اوورسیز پاکستانی اپنے ملک میں جائدادیں بنانا چھوڑ دو، آپ امن کے دیس میں رہتے ہو جہاں آپ کو یہ خوف نہیں ہے کہ آپ کے گھر پہ قبضہ ہو جائے گا۔
یا آپ کہ بیٹی کی عزت پہ کوئی ہاتھ ڈال دے گا، یا بیٹے کو کوئی اغوا کر کے لے جائے گا
اوورسیز کو مولانا طارق جمیل کا مشورہ 🔥
Kashmiris are exposing Pak Army:🔥
Pak intelligence agencies, police, and army are looting Kashmiri civilians Houses!
🚨 In this shocking video:
Pakistan forces raided an innocent Kashmiri family’s home and stole their belongings.
Look like History of Bangladesh repeating itself in Kashmir.
Prasanna Gajulapalli is hiring H4 EADs for remote IT positions on FB. Remote IT jobs are being handed to H4 EADs on a silver platter instead of US citizens. Excluding US workers to exclusively target specific visa holders is explicit hiring discrimination @AAGDhillon@USCIS
Meet the Indian H4 EAD "Aunties" – How the system is being exploited.
They marry H1B visa holders, pay a huge dowry (₹1–2 crore ≈ $105K–$210K USD), and come to the U.S. on H4 EAD. Then they join fake Indian consultancies, claim fake experience and degrees, and use proxy interviews to get high-paying jobs ($150K+). Often, Indian hiring managers help them.
Result? They buy homes in the U.S. and India, while honest Americans and Indians lose jobs. Families break apart, and children suffer.
Wake up, @ICEgov and @DHSgov.
Raid fake H1B consultancies. Protect honest workers.
#H4EADfraud #H1Bfraud #AmericaFirst
ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کی انکوائری کمیٹی میں کم و بیش وہی خواتین و حضرات موجود ہیں جنکی موجودگی اور رضامندی سے یہ متنازعہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہوا ….
میر بھی کیا سادہ ہیں ہوئے بیمار جس کے سبب ،
اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں !!!
جن وفاقی وزیروں، فیڈرل سیکرٹریز نے خود یہ متنازعہ ٹیلی کام بل بنایا یا ان سے ٹیلی کام کمپنیوں کے “جنات” نے بنوایا یا ٹیلی کمپنیوں کے گھوسٹ نے بنا بنایا ایک پرنٹ انہیں دے دیا جسے انہوں نے من و عن ایک کاما اور فل اسٹاپ تبدیل کیے بغیر چپکے سے قومی اسمبلی سے پاس بھی کرالیا لیکن سینٹ میں شور مچنے پر اب انہی وزیروں/سیکرٹریز کی کمیٹی بھی بنا دی جن کے خلاف دراصل وزیراعظم، کابینہ ارکان اور پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے پر ایکشن لینا تھا کہ یہ انہوں نے ون سائیڈ سب کچھ کیا۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس بڑا پیسہ ہے۔ صاف لگ رہا ہے یہ بل بہت بڑی لابنگ کے بعد وجود میں آیا ہے جہاں سب جرمانے، سزائیں یا پاورز کمپنیوں کے پاس ہیں، ملک میں ہزاروں ہاوسنگ سوسائٹیز یا سرکاری ادارے جن کے پارکس ہیں یا جن کے پاس پبلک سپیس ہے، ان سب کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کی شرائط پر ڈیل کریں ورنہ جرمانوں کا سامنا کریں۔
ٹیلی کام سیکٹر کی سمجھداری اور منصوبہ بندی ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے جاز کمپنی کے ایک سابقہ ملازم ضرار ہاشم خان کو کنٹریکٹ پر سیدھا 22 گریڈ کے برابر فیڈرل سیکرٹری آئی ٹی لگوایا اور پھر اس کے زریعے ہی یہ بل بنوایا، کابینہ میں بھیجا اور پھر لابنگ کے بعد اسمبلی سے بغیر چوں چراں کے پاس بھی کرا لیا۔
اب وہی کردار اس کمیٹی میں جج ، جیوری اور جلاد بھی خود ہیں۔ ان کے خلاف انکوائری یا مقدمے میں ان سب کو ہی جج بنا کر بٹھا دیا کہ اپنا فیصلہ خود کر لو۔ یہ ہے ہمارے وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا ماڈل آف ایکشن، انکوائری اور انصاف۔ 😎
@BBhuttoZardari@CMShehbaz@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@MIshaqDar50@AyazSadiq122@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sherryrehman@SyedAliZafar1@AzamNazeerTarar@MoitOfficial@ShazaFK@KhSaad_Rafique@sharmilafaruqi
آندھی کے باعث نواز شریف سمیت دیگر لیگی عہدیداروں کی تصاویر والی فلیکس پھٹنے پر حاصل پور تحصیل انتظامیہ نے دو دوکانیں سیل کردیں۔
دوکانیں پٹھان بھائیوں کی تھیں انتظامیہ نے کہا کہ تم نے لوگوں نے خود پھاڑی ہیں۔
میرے خیال میں ٹیلی کام بل پر کسی کو کریڈٹ جاتا ہے تو وہ سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی چیرپرسن سینٹر پلوشہ خان، سینٹر سعدیہ عباسی اور سینٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کو جاتا ہے۔
لگتا ہے وزیراعظم، درجنوں کابینہ وزیروں سے لے کر 340 ایم این ایز میں سے کسی نے بھی اس بل کو نہیں پڑھا تھا اور اس کے 25 کروڑ لوگوں پر متوقع نتائج سے بے پرواہ منظوری دیتے چلے گئے۔
اگر کسی نے پورا پڑھا، اسے سمجھا اور اس پر قوم کی ترجمانی کی تو وہ یہ تینوں سینٹرز ہیں۔تنخواہ الاونس تو سب لیتے ہیں لیکن اپنی تنخواہ ان تینوں نے جسٹفائی کی ہے۔
@ShahzadIqbalGEO@geonews_urdu@PalwashaKhan18@afnanullahkh
سیاسی مداخلت کا ایک اور واقعہ، پنجاب کی سیاست کے دو مرکز آمنے سامنے
قصور کے تھانہ کھڈیا ں میں دو ماہ پانچ روز قبل ایک مقدمہ درج ہوا،مقدمہ زیر دفعہ 324،148،149 شہری محمد عرفان کے بیان پر درج کیا گیا،مقدمہ میں چار لوگوں کو نامزد کیا گیا جبکہ تین نامعلوم رکھے گئے۔ نامزد ملزمان میں طارق، حارث، بھائی موچی اور عاقب کو نامزد کیا گیا،مقدمہ کے متن کے مطابق ملزمان نے دوکان پر آکر فائرنگ کی جس سے دو سگے بھائی غلام رسول اور اشفاق زخمی ہوئے اور مقدمہ مدعی ان کا سگا بھائی ہی تھا۔تمام شواہد کی روشنی میں پولیس نے مقدمہ درج کیا اور تحقیقات کا آغاز ہوا، اہم موڑ تب آیا جس مقدمہ کی پہلی ضمنی لکھی گئی۔
ذرائع کے مقدمہ جب مقدمہ کی ضمنی لکھی گئی تو پولیس کی جانب سے دو ملزمان کو گناہ گار قرار دیا گیا،میرے ذرائع کے مطابق پولیس نے میرٹ پر ملزمان کو گناہ گار قرار دیا اور یہ بات تین مختلف ذرائع نے مجھے کنفرم کی کہ ملزمان میرٹ پر گناہ گار قرار پائے۔گناہ گار پانے والے ملزمان کا تعلق قصور اور پنجاب کی سیاست کے ایک طاقتور شخصیت سے بنا اور انہوں نے وہاں گلہ شکوہ کیا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ انصافی ہوئی ہے،سیاسی طاقت کے مرکز نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوطیب یوسف سیال ا ور تفتیشی سے رابطہ کیا جس کے بعد سیاست نے اپنا رنگ دکھایا اور نئی ضمنی میں دونوں ملزمان بے گناہ لکھ دئیے گئے۔
مقدمہ مدعی کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس کے پاس پہلی ضمنی کی رپورٹ موجود تھی وہ ڈی پی او قصور آفتاب پھلراون کے سامنے پیش ہوا اور تمام صورتحال ان کے سامنے رکھی گئی جس پر ڈی پی او قصور نے دوبارہ انکوائری کی جس میں ملزمان قصور وار ثابت ہوئے ،جس پر انہوں نے فوری کارروئی کرتے ہوئے تفتیشی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا اور متعلقہ ڈی ایس پی سٹی قصور کی خدمات سرنڈر کرنے کے حوالے سے اعلی افسران کو مراسلہ بھجوایا ۔اس کارروائی کا جب سیاسی طاقت کے مرکز کو پتہ چلا تو پھر چپقلش شروع ہوگئی ،جس پر ڈی پی او قصور اور آری پی اور شیخوپورہ کو پنجاب اسمبلی بھی طلب کیا گیا ہے۔تادم تحریر چپقلش جاری ہے،میری تین مختلف لوگوں سے بات ہوئی تینوں نے پولیس کی ابتدائی تفتیش اور ڈی پی او کے ایکشن کو میرٹ قرار دیا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ میں پنجاب حکومت کی انتظامی امور میں مداخلت کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے ،اس سے قبل ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ سیاسی مداخلت پرہوا اس کے علاوہ لاہو رسے صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے قریبی عزیز کے گھر پر کاونٹر نارکوٹکس فورس کے چھاپے کے معاملے میں سیاسی مداخلت واضح طور پر دیکھنے میں آئی۔
رحیم یار خان میں 19 سالہ لڑکی کو آئن لائن نوکری کی پیشکش کی گئی ۔ لڑکی نوکری کے لالچ میں جھانسے میں آ گئی تو اسے میٹنگ کے لئے بلا کر نشہ آور چیز پلا کر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس قسمت ماری کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیا۔۔
پنجاب میں خواتین ریڈ لائن نہیں رہیں ؟
@OfficialDPRPP
یہ جو ٹیلی کام سیکٹر یہ اتنے پیسے والا سیکٹر کہ آپ کی سوچ ہے ہمارے ہمسایہ میں جو امبانی ہے جو امیر ترین انڈین اس کی دولت میں بہت بڑا حصہ اس کی جیو کمپنی جو براڈ بینڈ اور ڈیجیٹل سروسز چلاتی ہے) جس کی ویلیو $120-150 بلین ڈالر ہے
پاکستان میں بھی یہ اربوں ڈالر کا دھندا ہے اور ایک ایسی خاتون کی حوالے جو گھر سے ایم پی اے کا فارم بھر کر لائی اسے الیکشن کمشنر نے کہا جاؤ بی بی تم ایم این اے ہو عیش کرو
مبین عارف جٹ نے چند دن پہلے پنجابی میں تقریر کی، تو کوئی جاہل کہہ رہا تھا یہ لچر پن ہے، تمیز نہیں ہے۔ آج وزیر خزانہ نے مبین جٹ اور اسامہ غیاث میلہ کی خصوصی تعریف کی ہے۔
کوئی بھی زبان بولنے سے بندہ بدتمیز نہیں ہوتا جاتا، جاہل لوگوں کو اپنا علاج کرانا چاہیے
Serious Incident in Murree -
Sharing This for Public Awareness
About 4 days ago, a family visited Murree and experienced something that made us extremely uncomfortable and concerned.
While staying at a hotel, there was a man standing near the mirror who repeatedly kept staring at their 10-year-old younger sister in a way that felt inappropriate and disturbing.
To avoid attention and protect her privacy, they covered their sister with a blanket.
However, instead of stopping, the man then shifted his attention toward elder girl and continued behaving strangely.
At one point, he even tried to show his phone number, which made the situation feel even more uncomfortable and inappropriate.
His actions created a very unsafe and uneasy environment for them.
Because of his behavior, she decided to record a video as documentation.
She shared this incident not to spread hate or target anyone, but to raise awareness and remind families to stay alert while traveling.
Everyone deserves to feel safe, especially children.
Please stay aware, trust your instincts, and speak up if something makes you feel uncomfortable.
Safety should always come first.
#murreeharrasment #womensafety
Khawaja Asif once wrote an entire essay about WAPDA taking money to replace a burnt-out transformer. Well, Sir, now your niece has allegedly tried to rip off the common man by colluding with telecom companies. Khawaja Sahib, would you like to shed some light on this as well?
This gentleman now says language can be improved but his lawyers and legal advisors were earlier silent on the draft that usurped the right of individual property owners. Mind you he pays millions of rupees to his legal advisors who were assisting the gullible and incompetent IT minister until the moment the draft was passed by the National Assembly.
Muhammad Hanif: ماضی میں پاکستانی فوجی حکمران امریکہ کو دی جانے والی خدمات کے بدلے شاباش کے علاہ خطیر رقم حاصل کیا کرتے تھے، جس کا بیشتر حصہ تو بڑے لوگ ہضم کر جاتے تھے لیکن کچھ چورے بورے غریبوں میں بھی بانٹ دیے جاتے تھے۔ لیکن اس بار صرف شاباش ملی ہے۔
قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا فسطائیت پر مبنی وہ متنازع بل جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو کسی بھی شخص کی نجی جائیداد پر قابض ہونے کا اختیار دیا جارہا تھا ،اس پر سب توپوں کا رُخ وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی طرف ہے حالانکہ اس نالائقی کے حقیقی ذمہ دار انفارمیشن ٹیکنالوجی اورٹیلی کمیونیکیشن کے وفاقی سیکریٹری ضرار ہاشم خان ہیں۔یہ جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یوسف کے صاحبزادے ہیں اور شہبازشریف صاحب نے انہیں براہ راست وفاقی سیکریٹری تعینات کرکے ایک انوکھی مثال قائم کی تھی
یہ پیرا فورس کا اہلکار اس نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن سے دھلوائی اور پھر جب پیسے مانگے تو دھمکیاں دے رہا الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنانے لگ گیا کہ سیل کروادونگا۔
یہ مریم نواز کا تحفہ ہے پنجاب کے غریبوں کے لئے
ایک بندہ غلط ہو سکتا دو غلط ہو سکتے مگر یہاں تو وہ لوگ جو تیس چالیس سال سے پارلیمنٹ کور کر رہے وہ صحافی کہہ رہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے جیسا معاملہ ہے اور وہ حیران رہ گئے ہیں کہ حکومت کی ہر سطح پر اس بل پر کسی نے کوئی اعتراض نہی کیا ہے