@abakheli مغلیہ دور میں خوشحال خان خٹک کو علاقے کا گورنر مقرر کیا گیا تھا وقت کے ساتھ خوشحال خان خٹک نے عوام پر ٹیکسوں کی شرح زیادہ کیا گیا جس کی وجہ سے مغل شہنشاہ نے خوشحال خان خٹک کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ ان کے بیٹے کو زمہ دار بنایا تب اختلاف بنی
@umerpashtoon جس قوم کا سیاسی مزاج خراب ہو جاتا ہے وہ نا دین کی رہتی ہے نا دنیا کی مولانا عبید اللہ سندھی)
قرآنی فکر کی بنیاد پر سیاسی ذوق پیدا کرنا آج کی ضرورت ہے
چینی رہنماؤں کی جرات ہو سلام !
چینی اسکالر: "آپ کی فوج معصوم بچوں کو مار رہی ہے"
اسرائیلی جنرل: نہیں ، ہم نے نہیں کیا۔
چینی: "جھوٹ بولنا بند کرو تم لوگوں نے فلسطین میں 70,000 سے زیادہ بچوں کو قتل کیا ہے"
یہ ویڈیو اے ائی نہیں ہے حقیقت ہے
ایک طرف cobra سانپ اور دوسری طرف mongoose نیولا قدرت کا سب سے تیز اور خطرناک مقابلہ
کوبرا کا ایک ہی وار جان لیوا مگر نیولا بہت اور چلاکی کا ماہر ہے اور زیادہ تر وار بچا لیتا ہے
یہ لڑائی طاقت سے زیادہ ٹائمنگ اور ردعمل کی ہے دونوں کی ایک غلطی کسی ایک کی بھی جان لے سکتی ہے یہ لڑائی دیکھیں کتنی خطرناک ہے اپ ساری عمر اپنے بچوں کو اس کی کہانیاں سنائیں گے
@Alikhanyzai خوشحال خان خٹک مغل شہنشاہ کے ساتھ منصب دار تھے
اس کو اقتدار سے کیوں محروم کیا گیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا منصب دار کیوں بنا۔تاریخ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہاں کے پشتون قبائل آپس میں جنگ میں مصروف تھے جیسے خٹک اور یوسفزئی ایک دوسرے کے خلاف لڑتے؟!
خلافتِ راشدہ اصل اسلامی ماڈل
خلیفہ کا انتخاب عوامی مشاورت یا اہلِ رائے (اہلِ حل و عقد) کی رائے سے ہوتا تھا اقتدار موروثی نہیں تھا حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، اور علیؓ سب مختلف طریقوں سے مگر شوریٰ یا بیعت کے ذریعے منتخب ہوئے
یہی وہ دور ہے جسے "خلافت علیٰ منہاجِ نبوت" کہا جاتا ہے۔
حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی غلبۂ دین کے لیے وقف کی آپ کی تعلیمات میں عبادت کا مقصد انسان کی تربیت،جماعت کی ضرورت،خدمتِ خلق،عدل کا قیام اور سیرتِ نبوی ﷺ کی پیروی شامل ہیں
دعا کہ اللہ ہمیں حضرت کے مشن کا شعور عطا فرمائے اور اس ملک میں نظامِ عدل غالب کرے
26-Sep-2012
ولادتِ با سعادت کے 1500 سالہ تکمیل کے موقع پر قومی ریاست کی عصری تشکیل کے لیے رسولُ اللّٰه ﷺ کے خُلقِ عظیم کی رہنمائی میں بنیادی سماجی اقدار کی اطلاقی ناگزیریت
خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 11؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 5؍ ستمبر 2025ء
جس قوم کا سیاسی مزاج خراب ہو جاتا ہے وہ نا دین کی رہتی ہے نا دنیا کی مولانا عبید اللہ سندھی)
قرآنی فکر کی بنیاد پر سیاسی ذوق پیدا کرنا آج کی ضرورت ہے
مکمل خطبہ سننے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے
https://t.co/flFUKxuLQR
منجانب رحیمیہ میڈیا
@thebilal_a میرے خیال میں جس کو آپ جمہوریت سے تشبیہ دیتے ہیں وہ دونوں خاندان سب سے بڑی ڈکٹیٹر ہے ان کے پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے اس سے فوجی سربراہ ہزارہا بار اچھے ہے وہ ایک منظم ادارہ کا سربراہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک کو سنبھال رکھا ہے
عید الاضحی مبارک
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اندھی تقلید کا راستہ بند کیا۔ یکسو ہوکر حنیف کا لقب پایا۔ توحید کو عقل، رسالت کو جدوجہد اور آخرت کو مشاہدے سے سمجھایا۔ نمرودی ظلم کے خلاف ڈٹ گئے اور امام انسانیت کہلائے۔ سماجی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کی سنت کو زندہ رکھاجائے۔
اللہ نے انسان کو حکمران(خلیفہ)تخلیق کیاہے. سیاست (معاملات کی تدبیر) فطرت انسانی میں ہے۔ انسان کم ازکم اپنی ذات۔۔۔گھر،شہر،قوم یابین الاقوامی سطح تک کی تدبیر کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسانیت کا کوئی بھی پروگرام سیاسی نظریے کے بغیر ادھورا ہے۔ دین اسلام کی تکمیل بھی اسی اصول پر ہوئی۔
ٹیسٹوسٹیرون وہ ہے جو مردوں کو زندہ رکھتا ہے۔
لیکن پچھلے 50 سالوں میں، اس کی سطح 30-50% تک کم ہو گئی ہے...
اسی لیے میں نے 8 ایسی غذائیں تلاش کی ہیں جو سائنسی طور پر اسے ق��رتی طور پر بڑھانے میں مدد دیتی ہیں: 🧵
ادرک
@zimmal__Rai انسان میں ملکیت اور بہیمیت دونوں خاصیت موجود ہوتی ہیں, اب انسان جس ماحول میں ہوتا ہے اسی کا اثر لیتا ہے لہزا چین میں جو نظام ہے اس میں انسان کی قدر کی جاتی ہے اور یہی دونوں جب یہاں اپنے ملک میں کام شروع کرتے ہیں تو طبقاتی نظام کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور یہ سرمایہ دا��انہ
@Tania_Saroha معاشی و معاشرتی اور سماجی نظام کیسا تھا اور اس دور میں انصاف عام معاشرے میں کیسے تھا. کبھی اس دور کے تقاضوں کے مطابق بھی تاریخی حقائق کو سامنے لایا جائے .
@Tania_Saroha من گھڑت الزامات لگائے گئے اور من گھڑت کہانیاں سنا دی گئی ہیں
یہ تاریخ کا نے لکھا ہے اور کس کی کتاب میں لکھا ہے
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کو انفرادی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ کسی بھی دور کی تاریخ کو اجتماعی طور پر دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ اس دور حکومت میں
@oolabmys اس کے بعد مغل دور میں پوری دنیا کے 27% جی ڈی پی صرف برصغیر سے جنریٹ ہوتا تھا اس سے اندازہ لگایا جائے کہ مسلم آبادی 20% باقی 80%ابادی پر کیسے حکمران بنے تھے اس وقت مذہبی رواداری کی مثالیں دی جاتی ہے لہزا مشتشرقین کا یہی کام ہے کہ اسلام کو بدنام کرے