اتوار والے دن لا��ور کے تھانے میں ایک ذہنی معزور لڑکی کا ریپ ہوا اور اس کے ایک دن بعد ہی لاہور کے ٹھاسن شپ تھانے میں معمولی جرم میں گرفتار دو جواں سال لڑکیاں پولیس حراست میں پراسرار طور پر فوت ہو گئیں
اس ملک میں غریب ہونے سے بڑا کوئی جرم نہی ہے
مریم نواز خود ایک خاتون ہیں دعوے بھی کہ پینک بٹن اور خواتین بارے زیرو ٹالرنس مگر حقیقت یہ کہ باقی پنجاب تو چھوڑ دیں لاہور کے تھانوں میں عورتوں محفوظ نہی ہیں
گورنس تو یہاں سے سامنے آتی ہے
یہ شخص اپنی بیوی کو کوٹ سبزل سرکاری ہاسپٹل مریم نواز ہیلتھ کلینک لے کے ایا رات کے تقریبا 10 بجے سوا ایک نرس کے اور چوکیدار کے کوئی نہیں تھا بس صرف بلڈ پریشر چیک کیا اور ایک آو آر ایس دیا ڈاکٹر جا کے مزے سے اے
سی میں جا کے سوتے ہیں کوئی ان سے پوچھتے نہیں۔
ہمارے شہر کا ایک نوجوان فوٹوگرافی کا کاروبار کرتا تھا۔ دینی رہنمائی لی تو اسے کہا گیا کہ فیشن فوٹوگرافی ناجائز ہے۔ اس نے کام چھوڑ دیا، غربت برداشت کی اور گھر چلانا بھی مشکل ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد وہی حضرات سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے نظر آئے.
مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں قسطوں پر کاروبار کرنا سود نہی ہے ۔۔
اگر اپ نے اسی وقت قیمت طے کر لی ہے کہ کیش پہ اک لاکھ کی ہے اورادھار پر ڈیڑھ لاکھ کی ہے ۔ مطلب قیمت موقع پر طے ہو جاے ۔
سود یہ ہے کہ اگر اک قیمت طے ہو گی ہے اگر اپ نے مقررہ وقت پر ادا نہ کی تو وہ بڑھتی جاے گی اس پر سارے فرقے اس کو سود مانتے ہیں ۔
میری بائیک انسٹالمنٹ کی شاپ تھی مجھے کسی نے کہا یہ سود ہے میں مفتی صاحب کے پیسہ گیا انہوں نے کہا یہ سود کا کام ہے یہ 2010 کی بات ہے میں نے دوکان بند کر دی ۔۔
اج ہمارے شہر میں سب سے زیادہ قسطوں کا کام یہی مولوی حضرات کر رہے ہیں اک ہی فرقہ کے مفتیاں سے پوچھو ہر کسی کی اپنی دلیل ہے ۔
میرے خیال میں قسطوں کے کام بھی سود میں اتا ہے اک لاکھ کی کوی پروڈکٹ دی یا پیسہ دیا اس پر جو اضافی رقم ہے وہ سود ہے ۔
یہ دیکھیں DAEWOO ایکسپریس لوگو کے آموں کے ساتھ کیا کررہا ہے!!
یہ صرف DAEWOO نہیں بلکہ تمام بسوں کا یہی حال ہے, جو لوگو کے صرف آم نہیں بلکہ ہر چیز کو اسی طرح پھینکتے ہیں!!
ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!
کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!
مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!
تحریر: مسعود باجوہ
#موناسکندر
ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔
لاہور پولیس جو کہ رہی تھی کہ ہم نے سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔
یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا
اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔ کیسے اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔
لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔
سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔
اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔
اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔
گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی
گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔
وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔
متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔
کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔
لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔
یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائی�� پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔
متاثرہ فیملی کا بمپر اور ڈگی ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا
پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔
اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔
اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔
آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟
ٹویشن سینٹر کی چھت گری بچے حادثہ کا شکار ہوئے گھر کے مالک اور اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے یہ سیالکوٹ میں چند دن پہلے سرکاری سکول جو ٹھیکے پر دیا اس کا گیٹ بچی پر گر گیا اس کی ٹانگ ٹوٹ گی اس ٹھیکدار کو گرفتار نہی کیا گیا الٹا والدین سے زبردستی بیان لکھوا لیا کہ سکول ذمہ دار نہی ہے کیونکہ سکول جن کو ٹھیکے پر دیے اس کے ترجمان وزیر تعلیم خود ہیں