بس اک نـــــــــــــگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھـــــــــــــتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصـــــــــــــل ہے بہشت
مکیـــــــــــــں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
✍️احمـــــــــــــد فراز
تھی اک خلش سی فتنہ محشر کہ مٹ گئی
ہو کر چلے گئے وہ ہمارے مزار پر
آیا ہوں بزمِ ناز میں اب تو سنبھال لو
میں رکھ کے دونوں ہاتھ دلِ بیقرار پر
مرزا محمد تقی بیگ
دل کی خلـــــــــــــش کا درد محبت کا واسطہ
دیکھو اِدھر بھی چشم مروت کا واســـــــــــــطہ
جلوؤں کو کھیلنے دو نظـــــــــــــر سے مری ذرا
تم کو نـــــــــــــگاہِ عشق کی جرأت کا واسطہ
✍️بہـــــــــــــزاد لکھنوی
اے خضـــــــــــــر بادہ خوار کا کیا اس کی آرزو
کیفیتِ شـــــــــــــراب بھی آب بقا میں ہے
چٹکی میں ان کی تیـــــــــــــر نگاہوں میں ان کی قہر
کیا جانے کتنی دیر ہماری قـــــــــــــضا میں ہے
نواب مرزا خان داغ دہـــــــــــــلوی
ترے علاوہ ہو دھرتی پہ اور کوئی شخص
وہ میرے بال سنوارے مجھے قبول نہیں
تمھارے ساتھ ہوں ہر چیز ہے قبول مجھے
وگرنہ کچھ بھی ہو پیارے مجھے قبول نہیں
نادیہ مہک📚
جی میں آتا ہے کہ گلیوں میں صدا دیتا پھــــروں
لو خبــــر کوئی کہ اک ظالم میــــرا دل لے گیا
زلف کے ہــــر حلقے میں ٹھہرائے رکھا دیر تک
شوق' دل کــــو مانگ تک منزل بہ منزل لے گیا
✒️ رشــــید لکھنوی 📒
ہے خراشِ ناخنِ غم میں بھی کیا بالیدگی
جو ہلالِ غرہ تھا، سو ماہِ کامل ہو گیا
عید کے دن ذبح کرنا اور بھی اچھا ہوا
حلقۂِ اسلام میں وہ شوخ داخل ہو گیا
مصطفی خاں شیفتہ✍️
کلیات شیفتہ
صفحہ نمبر 📖
کمسِن ہیں وہ ایسے اُنہیں ظالِم کہوں کیسے
معصوم پہ اِلزام لگایا نہیں جاتا
آئینہ دِکھایا تو کہا آئینہ رُخ نے
آئینے کو آئینہ دِکھایا نہیں جاتا
✍️محمد موسیٰ خان المعروف بہ پُرنمؔ اِلہ آبادی
تیرے قدموں کا بوسہ لینے کو اُٹھ بیٹھوں گا
مُجھ کو کردے گا زندہ مرقد پر آنا تیرا
جلوہ دکھلا دے اب تو اپنے نصیرؔ کو تو
بیٹھا ہے در پر تیرے کب سے دیوانہ تیرا
پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ💫
پائے استغنا سے تم ٹھوکر لگاؤ گے ہزار
سر نہ سجدے سے اٹھے گا بندۂ درگاہ کا
رند مشرب کب کے پہنچے یار کے گھر زاہدا
تو پتہ ہی پوچتا ہے اب تک اس کی راہ کا
استاد امیر احمد امیر مینائی
مدتوں رکھا ہے پابند ســـر مژگانِ یار
مدتوں پالا ہے ہم نے دل کو نوک تیر پـــر
قتل ہـــو کر رسمِ شکرانہ ادا کی کس طرح
گر پڑے سجدے میں بسمل دامن شمشیـــر پر
✒️ سید جلال الدین تـــوفیق حیدرآبادی 📒
اب تک یہ آرزو ہے کہ اک وار اور ہو
قاتل تمہاری تیغ کے قربان جائیے
میری زبان کاٹ لی اور ہنس کے یوں کہا
اب بھی کہو کہ آپ کے قربان جائیے
اصغر نظامی
📙نظرِ دلبر عرف کلام اصغر