رات 12:20 بجے ہزاروں افراد سڑکوں پر اور RO آفس کے باہر موجود ہیں جب تک فارم 47 جاری نہیں ہوتا، ہمارا کوئی قدم پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی کوئی گھر واپس جائے گا۔' یہ محض ہجوم نہیں، اپنے حق کے لیے جاگتی ہوئی عوام ہے!
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
عثمان صابر، ساکن کھائی گلہ برمنگ، جو پیشے کے لحاظ سے گاڑیوں کے مکینک تھے، راولاکوٹ میں رینجنر کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے 🤲🏻
#RightsMovementAJK
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
جی بی میں کسی ایک بھی حلقے کے کسی ایک بھی پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ یا پیپلزپارٹی کا جنون نظر نہیں آیا لیکن کچھ دیر بعد نتائج میں انہیں کو فتح سے نوازا جائے گا
پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کے پاس پورے دن کی ایک بھی ویڈیو نہیں جس سے وہ دکھا سکیں کہ ان کو جی بی کے کسی بھی حلقے میں ووٹ پڑا ہے ، یہ تینوں جماعتیں سرکاری نتائج کا انتظار کررہی ہیں ، جعلی سرکاری نتائج آتے ہی ن لیگ اور سوشل میڈیا اچانک حرکت میں آ جائیں گے
ایک ٹاؤٹ کا کل ٹاسک یہ ہے کہ وہ ن لیگ کے حفیظ الرحمان کو سوشل میڈیا پر جتوا دے بس ،
جتنے مرضی جعلی رزلٹ شیئر کریں ، سب جانتے ہیں کہ جو کچھ شریف خاندان نے پاکستان کے ساتھ کر چھوڑا ہے ،اس کے بعد جس کی رگوں میں 33 فیصد بھی حب الوطنی ہے وہ ن لیگ کو ووٹ نہیں دے سکتا ۔
ن لیگ کو اتنی ذلت آمیز شکست ہوئی ہے کہ اب اپنی ہی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں
دھاندلی ضرور ہوئی ہے ، بے تحاشہ ہوئی ہے لیکن یہ دھاندلی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو جتوانے کیلئے کی گئی لیکن عوام نے سب کو ہرا دیا
بالکل وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو فتح کر کے پورے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔ اگر کوئی صرف آزاد کشمیر کا سٹیٹس بدل کر متنازعہ حیثیت ختم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو وہ پاکستان کے 78 سالہ موقف کی نفی کر کے مقبوضہ کشمیر ہمیشہ کیلئے بھارت کو سرنڈر کرنے کا کہہ رہا ہے۔ وہ مودی کے پانچ اگست 2019کے موقف کی حمایت کر رہا ہے کہ کشمیر اب حل شدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف ہم کہہ رہے ہیں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے کیلئے بارہ مہاجر نشستیں ختم نہیں کریں گے اور دوسری جانب یہ رائے کہ مقبوضہ کشمیر کو چھوڑ ہی دو اور اقوام متحدہ والی قراردادوں سے بھی پیچھے ہٹ جاؤ صرف آزاکشمیر کا سٹیٹس بدل لو ؟ اتنے بھی برے حالات نہیں آئے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہو جائے ۔ آزاکشمیر پرامن ترین خطہ رہا ہے اس وقت بھی جب دوہزار چھ سات سے پندرہ سولہ تک پورا پاکستان بدترین دہشتگردی کا شکار رہا، آزادکشمیر میں سکیورٹی فورسز پر ایک بھی حملہ نہیں ہوا، دو چار دن کا احتجاج ہونے سے تھوڑی افراتفری مچ گئی ہے تو کیا اس کو جواز بنا کر مودی والا کام کر گزریں؟ بھول جائیں لاکھوں قربانیوں کو؟ سید علی گیلانی کے آخری الفاظ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے بھول جائیں؟ سبز پرچم میں سینہ ٹھوک کر بچوں کو دفن کرتے والدین سے آنکھ چرا لیں کیونکہ اسلام آباد میں بیٹھے کچھ صحافیوں کے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لے لی ہے؟ اور کیا کاغذوں پر لکھی عبارتیں بدلنے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں؟ کیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد امن قائم کر لیا ہے؟ پہلگام سے سنبھلے نہیں کہ راجوری میں بیس دن سے ہزیمت اٹھا رہے ہیں (گوگل سرچ کر لیں کیا چل رہا ہے)
مسئلہ کشمیر استصواب رائے سے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا، یہی آج دن تک ریاست پاکستان کا سرکاری، سفارتی اور حقیقی موقف ہے ، اس موقف سے انحراف پاکستان کے اصولی موقف سے انحراف ہے
رزلٹس کا رک جانا ہی اس بات کا اعتراف ہے کہ پی ٹی آئی جیت گئی ہے۔ ورنہ حکومتی پارٹیاں جیت رہی ہوتیں تو نتائج کیوں روکے جاتے؟ حکومتی اکاؤنٹ خاموش نہ پڑے ہوتے ۔! جیت کا جشن مناتے نظر آتے۔
راولاکوٹ (پونچھ) میں امن و امان کی سنگین صورتحال، مظاہرین پر فائرنگ اور سی ایم ایچ (CMH) کے باہر پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنے ہی عوام پر رات کے اندھیرے میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنا۔ اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
راولاکوٹ کی گلیوں سے اٹھنے والے جنازے اور ہسپتالوں میں تڑپتے ہوئے سینکڑوں زخمی کسی ایک پارٹی یا قبیلے کے نہیں، وہ ہمارے اپنے بچے ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ اپنے بچوں کو سستی روٹی، بجلی اور روزگار دینے کے بجائے انہیں گولیاں اور لاشیں تحفے میں دینا کہاں کا انصاف ہے؟ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاشی و آئینی مطالبات کو بندوق کے بجائے خالصتاً مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔
حکمران اور انتظامیہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر ایک انتہائی نازک اور حساس سرحدی خطہ ہے۔ یہاں کی اندرونی بدامنی اور سڑکوں پر بہتا ہوا اپنوں کا خون براہِ راست ہمارے مکار دشمن کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ہمارا دشمن (بھارت) ہمیشہ ایسے ہی حالات کا فائدہ اٹھانے اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتا ہے۔ اپنی ہی عوام پر گولی چلا کر اور خطے میں انتشار پیدا کر کے دشمن کے ناپاک پروپیگنڈے کو خود موقع فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
میں انتظامیہ اور مقتدر حلقوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے فوری طور پر حکمت، تدبر اور ہوشمندی کا مظاہرہ کیا جا