ملا یعقوب نے روس سے واپسی پر نشے میں مست ہو کر پاکستان کو بھڑک مار دی ، پاکستان نے اس کے بعد ہولی ہولی ڈھولکی بجانا شروع کی اور ملا یعقوب کو اس کی اوقات بتانا شروع کی کہ تمہاری پیدائش سے لیکر امارات کے امیر بننے کی خواہش تک سب کچھ ہمیں پتا ہے
اور سب سے بڑی بات طالبان کے امیر ملا عمر کس کے مہمان رہے کہاں زیر علاج رہے سب کچھ بتانا شروع کر دیا ہے جس کے بعد ملا یعقوب ریت میں سر دبا کے پچھوڑا اوپر کر کے رو رہا ہے کہ اس سے بہت بڑی غلطی ہو چکی ہے
ابھی صرف پاکستان نے ایک راز کھولا ہے کہ ملا یعقوب کا باپ ملا محمد عمر افغانستان کے صوبہ ذابل میں نہیں مرا تھا بلکہ اس کا علاج اور آخری دنوں کا آرام کہیں اور ہوا تھا ، جہاں وہ وہیل چئیرز پر بیٹھ کر ٹی بی کی مریض کی طرح بیٹھا ہسپتالوں کی راہداریوں میں خوار ہوتا تھا ،
ملا یعقوب کو اندازہ ہو گیا ہے کہ ابھی پاکستان کی پٹاری میں بہت کچھ ہے جو وقت آنے پر باہر نکل سکتا ہے اسی لئے اس نے دوبارہ کوئی جواب بھی نہیں دیا بلکہ افغانی امارت کے ترجمان نے اپنے ہی وزیر دفاع کے بیان کی تردید کر دی لیکن اب کیا کریں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ، کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آ سکتا اب کچھ نا کچھ خمیازہ تو بھگتنا ہو گا اور ملا یعقوب اپنے سستے نشے کی رو میں بہک کر جو کہ چکے ہیں اس کا کچھ نا کچھ جواب تو اب ملے گا ہی
جس کا پہلا ٹریلر ملا عمر کی وہیل چئیر پر بیٹھے کی تصویر سامنے لائی گئی ہے جس سے طالبان کا اقتدار ہل کر رہ گیا ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندہ ہو
ناز خیالوی
کوئی الفت میں تمہاری کھو گیا ہے
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
اسرائیل نے آدھے لبنان پر قبضہ کر لیا۔کدھر ہے ایران اور حزب لات منات عزی
لگتا ہے ایران نے غزہ کے بعد لبنان کا بھی سودا کر لیا
ایران بے ایک بار پھر اسرائیل کا بدلہ کویت پر حملہ کر کے لے لیا ہے
سویڈن میں 80 فیصد لوگ لادین یعنی ملحد ہیں، لیکن کرائم ریٹ دنیا کی کم ترین شرح میں ہے۔۔۔
مطلب صاف ہے ، اخلاقیات اور اعلی کردار کا تعلق کسی مزہب ایمان سے نہیں ہوتا۔۔ بلکہ مزہب انسان کو گناہوں اور جرائم کی ترغیب دیتا ہے ۔۔ کہ انہیں بخشوایا جا سکتا ہے
ریاست الباکستان نے پہلے فتنہ الخوارج کو بچا اور افگانڈوستان پر مسلط کرنے میں مدد کی، انہوں ہمارے ہزاروں افراد اور فوجیوں کو شہید کیا
آپ ریاست
الباکستان فتنہ الروافض کوفیوں کو بچانے میں لگی ہوئی
وہ ابھی سے
ہمارے لوگوں اپنی پراکسی کے مار رہے ہیں
جس طرح مسلمان جنت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔باقی بھی ایسا ہی سوچتے ہیں لہ صرف وہ ہی جنت کے حقدار ہیں۔باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ یہی رویہ مذہب کو غیر آفاقی بنا دیتا ہے
دنیا کے مذاہب کو ماننے والے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خدا کی منتخب لوگوں ہیں، اور قیامت بعد جنت پر بھی صرف انہیں کا حق ہے
●جنت اور دوزخ کا تصور ہر مذہب میں ہوتا ہے، عیسائی یہودی ہندو سیکھ زرتشت ادیان پر سب جنت اور دوزخ پر یقین رکھتے ہیں۔