@danibaba057@mjdawar When there is no argument, you people start talking nonsense.
When we criticize the dictatorship then I start from 47 not 90s.
Zia and Musharaf was not the representative of Punjabis they were dictators and follow the legacy of Yahya and Ayub.
کافی دیر ھو چُکی ھے ۔۔۔
اس سے پہلے بہت دیر ھو جاۓ ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جامع ، کثیر الجہتی اور بامعنی مذاکرات ضرورت بن چُکے ھیں ، طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو اسکا حصہ ھونا چاھئیے
میثاق ِ پاکستان تشکیل دیا جاۓ ۔
پاکستان کی سلامتی ، وحدت اور ترقی کیلئے سب کو آپس میں بات کرنا ھو گی ۔۔ قومی ایجنڈا تشکیل دیا جاۓ !
آئین کی حکمرانی اور اس سے کھلواڑ کا مستقل تدارک ، ، شفافیت اور عدل کا قیام ، معیشت کی بحالی ، دھشت گردی کا مشترکہ مقابلہ ، آزاد الیکشن کمشن ، ھر دباؤ سے آزاد شفاف انتخابات کی ضمانت ، عوام کی نمائیندہ پارلیمنٹ کا وجود ، سیاسی انتقام کا خاتمہ ، کرپشن فری سوسائٹی، گُڈ گورننس ، انرجی اور آبی وسائل میں خود کفالت ، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ، ذمہ دار با اختیار عدلیہ پر مستقبل کا روڈ میپ طے کیا جاۓ
ریاستی یا گروھی طاقت کا بے محابا استعمال بہت جلد لائن کراس کر کے اسے جبر اور استحصال میں تبدیل کر دیتا ھے اور
بلا آخر ایسا کرنیوالے اپنی سمت میں بڑھتے ھوۓ منزل کھو دیتے ھیں
ھم اپنی ��پنی جگہ کىئ بار منزل کھو چکے ھیں ، اس تباھی میں ��ب نے اپنی حیثیت کیمطابق حصہ ڈالا ، یہ عمل ِ بد جاری و ساری ھے ، اور ملک کو اندر سے کمزور کر رھا ھے
ملک کی خاطر جاگ جائیں ، حقائق کا ادارک کریں ، آگے بڑھیں ، ایک دوسرے کو برداشت کریں ، بات کریں ، co exist کرنا سیکھ لیں ،نت نئے تجربات کر کے دیکھ لئے بات نہیں بنی ، اب آئین پر اسکی روح کے مطابق عمل کر کے دیکھیں ،
ان شا اللّٰہ بات بھی بنے گی ، راستہ بھی نکلے گا ۔۔۔
@hinaparvezbutt میاں صاحب ناراض ہو جائیں گے نا کیا کریں ایسا۔۔۔
ویسے دوسرے قیدیوں کو قید تنہائی والی سہولت کے لیے بھی اپلائی کرنا چاہیے صرف نجی ہسپتال سے علاج والی کیوں۔۔
@TheSaadKaiser Yes development of elite, sugar mafias is ahead...
But not of the poors...
Can you imagine the petroleum prices? The fundamental rights that constitution grants to the people. Current regime is backed by the undemocratic powers and have no legitimacy
لگتا ہے پاکستان کی ہر حکومت، ہر اسٹیبلشمنٹ۔۔۔ شوگر مافیا کی یا تو غلام ہے یا ساتھی ہے۔ جتنی بے شرمی سے شوگر مافیا اور آئی پی پیز پاکستانی غریب عوام کے ٹیکس سے حرام کے اربوں ڈالرز بناتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے لواحقین کو پتا چلے وہ بھی شرما جائیں۔ اُنھیں تو جہازوں پر کم از کم ہزاروں کلومیٹر کا مشکل سمندری سفر کر کے آنا پڑتا تھا اور بدلے میں کچھ نہ کچھ ��دا بھی کرنا پڑتا تھا۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ "آئی پی پیز" بجلی پیدا کیے بغیر باقاعدگی سے ملینز آف ڈالرز لینے کے "پابند" ہیں۔ شوگر مافیہ اتنا لاڈلا ہے کہ پہلے انھیں گنا خریدنے سے چینی بنانے تک حکومت سے امداد ملتی ہے، پھر ایکسپورٹ کرنے کی "سہولت" ملتی ہے کہ بیچاروں سے زیادہ چینی بن گئی ہے۔ پھر چینی کی قلت پیدا کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ پھر مہنگی کر کے بیچنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ پھر ایکسپورٹ کی ہوئی چینی امپورٹ کرنے میں مدد ملتی ہے اور ۔۔۔۔ یہ وہ شوگر ملز ہیں جنھیں لگانے کے لیے بھی حکومتی قرضے اور "امداد" ملی تھی، اُس ملک کی حکومت سے امداد جو خود آئی ایم ایف سے امداد لے رہی ہے۔ آئی ایم ایف تو قرضہ معاف نہیں کرتا البتہ مافیا کے قرضے معاف ہو جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی شوگر ملز اور کے پی کے تمباکو مافیا کو کوئی ہے پوچھنے والا؟
پیٹرول کی قیمت روزانہ پانچ کے پہاڑے کے حساب سے بڑھ رہی ہے عوام کا جینا محال کردیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک سو ارب حدف سے زیادہ وصول کیے حکومت نے۔ لگتا ہے حکومت نے سارا بجٹ غریبوں کو نوچ کر پورا کرنا ہے۔ اگر ٹیکس لینا ہے تو مافیاز سے لیں۔
@GovtofPakistan
@geonews_urdu معاملہ قومی مفات کا نہیں فرم 47 کا ہے۔ جب حکومت میں 47 ذلت منہ پر لگا کر آئیں تو پھر تحمل اور صبر کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
کیا وہ دور تھا جب ووٹ کو عزت دینے کے نعرے لگتے تھے اور کیا آج کا دور 😆