I added some base:0xf43eb8de897fbc7f2502483b2bef7bb9ea179229 here.
I see this going above $20.
It’s happened before, and I believe it can happen again.
@CryptoWizardd
مجھے پیغام ملا ہے کہ مجھے کسی ایکسیڈنٹ کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا۔ میری بیٹیوں کو ذلیل و رسوا کیا جائے گا، جتنا کر سکتے ہیں کیا جائے گا۔
میں نے اس پر سو��ا، کیا جاوید ہاشمی کا خاندان اہلِ بیتؑ سے زیادہ مقدس ہے؟ جاوید ہاشمی اپنا سر سنتِ حسینؑ پر چلتے ہوئے پیش کرے گا۔ بی بی زینبؑ کو ننگے سر دربارِ یزید میں پیش کیا گیا، جاوید ہاشمی کی بیٹیاں بھی بی بی زینبؑ کے نقشِ قدم پر چلیں گی۔
جب تک یزید کے پیروکار زندہ ہیں، تب تک حسین ابنِ علیؑ کے پیروکار ان کا مقابلہ کریں گے۔
یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹربیون سے ڈیلیٹ کروا دیا ہے میں اس اردو ترجمہ جاری کر رہا ہوں اسے خود بھی پڑھیں اور آگے بھی پھیلائیں تا کہ دوبارہ ڈیلیٹ کروانے سے پہلے دس بار سوچیں
Title: It is over
Author: ZORAIN NIZAMANI
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور س��مینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔
یہ پرانا ہو چکا ہے۔
آرمی چیف آپکا دوست ہے تو آپ توشہ خا��ہ سے غیر قانونی گاڑیاں لے کر بھی معصوم ہی رہتے ہیں۔ مگر اسی جرنیل سے اگر آپکا اختلاف ہو تو قانون کے مطابق لیا معمولی تحفہ بھی 17 سال سزا کا باعث بن جاتا ہے۔
اسے ڈکٹیٹر شپ نہیں تو اور کیا کہیں گے ؟
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی ��اتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میر�� اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹری�� موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
جب میں ��ے پراپرٹی ویلیوایشنز بڑھائیں تو ڈی ایچ اے کے دفاتر میں کاروبار ٹھپ ہو گیا۔
باجوہ نے بلا کر پوچھا: یہ کیا حرکت کی ہے؟
حکم ملا تو 100 کو 70 نہیں، اس سے بھی نیچے گرا دیا۔
ریاست نہیں، رئیل اسٹیٹ مافیا چل رہا تھا!شبر زیدی
قائد اعظم کو زیارت بھیجنے کی کوئی ایک معقول وجہ بتا دیں۔ آج، 78 سال بعد بھی کوئی شخص اپنے شدید بیمار کیا سلامت باپ کو اس علاقے میں لے کر نہیں جائے گا، تو پھر 78 سال پہلے بابائے قوم کو وہاں کون لے گیا تھا؟ کونسا میڈیکل کمپلیکس ہے وہاں پر؟ میرے گھر میں مجھے قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی کتاب My Brother اور قائد اعظم کے ذاتی معالج کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش کی کتاب قائد اعظم کے آخری ایام پڑھنے کو ملیں۔ بعد ازاں ان دونوں کتابوں کو سنسر کر دیا گیا۔ میری بدقسمتی یہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ قائد اعظم کراچی میں ایک خراب ایمبولینس میں کیوں جان کی بازی ہار گئے۔ اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک ہم اس قاتل سے نجات حاصل نہیں کر سکے:مخدوم جاوید ہاشمی
@JavedHashmiJH
بنام احمد شریف چوہدری ولد بشیر الدین چوہدری
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ویب سائٹ پر اب بھی ایک شخص “محمود سلطان بشیرالدین” کا نام بطور دہشتگرد تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہے کہ کیسے مبینہ طور پر وہ کیمیکل ہتھیار اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے راز دہشتگرد گروپس کے ساتھ شئیر کر رہے تھے
ایسا شخص، جس کے اپنے والد UN designated terrorist ہوں، وہ دوسروں کو دہشتگرد یا سیکیورٹی رسک یا ریاست مخالف کہتا ہو تو یہ ایک سنگین مزاق لگتا ہے۔
اگر آپ کے الزامات اور دشنام طرازی کو ہ�� معیار بنا لیا جاۓ تو کیا پاکستانی فوج کی ترجمانی کے لیے کوئی اور شخص میسر نہیں؟ جو عوامی انتخاب پر سیکیورٹی رسک، دہشت گرد اور ریاست مخالفت کا الزام لگا رہا ہے، اس کی نا صرف اپنی سیکیورٹی کلئیرنس پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کی نالائقی،سطحی گفتگو اور لچر پن بھی ہر جملے سے واضح ہے۔
آج کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور یحییٰ خان کی آخری پریس کانفرنس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جو نفرت کے بیج آپ نے تب بوئے تھے، آج بھی آپ اور آپ کا ادارہ وہیں کھڑے ہیں۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں! اُس میں انہی armed forces کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
استثنیٰ لینے کے وقت ہی سمجھ گیا تھا کہ آپ کا چیف اور ادارہ کس قدر ڈر چکا ہے، مگر اس قدر ڈرا ہوا ہوگا — اس کا اندازہ نہیں تھا۔
میں نے کئی سال پہلے لکھا تھا کہ فوج کے DNA میں یہ بات شامل ہے کہ جو ان کی جانب سے کیے گئے مظالم پر بولے، اسے غدار قرار دیتے ہیں، اور اس کا علاج صرف گولی سمجھتے ہیں۔ جبکہ سیاست دان ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، یہ ملک بھی اسی بات چیت کے عمل سے وجود میں آیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری صاحب، اب قوم آپ کی گولی سے نہیں ڈرتی۔
ایسے حکمران ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر مسلط ہیں۔ قوم سے بھی درخواست ہے کہ توبہ و استغفار کی تسبیح پڑھے
چلو شروع سے شروع کرتے ہیں
فیلڈ مارشل ایوب خان کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل محمد موسیٰ خان کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل یحییٰ خان کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل ٹکا خان کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل گل حسن خان کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل محمد ضیاء الحق کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل مرزا اسلم بیگ کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل آصف نواز جنجوعہ کے کتنے ��چے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل عبدالوحید کاکر کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل جہانگیر کرامت کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل پرویز مشرف کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل راحیل شریف کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل قمر جاوید باجوہ کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
جنرل عاصم منیر (موجودہ آرمی چیف) کے کتنے بچے جنگ لڑتے شہید ہوئے
ان پند��ہ میں سے 13 نے ریٹائرمنٹ کے بعد اس ملک میں رہنا ہی پسند نہیں کیا۔
تو پھر یہ کس منہ سے غداری کے فتویٰ بانٹ رہے ہوتے ہیں جب انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اس ملک میں رہنا ہی نہیں ہوتا۔
#GetWellSoonDG