بلوچستان کے سردار اور وڈیرے اتنے غیرت مند ہیں کہ انڈیا میں ایک بچی کا دوپٹہ کھینچنے جانے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، اور بے غیرت اتنے ہیں کہ اپنی بلوچ بچیوں کے دوپٹوں کو دنیا میں تماشہ بنا دیتے ہیں ! ایک ایک کر کے ان بے غیرتوں کی شکلیں دیکھتے جائیں
کئی سالوں سے یہی بیانیہ گھڑا جاتا رہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار نواب، سردار، انگریز دور کے چیف اور قبائلی ڈھانچے ہیں مگر اقتدار میں آ کر سرفراز بگٹی نے خود ہی خود کو چیف بنا لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا بیانیہ یا الزام باقی رہ گیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ نے خود تخلیق نہ کیا ہو اور پھر خود ہی اسے درست ثابت کرنے کی کوشش نہ کی ہو؟
بہرحال جس نے پگڑی باندھنی ہے، دستار پہننی ہے یا خود کو کوئی لقب دینا ہے جو کرنا ہے کرے مگر عام بلوچ نوجوان اب ان فرسودہ، انگریز دور کے باقیات سے بہت آگے نکل چکا ہے۔۔۔
The Prosecutor General Sindh himself appeared before the Chief Justice Sindh High Court to take permission for same day hearing to file an appeal against acquittal of @MahrangBaloch_ in FIR 654/2024 PS Quaidabad. A case which has no evidence, no merits no legal basis resulting in acquittal of Mahrang is now being pursued in appeal. The Prosecution Service falls under the PPP led Sindh Govt. PPP is fully complicit with the establishment in oppressing and persecuting political leaders and activists.
آفتاب بلوچ لمز یونیورسٹی کا طالب علم ہے کل بروز جمعہ کلی قمبرانی سے لاپتہ کیا گیا تمام طلباء تنظیموں، سیاسی کارکنوں، صحافی وکلا، سمیت دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں آفتاب بلوچ کے بازیابی کے لیے آواز اٹھائے
#SaveBalochStudents#releaseaftabbaloch
ذرائع کے مطابق ٘کچھ دیر پہلے اسلام آباد پولیس نے لاپتہ سعید بلوچ کے اس بھائی محمد اعظم کو بھی ضلعی عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا ہے، اس سے پہلے محمد اعظم کچھ وکلا کے ہمراہ دو ائڈیشنل سیشن ججز کی عدالتوں میں پیش ہوا اور اپنی ممکنہ گرفتاری سے قبل ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی کوشش کی، ایک جج نے کہا کہ یہ کیس اسلام آباد ویسٹ کا نہیں اس لیئے نہیں سن سکتا، دوسرے جج نے کہا کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ویسے بھی عدالت کے سامنے ایف آئی آر یا مقدمے کی تفصیلات نہیں تو اس لئیے یا تو ایف آئی آر پیش کریں یا پھر ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی جائے۔ وکلا کا موقف تھا کہ پولیس کو ھدایت کی جائے کہ گرفتاری سے پہلے الزامات سے متعلق آگاہ کیا جائے مگر جج نے درخواست پر کاروائی سے انکار کر دیا۔
What goes around comes around, during IK misrule the same thing was ( and still is) happening in Baloch land where our mothers, sisters and daughters were / are being dragged on the roads for the world to see, what steps did IK take then to stop this barbarism
Civil Lines Police Station sealed no public access allowed as journalist @AlifyaSohail in custody with other civil society members inside. Even lawyers not being granted access. Shame on Sindh Police. Her custody has now been moved from Civil Lines from backdoor. Shame on Sindh Govt @asadayub@SindhPoliceDMC@BBhuttoZardari
بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستانی فورسز نے چار خواتین اور ایک بزرگ شخص سمیت 12 افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق انہیں اُس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ زیارت کے لیے جا رہے تھے۔
لاپتہ ہونے والوں میں لال بخش، فرزانہ، میمل، شر بانو اور شیریں شامل ہیں۔
کوئی پہلے ان سے یہ پوچھے کہ ان کا پولیٹیکل کیپیٹل ہے کہاں؟
فرض کریں اگر واقعی ان کے پاس کوئی political capital ہے بھی تو اگر وہ BYC پر سوال اٹھا کر اپنا political capital کھو دیتے ہیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ اکثریت BYC کے ساتھ ہے اور یہی اکثریت بی وائی سی کو عام بلوچ کا نمائندہ بناتا ہے۔
دوسری بات، بگٹی کے اپنے بیانات میں واضح تضاد ہے۔ اگر ماہ رنگ بلوچ پر کسی سپاہی کے قتل کا الزام ہے تو وہ واقعہ مبینہ طور پر جولائی 2024 میں پیش آیا تھا، پھر گرفتاری مارچ 2025 میں کیوں ہوئی؟ وہ بھی 3MPO کے تحت کیوں؟ یاد رہے ماہ رنگ پر صرف ایک نہیں بلکہ مختلف اضلاع میں تیس سے زائد مقدمات قائم ہیں۔
اور اگر واقعی ماہ رنگ ایک پرتشدد عنصر، قاتل، یا کسی عسکری گروہ کا سوفٹ چہرہ ہے جیسے بگٹی صاحب بار بار دعویٰ کرتے ہیں تو پھر وزیراعلیٰ اب بھی اس سے بات کرنے یا اپنے وزراء کو بات چیت کے لیے کیوں بھیج رہے؟
بگٹی صاحب۔ پہلے اپنے آپ میں تھوڑی clarity لائیں، اپنے قول و فعل کے تضاد کو دور کریں، پھر میڈیا میں گفتگو فرمائیں۔
اب حکومت اور اس کے حامیو کو ایک نیا نظریاتی نعرہ مل گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ: بلوچ انسرجنسی دراصل معاشی محرومی کا نتیجہ نہیں۔ مثال وہ شاری بلوچ اور پروفیسر عثمان قاضی کا دیکر یہ نعرہ لگاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کس نے کہا ہے کہ بلوچ انسرجنسی صرف معاشی غفلت کا ردِعمل ہے؟ اکبر بگٹی اور بالاچ مری کے پاس سب کچھ تھا لیکن انہوں نے بندوق اس لیے نہیں اٹھائی کہ انہیں پیسے کی کمی تھی۔
یہ انسرجنسی (شورش) سیاسی جبر، طاقت کے بے دریغ استعمال، سیاسی اور معاشی فیصلوں میں بلوچ نمائندگی کے فقدان، تاریخی حقائق کو نظر انداز کرنے، تاریخ کو مسخ کرنے، ڈیتھ اسکواڈز کے قیام، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، بلوچوں سے نفرت پر مبنی بیانیے، پروپیگنڈے، بدانتظامی، کرپشن اور انتخابی دھاندلی، ان سب کا مجموعی نتیجہ ہے، نہ کہ صرف ایک معاشی مسئلہ۔۔۔
ایک طرف حکومت بلوچستان نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور میرٹ و شفافیت کی بات کرتی ہے، تو دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ تین ماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود بلوچستان کا سب سے بڑا ریکروٹنگ ادارہ، جو گریڈ 16 اور 17 کی تقرریاں کرتا ہے، ابھی تک اپنا چیئرمین تعینات نہیں کر سکا۔ یہ تاخیر اور سازش نہ صرف ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ شفافیت اور انصاف کے نام پر بھی ایک طنز بن چکی ہے۔
یاد رہے کہ 31 جولائی سے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا کوئی چیئرمین نہیں ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان جو کمیشن کے تحریری امتحانات کامیابی سے پاس کر چکے ہیں، اب انٹرویوز کے منتظر ہیں۔ ان امیدواروں میں تحصیلدار، نائب تحصیلدار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگری کلچر، ایس ڈی او انجینئر، اور ہائی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر و ہیڈ مسٹریس شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں کوئی ایماندار اور شفاف شخص نہیں جو کمیشن کا سربراہ بن سکے، یا معاملہ کچھ اور ہے؟
بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن کے مطابق اس تعیناتی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک سابق نگران وزیراعظم ہیں، جو چاہتے ہیں کہ کمیشن کا چیئرمین ان کا آدمی ہو، جبکہ کوالیشن حکومت میں شامل دیگر فریق بھی اپنے وفادار تعینات کروانا چاہتے ہیں۔ ایک سابق نگران وزیراعظم کو انہوں نے بغیر وردی والا جنرل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیوروکریسی سے لے کر چیف سیکریٹری کی تعیناتی اور دیگر حکومتی معاملات میں مداخلت کرتے اور اپنی من پسند تعیناتیاں چاہتے ہیں۔
جہاں میرٹ کی شمع بجھتی نظر آ رہی ہے اور نوجوانوں کی امیدیں سفارش کی چھاؤں میں دبتی جا رہی ہیں، وہیں کمیشن کی یہ تاخیر اور سازش نہ صرف ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہے، جن کی عمر دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور وہ بالآخر کمیشن کے لیے عمر کی حد کی وجہ سے اہل نہیں رہ پاتے۔
تصویر: بشکریہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن جابز اینڈ انفو فیس بُک