سیاسی بونوں کو علیمہ خان کے چترال دورے سے ڈر پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے کہنا شروع کردیا ہے عمران خان کی تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے
لیڈرشپ بہت گھبرائی ہوئی ہے کہ علیمہ خان صاحبہ نے یکطرفہ ہی مزاحمت کا اعلان کردیا ہے اور سوشل میڈیا خاص کر ورکر اس سے خوش ہیں
شہزاد اکبر
محسن نقوی کے حکم پر سہیل آفریدی نے ایک اینٹی کرپشن آفیسر کو معطل کر دیا
وہ اینٹی کرپشن آفیسر وہ تھے جنہوں نے عمران خان کے خلاف جھوٹا فیصلہ دینے والے جج دلاور کے خلاف کیس بنایا تھا اور وہ کیس بالکل صیح تھا
سہیل آفریدی اب قابل نفرت ہوتے جا رہے ہیں یہ بالکل ہی لیٹ گیا ہے
عدیل راجہ
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گ��می میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
ہم سب مل کر پختونوں کا ایک مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ ان کا ساتھ دیں اور آج پانچ منٹ میں اس ویڈیو کو سارے گروپس میں پھیلائیں۔ لاکھوں لوگ آپ کی مدد کے منتظر ہیں۔ ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ بہت شکریہ
🚨جو لوگ اپنے اساتذہ اور بزرگوں اور والدین کا احترام نہیں کرتے عزت نہیں کرتے وہ زلیل و خوار ہوتے ہیں اور انکی نسلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں
چہرے پر بیشمار زخم سجائے ہوئے پولیس اسٹیشن ہٹیاں بالا میں سلاخوں کے پیچھے پابند یہ بزرگ ۔کوئی پیشہ ور مجرم نہی ہیں نا ہی انہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے ناہی یہ کسی غیر اخلاقی جُرم کے مرتکب ہوئے ہیں
بلکے یہ پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں انکا نام ��روفیسر جمیل صاحب ہے انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے ۔۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر نے آج جہلم ویلی کے ڈی سی صاحب کے دفتر میں جاکر ۔پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کیخلاف درخواست دی اور احتجاج کرا ۔شاید بزرگ غصے میں کچھ تلخی بھی کر گئے ہونگے
جس پر ڈی سی صاحب نے پولیس کے ذریعے اس عظیم اُستاد پر خوفناک تشدد کروا کر ۔۔۔انِہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاجس معاشرے میں اُستاد اور وہ بھی ایک پی ایچ ڈی اُستاد کی یہ عزت ہو اُس درندوں کی زمین پر بارشیں نہ ہونا۔خشک سالی ہونا وباوں کا پھوٹ جانا کوئی اچنبے کی بات نہی
ہمیں افسوس ہے اس قانون پر جس کی زد میں ہمیشہ کم��ور آتے ہیں اور جانوروں سے بدتر عتاب کا شکار ہوتے ہیں خطے بھر کے طلبہ اور اساتذہ کو اس بیہمانہ اقدام کے خلاف یک زبان ہو کر اُٹھنا ہو گا وگرنہ یہ رسم چل نکلی تو کوئی بھی نہی بچے گا
بالکل یہی انڈین پنجاب میں پ��لیس نے 1995 میں کیا جو آج پاکستان میں ہو رہا ہے
ان کی لسٹیں بن رہیں ہیں انشاللہ قانون کے کٹہرے میں آہیں گیں ستلج فلم کی طرح