عمران ریاض خان کے نام کھلا خط
پیارے عمران ریاض خان،
السلام علیکم۔
میں یہ کھلا خط آپ کو انتہائی عاجزی، خلوص اور احترام کے ساتھ لکھ رہا ہوں — ایک ساتھی پاکستانی کی حیثیت سے، ایک صحافی کی حیثیت سے، اور ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جس نے خود بھی سچ بولنے کی بھاری ذاتی قیمت ادا کی ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں اس وقت لندن کی رائل کورٹس آف جسٹس میں ایک ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہوں، جو جون 2022 میں آئی ایس آئی کے ایک حاضر سروس بریگیڈیئر، سیکٹر کمانڈر پنجاب نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اجازت سے دائر کیا تھا، جیسا کہ اس نے خود عدالت میں تسلیم کیا ہے۔ یہ وہی بریگیڈیئر ہے جسے آپ نے خود کئی بار عوامی طور پر پاکستان میں آپ کے اغوا اور تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
عمران بھائی، یہ صرف میری ذاتی قانونی جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک بہت بڑی جدوجہد کا حصہ بن چکی ہے — آزادی، جمہوریت اور سچائی کی جنگ، جو اسلام آباد یا لاہور میں نہیں بلکہ لندن کے دل میں لڑی جا رہی ہے — ایک ایسے عدالتی نظام میں جو اکثر "ہتک عزت کی سیاحت کی راجدھانی" کہلاتا ہے۔
سالوں سے، آمرانہ قوتیں ان عدالتوں کا استعمال بیرون ملک مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں۔ لیکن اس بار، ہمارے پاس سچائی کے ذریعے ریکارڈ درست کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔
میں آپ سے یہ عاجزانہ درخواست کر رہا ہوں:
براہ مہربانی آگے آئیں اور اپنی گواہی کا بیان — سچائی اور ایمانداری سے — دیں، جو آپ نے پہلے ہی اپنے پلیٹ فارمز پر عوامی طور پر شیئر کیے ہیں، اپنے مصائب اور ذمہ دار فرد کے بارے میں۔
یہ گواہی میرے قانونی ٹیم کے ذریعے الیکٹرانک طور پر عدالت میں جمع کروائی جا سکتی ہے — اس مرحلے پر آپ کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب صرف چار دن باقی ہیں جب تک مجھے اپنی اپیل جمع کرانی ہے۔ وقت بہت کم ہے۔
عمران بھائی، یہ گزارش نتیجہ یا میرے بارے میں نہیں ہے — یہ ہماری مشترکہ جدوجہد کے بارے میں ہے۔ آزادی اظہار رائے اور ہر اس صحافی اور پاکستانی کی عزت کے بارے میں ہے جو دھمکیوں سے خاموش ہونے سے انکار کرتا ہے۔
آپ کی گواہی کا بیان، ایک بار جمع ہونے کے بعد، نہ صرف میری اپیل کی مدد کرے گا — بلکہ یہ یوکے کی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا، ایک تاریخی دستاویز جو آنے والی نسلیں اس وقت حوالہ دیں گی جب وہ مطالعہ کریں گی کہ سچائی اور ہمت نے فاشزم کے خلاف کیسے جہاد کیا۔
میں اس موقع پر ایک بار پھر معذرت کرنا چاہتا ہوں اگر میری ماضی کی رپورٹنگ نے آپ کو تکلیف یا غلط فہمی کا باعث بنی ہو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کبھی میرا ارادہ نہیں تھا۔ ہمارے درمیان اختلافات رہے ہوں گے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم دونوں — اپنے اپنے طریقوں سے — سچائی اور انصاف کے اصولوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔
بعض اوقات ذاتی تنازعات، غلط فہمیاں اور انا لوگوں کے درمیان آ جاتی ہیں جو دراصل تاریخ کے ایک ہی جانب کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اس سب سے اوپر اٹھنا چاہیے۔ پاکستان درد میں ہے، اور جو لوگ سچ بولنے کی وجہ سے مصائب کا شکار ہوئے ہیں انہیں الگ نہیں بلکہ اکٹھے کھڑا ہونا چاہیے۔عمران بھائی، یہ میرے اوپر آپ کا کوئی احسان نہیں ہے۔ آپ مجھ پر ذاتی طور پر کوئی قرض نہیں رکھتے۔
لیکن آپ سچائی پر، اس قوم پر جو آپ پر یقین رکھتی ہے، اور ان لاکھوں لوگوں پر جو آپ کی آواز کی پیروی کرتے ہیں اس امید پر کہ یہ انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے، قرضدار ہیں۔آپ کا بیان نہ صرف اس کیس میں سچائی کو مضبوط کرے گا — بلکہ یہ تاریخ میں ہمت اور ضمیر کی آواز کی ایک جدوجہد کے طور پر گونجے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں کو وہ کرنے کی توفیق دے جو ہماری قوم، ہمارے لوگوں، اور اس سچائی کے لیے درست ہے جو ہم سب سے زیادہ زندہ رہے گی۔
خلوص، احترام اور دعاؤں کے ساتھ،
عادل راجہ
لندن، برطانیہ
(کھلا خط — 22 اکتوبر 2025)
ٹی ایل پی کی آڑ میں تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائی۔
گگو منڈی وہاڑی سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مزمل شانی کو سوشل میڈیا پر ٹی ایل پی کی حمایت کا جھوٹا الزام لگا کر جبری طور پر گرفتار کیا گیا۔
یہ اقدام آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں ہوتا۔
ریاستی اداروں کا سیاسی کارکنان کو نشانہ بنانا جمہوریت نہیں، آمریت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مزمل شانی کو فوری رہا کیا جائے۔
تحریک انصاف کے کارکن نہ پہلے جھکے، نہ اب جھکیں گے۔
#ہماری_رگوں_میں_ہے_نظریہ_عمران
اخے
ملک کے لیے سہیل آفریدی کو اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے
ملک کے لیے تحریک انصاف کو فوج پر تنقید نہیں کرنی چاہیے
ملک کے لیے تحریک انصاف کو احتجاج نہیں کرنا چاہیے
ملک کے لیے عمران خان کو جعلی حکومتیں چلنے دینی چاہییں
مخے
ملک کے لیے فوج کو مینڈیٹ کیوں نہیں واپس کرتی؟
ملک کے لیے فوج عدالتیں اور میڈیا کیوں آزاد نہیں کرتی؟
ملک کے لیے فوج بیرکوں میں واپس کیوں نہیں چلی جاتی؟
ملک کے لیے فوج قتل عام و ظلم و ستم کیوں بند نہیں کرتی؟
ملک کے لیے شہباز شریف جعلی حکومت کیوں نہیں چھوڑتا؟
اٹھاؤ اپنے کمزور ، جھوٹے ، غیر منطقی بیانیے اور نکلو یہاں سے۔ تحریک انصاف کو پاکستان کے عوام کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔ تحریک انصاف جو کررہی ہے وہ ملک کے لیے ہے۔ اسکے علاوہ سارا سیاسی ٹولہ جو کچھ کررہا ہے وہ توسیع کے لیے ہے ، کرپشن کے لیے ہے اور قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ نکلو نکلو شاباش۔
پورا پاکستان، یعنی پاکستانی عوام، یعنی جمہور عمران خان کے ساتھ ہے، عمران خان تحریک انصاف ہے۔
خواجہ آصف! تمہیں تو فقط 17 سیٹیں ملیں، باقی تو تمھارے ہینڈلرز کی چھین کر دان کی ہوئی ہیں۔
#ہماری_رگوںمیںہے_نظریہ_عمران#کپتان_کا_فیصلہ_قوم_کا_فیصلہ
Today, Pakistani Chief Minister Sohail Afridi Adiala was NOT ALLOWED to meet with Imran Khan in Prison.
PAKISTAN = MILITARY RUNS THE SHOW.
FREE IMRAN KHAN.
بریکنگ نیوز 🚨
پی ٹی آئی آفیشل عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ویڈیو دوبارہ جاری کردی!!
عمران خان پر کئی بار قاتلانہ حملہ ہوئے، لیکن عمران خان ڈٹ کر کھڑے ہیں
روائتی سیاسی جماعتوں کو سہیل آفریدی سے یہ بھی تکلیف ہے کہ اقتدار تو ہمارے لئے بنا تھا، مسند تو صرف ہمارے شایانِ شان تھی لہذا جس ملک میں مسندِ اقتدار صاحب ثروت اور موروثی سیاسی اشرافیہ کے گھر کی باندھی ہو اور وہاں ایک نچلے طبقے کا نوجوان جس کے پاوں میں بطور طالبعلم سستی اور عام سے چپل، جسم پر انتہائی سستا عامیانہ لباس اور جو زمین پر بیٹھ کر پڑھتا ہو وہ پاکستان کے 6 انتظامی یونٹس میں سے تیسرے بڑے انتظامی یونٹ کا وزیراعلی بن جائے تو حکمران اشرافیہ کے ایوانوں کا لرز جانا فطری بات تھی۔ یہ حکمران اشرافیہ اتنی بے حس ہے کہ یہ سہیل آفریدی کے مقابلے میں اُس جیسا عام سا نوجوان بھی کھڑا نہ کر سکی بلکہ وزارتِ اعلیٰ کیلئے مولانا فضل الرحمان نے اپنے بھائی کو اور ن لیگ نے سردار محمد یوسف کے بیٹے کو نامزد کیا۔
“پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے۔ ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے۔ جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے۔ عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا۔ یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔”
- عمران خان
#عوام_ہے_ریاست
جہاں 21 یا 22 گریڈ کا سرکاری ملازم یہ بتائے کہ کون وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے یا نہیں بن سکتا وہاں جمہوریت کا نام لینا جھوٹ اور دھوکا ہے۔ جو اس نظام کے بینی فشریز ہیں نا انہیں عوام سے سروکار ہے نا رائے عامہ سے وہ حاکموں کی خوشامد اور خوشنودی میں خوش ہیں۔