مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے ہری پور کی 5 سالہ معصوم بچی کی بازیابی تک دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں کی تعداد موجود شرکاء نے ایک آواز میں صدیق اکبر چوک میں دھرنا دینے کی حمایت کی اور مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔5 سالہ معصوم آیت کو اغواء اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے عمر ایوب کے رشتے دار ہیں۔پولیس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔مگر اب امید جاگی ہے کہ معصوم آیت کو بازیاب کروایا جائے گا اور مظلوم خاندان کے ساتھ انصاف ہوگا۔
تحریک انصاف نے توہین عدالت کی درخواست میں وزیر اطلاعات سمیت وزیر قانون اور وزیراعظم کو بھی فریق بنایا ہے مگر وزیرداخلہ محسن نقوی جس کے ذمے سکیورٹی معاملات آتے ہیں انہیں فریق نہیں بنایا۔۔۔کیا محسن نقوی کسی اور طرف اور حکومت کسی اور طرف کھڑی ہے؟
ڈاکٹر عظمی خان کی پریس کانفرنس توہین عدالت نہیں تھی، انہوں نے صرف واقعہ بیان کیا، عمران خان کی کوئی میڈیکل رپورٹ ہی موجود نہیں جس پر پریس کانفرنس میں تبصرہ کیا گیا ہو، سلمان اکرم راجہ
پمز نے رات گئے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں وضاحت کی ہے کہ شفاء ہسپتال سے صرف آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر چیک اپ کے عمل میں شامل تھے جبکہ میڈیکل بورڈ میں باقی ڈاکٹرز پمز کے تھے تاہم سپریم کورٹ نے شفاء ہسپتال کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ کا حکم دیا تھا
@Haidersaeedpti1@mursaleensays میرے خیال سے ہمیں پہلے پی ٹی آئی سے غدار ختم کرنا ہونگے۔ آب درخواست دائر نہ کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ توہین عدالت کی درخواست اب کسی اور بینچ میں لگے گئی۔ پی ٹی آئی وکلاء یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔ میرے نوجوانوں جڑ جاؤ ان کو
پاکستانی صحافیوں میں میرے پسندیدہ صحافی 'ملکۂ جذبات' مبشر زیدی صاحب ہیں۔ تبصرہ کرتے وقت ذرا آگے پیچھے نکل جاتے ہیں مگر دل کے بہت اچھے ہیں۔
@xadeejourno
جتنے سکون سے حکومت نے پورا معاملہ ہینڈل کیا۔۔ کمال ہے۔۔ اسلام آباد کے چینلز کے بیوروز، مہا اینکرز اور سب سے بڑھ کر یوتھیا سوشل میڈیا نیٹ ورک کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔۔ کہ شفا نہیں۔ پمز لے جایا گیا ہے۔۔
یہ کوئی خفیہ آپریشن نہیں تھا۔
اڈیالہ۔۔ ٹریفک پولیس۔۔۔ اسلام آباد پولیس۔۔۔ شفا ہسپتال کا عملہ۔۔۔
پمز کا عملہ۔۔۔ سیکیورٹی گارڈز۔۔
انٹیلی جنس کے لوگ۔۔ حکومتی متعلقین
وغیرہ وغیرہ۔۔
یہ سینکڑوں لوگ بنتے جنہیں معلوم تھا کہ عمران کو کہاں لے جایا جا رہا۔۔۔ لیکن ان میں ایک بھی نہ یوتھیا تھا جو مخبری کرتا۔ یا کسی کا سورس بنتا۔۔
یہ جو عالمی معاملات سے لے کر ملکی ایشوز تک اندر کی خبریں دی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہمارے ایجنسیوں میں، حکومتی حلقوں میں بڑے ذرائع ہیں، چڑیا ہے، طوطے ہیں۔ ہر جگہ ہمارے بندے بیٹھے یا سب عمران کے چاہنے والے۔۔پل پل کی خبر دیتے۔ سب ڈھنڈورا ہے۔
سب ایکسپوز ہو گئے ہیں۔۔
نوٹ: اسکرین شاٹس والی اور ان جیسی خبروں کو ٹیگ کر کے ضرور پوچھا کریں،
پمز جانے کا پتہ نہ چلا۔ وڈے آئے مستند ذرائع والے۔۔۔
’’اغوا‘‘ کہنے کا دباؤ، ڈاکٹر فیصل کا انکار: No,no They Are Very Decent and Civil
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ بار بار پروفیشنل ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سے کہتی رہیں کہ آپ کہیں کہ مجھے اغوا کر لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے بقول، انہوں نے عمران خان کو بھی بتایا کہ ڈاکٹر فیصل کو ان لوگوں نے اغوا کر لیا ہے۔
لیکن ڈاکٹر فیصل نے، اپنی گفتگو میں انتہائی (decent) اور (professional) انداز برقرار رکھتے ہوئے، ’’اغوا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بلکہ (smiling face) کے ساتھ واضح الفاظ میں کہا: "No, no, they are very decent and civil."
اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے دوسرے لوگ بھی ڈاکٹر فیصل کے اس رویے سے کوئی نصیحت حاصل کریں گے؟ شاید یہ سبق بہت سادہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، کوئی کچھ بھی کہے، جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔
لیکن مسئلہ یہی ہے کہ یہ نصیحت قبول کرنا شاید سب کے لیے اتنا آسان نہیں!
خود سنیں 👇👇