Hello, good people, I need help.
My organisation has been arranging a science training programme for different elite schools. This time as leading this initiative, I would love to connect with schools in KP and Balochistan. It would also be great to connect in Punjab and Sindh
The doctors who raised their voices and protested for justice for Dr. Mahnoor after the acid attack have been suspended by the Balochistan government. Imagine the mindset of the bureaucrats and authorities responsible for this decision.
مصباح کی کہانی
سراب کے پیچھے بھاگتی زندگی
نیو کراچی کے ایک چھوٹے سے مکان میں، جہاں پانچ بھائی اپنی اکلوتی بہن مصباح کو پھول کی طرح رکھتے تھے، وہاں خوشیاں بکھری ہوئی تھیں۔ باپ کا سایہ سر پر نہیں تھا، اس لیے بھائیوں نے کبھی مصباح کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے دیا تھا۔ مصباح، جو ابھی زندگی کے صرف 18ویں سال میں تھی، معصوم تھی، دنیا کی عیاریوں سے ناواقف۔
پھر اس کی زندگی میں شہریار آیا۔ وہ اسی محلے کا رہنے والا تھا جس نے مصباح کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں ایسا پھنسایا کہ لڑکی کو اس کے سوا کچھ سجھائی نہ دیا۔ مصباح نے خواب دیکھے تھے—ایک اچھے جیون ساتھی کے، ایک ہنستے کھیلتے گھر کے۔ بھائیوں نے بہن کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور صرف چار ماہ قبل، مصباح کی پسند کی شادی شہریار سے کروا دی۔
مصباح رخصت ہو کر سرجانی ٹاؤن کے سیف الملوک گوٹھ چلی گئی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے سسرال نہیں، بلکہ مقتل میں جا رہی ہے۔
شادی کے چند ہی دن گزرے تھے کہ شہریار کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔ محبت کا نقاب اترا تو پیچھے ایک درندہ چھپا تھا۔ وہ کوئی عاشق نہیں، بلکہ ایک پیشہ ور شکاری تھا جو پہلے بھی کئی شادیاں کر کے لڑکیوں کے خاندانوں کو لوٹ چکا تھا اور کام نکل جانے پر انہیں چھوڑ دیتا تھا۔
"کبھی کہتا مجھے نقد رقم لا کر دو، کبھی کہتا اپنے بھائیوں سے نئی موٹر سائیکل مانگ کر لاؤ۔"
جب مصباح روتی اور کہتی کہ اس کے یتیم بھائی یہ سب کہاں سے لائیں گے، تو وہ درندہ بن جاتا۔ وہ مصباح کو بے رحمی سے پیٹتا۔ معصوم مصباح جب سسکیاں لیتی تو وہ اس کے گلے پر ہاتھ رکھ کر کہتا: "اگر پولیس یا اپنے بھائیوں کو بتایا، تو جان سے مار دوں گا۔"
مصباح نے ایک بار چھپ کر اپنی ماں کو فون پر روتے ہوئے بتایا تھا: "امی، وہ مجھے بہت مارتا ہے۔ وہ پہلے بھی شادیاں کر چکا ہے، وہ صرف پیسوں کا بھوکا ہے۔" ماں کا کلیجہ منہ کو آ گیا، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وقت اتنی تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
کچھ دن قبل، وہ وحشت ناک رات آئی جب شہریار کے سر پر خون سوار ہو گیا۔ پیسوں کا تقاضا پورا نہ ہونے پر اس نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ اس بار صرف ہاتھ اور لاتیں نہیں تھیں، اس کے ہاتھ میں ایک لوہے کا پیچ کس تھا۔
مصباح رحم کی بھیک مانگتی رہی، اپنے بھائیوں کا واسطہ دیتی رہی، یتیم سر کا واسطہ دیتی رہی، لیکن شہریار کے ہاتھ نہیں کانپے۔ اس نے وہ تیز دھار پیچ کس مصباح کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر پیوست کرنا شروع کر دیا۔ مصباح کی چیخیں اس دیواروں میں دفن ہو گئیں جہاں وہ محبت کے خواب لے کر آئی تھی۔ اس کے نازک جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں تشدد کے نیلے اور خون آلود نشان نہ ہوں۔
جب وہ لہولہان ہو کر گر گئی، تو اس ظالم نے اسے اٹھا کر باہر گلی میں ایک ٹھیلے کے نیچے پھینک دیا، جیسے کوئی کچرا پھینکتا ہے۔
ماں کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف ایک اجنبی تھا: "آپ کی بیٹی سرجانی میں ایک ٹھیلے کے نیچے زخمی حالت میں پڑی ہے۔"
بوڑھی ماں اور بھائیوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ شہریار کے خوف اور دھمکیوں کی وجہ سے وہ سیدھے ملیر جانے کے بجائے سرجانی پہنچے۔ جب انہوں نے اپنی گڑیا جیسی بہن کو اس حال میں دیکھا، تو بھائیوں کے کلیجے پھٹ گئے۔ وہ خون میں لت پت تھی، اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔
وہ تڑپتی ہوئی بیٹی کو لے کر سرجانی تھانے بھاگے کہ شاید قانون ان کا سہارا بنے، لیکن افسوس! پولیس نے ایک نہ سنی۔ وقت ضائع ہوتا رہا، خون بہتا رہا۔ جب وہ مایوس ہو کر مصباح کو ڈاکٹر کے پاس لے کر پہنچے، تو بہت دیر ہو چکی تھی۔
مصباح نے اپنے بھائیوں کے ہاتھوں پر دم توڑ دیا۔ وہ 18 سالہ لڑکی، جو چار ماہ پہلے دلہن بنی تھی، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس بے رحم دنیا کو چھوڑ گئی۔
آج مصباح کا گھر ماتم کدہ ہے۔ پانچ بھائیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، اور بوڑھی ماں کا رو رو کر برا حال ہے، جس کی اکلوتی بیٹی کفن میں لپٹی پڑی ہے۔ سب سے زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ مصباح کے مرنے کے بعد بھی وہ درندہ شہریار تاحال آزاد ہے اور قانونی کارروائی کرنے پر اب بھی مقتولہ کے یتیم خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
پانچ بھائی تھے، ماں تھی، گھر تھا — پھر بھی مصباح اکیلی کیوں تھی؟ کیا ہمارے گھروں میں محبت کا اظہار اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ بچے گھر سے باہر تلاش کرنے نکل پڑتے ہیں؟
اگر مصباح آپ کی اپنی بیٹی یا بہن ہوتی، تو آپ اس لمحے کہاں ہوتے جب وہ اس اندھیری کوٹھڑی میں چیخ رہی تھی؟محبت کے نام پر جو دھوکہ مصباح کو دیا گیا، کیا اس کا ذمہ دار صرف وہ لڑکا ہے، یا ہم سب بھی کہیں نہ کہیں قصوروار ہیں جو اپنی بیٹیوں کو دنیا کی اصلیت سے بے خبر رکھتے ہیں؟
ام عمر
سرفراز بگٹی بلوچستان کے ملازمین کو احتجاج کی سزا ،بھاری جرمانے اور جبری ریٹائرمنٹ کی صورت دے رہا ہے۔ عوامی نمائندے ہوتے تو عوام کا خیال بھی ہوتا ، مسلط کردہ بوجھ سے انہی فیصلوں کی توقع ہے۔
Need suggestions, dear mutuals and followers:
What’s your all-time favourite book?
A book that felt like a hammer to your mind, challenged your perspective or completely changed the way you think and see the world?
I’d love to hear your recommendations.