نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و��لم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ اس شخص كو جنت میں داخل كر ے گا جو خرید نےاور بیچنے میں یا قرض لینے اور واپس کرنے میں آسان (نرم خو) تھا۔
(السلسلۃ : 1200)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے ، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں ،
1/2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ، انہیں ( حسن معاشرت کا ) ادب سکھایا ، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتا رہا ، تو اس کے لیے جنت ہے ۔‘‘
(سنن ابی داؤد،۵۱۴۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
(ابوداؤد،۱۵۲۲)
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“انسان کے بدن کے ( تین سو ساٹھ جوڑوں میں سے ) ہر جوڑ پر ہر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان انصاف کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔“
(صحیح بخاری،۲۷۰۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عقلمند وہ ہےکہ جواپنےنفس کومطیع رکھے اور موت کےبعدکی تیاری کرے، اور بےوقوف وہ ہےکہ جواپنےنفس کی پیروی کرے اور اللہ پر امیدیں باندھے۔
(ترمذی، ۲۴۵۹)