اسکے ساتھ درندگی کرے لازمی طور پر ملازم دکاندار کا چہیتا تھا اگر اتنا چہیتا تھا اور وہ اسکے کردار سے بھی واقف تھے
ہمارا مطالبہ ہے کہ ان باقی ملزموں سے بھی پولیس روایتی طریقے سے تفتیش کرے جیسا کہ ہمیں شک ہے یہ ایک بندے کا کام نہیں تو پھر باقی ملزمان کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے ملزمان کو دکان کے سامنے بازار میں سر عام لٹ*کایا جائے
جس بجٹ کو شاندار ترین قرار دیا جا رہا ہے، اس میں ایک عام آدمی کو کیا ملا؟ ذرا یہ بھی سن لیجیے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا، لیکن مئی 2025 سے مئی 2026 تک افراطِ زر (Inflation) کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قوتِ خرید (Purchasing Power) میں تقریباً 12 فیصد کمی آ چکی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک سال پہلے 1,000 روپے سے جو سامان خریدا جا سکتا تھا، آج وہی سامان خریدنے کے لیے تقریباً 1,120 روپے درکار ہیں۔ یعنی آپ کے 1,000 روپے کی حقیقی قدر کم ہو چکی ہے۔
اگر کسی کی تنخواہ 30,000 روپے تھی تو افراطِ زر کی وجہ سے اس کی حقیقی قوتِ خرید تقریباً 26,800 روپے کے برابر رہ گئی۔ جبکہ تنخواہ میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا، یعنی 30,000 روپے تنخواہ 32,100 روپے ہو گئی۔اور ابھی اس سال والی الگ ہو گی
نتیجہ یہ ہے کہ تنخواہ میں اضافے کے باوجود قوتِ خرید میں ہونے والی کمی پوری نہیں ہوئی۔ دوسرے الفاظ میں، کاغذ پر تنخواہ بڑھی ہے لیکن حقیقی معنوں میں ملازم پہلے کے مقابلے میں کم چیزیں خرید سکتا ہے۔
اسی لیے معاشیات میں صرف تنخواہ میں اضافے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ افراطِ زر کے بعد اس تنخواہ کی حقیقی قدر کیا رہ جاتی ہے
@honey_eshaal 9 sy 10 hazar banda jis ny vote di hai un sb ko court ly jaya jaye, itna b nhi kr sakti PTI to phr dramybazi band kr dy.. choty loog bary uhdon pr puhunch jayin to nakaam aisy hi hoty jesy majoda qayadat PTI ki hai
@mfayyazraja 9 sy 10 hazar banda jis ny vote di hai un sb ko court ly jaya jaye, itna b nhi kr sakti PTI to phr dramybazi band kr dy.. choty loog bary uhdon pr puhunch jayin to nakaam aisy hi hoty jesy majoda qayadat PTI ki hai
@GKamranKhan@ShakeelAhmedMPA 9 sy 10 hazar banda jis ny vote di hai un sb ko court ly jaya jaye, itna b nhi kr sakti PTI to phr dramybazi band kr dy.. choty loog bary uhdon pr puhunch jayin to nakaam aisy hi hoty jesy majoda qayadat PTI ki hai