سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کو کورٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں ان کی رسولی کی سرجری کی گئی اور اب ان کو دوبارہ کوٹ لکھپت جیل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اللہ شفا عطاء فرمائے
ملک جن سنگین بحرانوں کی طرف بڑھتا جارہا ہے ان سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے، قومی یکجہتی۔ ڈنڈے کو تھوڑا ٹائم آرام دیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کریں، سب ایک ایک قدم پیچھے ہٹ��ں اور قومی ڈائیلاگ سے عوام کو مہنگائی دہشگردی جیسے عذاب سے بچائیں۔ ملک کو اور کتنا اپنی اناؤں کی بھینٹ چڑھانا ہے؟
پاکستان کسی قسم کے احتجاج کا متحمل نہیں۔ ہمیں سیاسی معاملات مذاکرات سے حل کرنے چاہئیے۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور تمام کارکنان کو رہا کیا جائے۔ ملکِ پاکستان کیلئے سب کو دل بڑے کرنے ہوں گے۔
پاکستان زندہ باد
@attique_riaz06 عتیق بھائی میں نے عوامی صورتحال دیکھ کر بات کی ہے مزاحمت ہوتی دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔ اس لئے مفاہمت اور مزکرات ہی واحد حل ہے۔ حقیقت لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن خاموشی فلحال بہتر ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد نے جو محمود مولوی، عمران اسماعیل اور فواد چوہدری پر مشتمل تھانے آج کوٹ ککھپت جیل میں تحریک انصاف کے اسیررہنماؤں سے تفصیلی ملاقات کی، ملاقات میں ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ، اسیر رہنماؤں نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تجویز کردہ حل کی مکمل حمائیت کی اور کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ مذاکرات ہیں، دھشت گردی کے عفریت کے مقابلے کیلئے قوم کا مت��د ہونا پہلی شرط ہے! شاہ محمود قریشی نے فیلڈ مارشل کی بیننالقوامی ڈپلومیسی کے رول کو سراہتے ہوئے کہا کہ جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بین الاقوامی ڈپلومیسی کے ذری��ے انتہای اہم مسائل کو حل کیا ہے وہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام کیلئے ڈائیلاگ کا آغاز ہو ،ان رہنماؤں نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ آگے بڑھنے اور معاملات کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوششوں کا ساتھ دیں تا کہ سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہو اور سیاسی قیدیوں کی رہائ ممکن بنائ جا سکے! عمران خان کو علاج کی سہولت دینا اور ملاقاتوں پر پابندی کا خاتمہ ملک کے سیاسی ٹمپریچر میں خاطر خواہ کمی لائے گا۔