بیچ سڑک پر ٹرالر روک کر ہزاروں لوگوں کو مشکل میں ڈال کر یہ نماز کی ادائیگی ہے یا ڈرامہ؟
جبکہ تارکول سے بنا روڈ پر سجدہ جائز بھی نہیں کیونکہ تارکول ناپاک ہوتا ہے۔
جبکہ چند گز کے فاصلے پر کنارے پر روک کر بھی نماز ادا ہو سکتی تھی۔
شعیہ نہیں غالی ہیں جو صحابہ کی تذلیل کرتے ہیں۔ سُنی نہیں یزیدی ہیں جو ماتمِ حُسین سے نفرت کرتے ہیں۔ شعیہ و سُنی اسلامی رسّی کے دو بل اور مُہاجر قوم کا اٹوٹ انگ ہیں۔یاد رہے غالی غُلو یعنی مبالغہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ علی کو خُدا شعیہ نہیں غالی و نُصیری مانتے ہیں۔ حُسین سے عقیدت تو کروڑوں سُنی کرتے ہیں چاہے ماتم کریں یا نہیں مگر صرف ناصبی و یزیدی ہیں جو ماتم حُسین سے نفرت کرتے ہیں۔ ماتم حُسین تو ہوگا۔
'' گھبرائے گی زینب''
یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ شہرہ آفاق مرثیہ '' گھبرائے گی زینب'' ایک ہندو شاعر منشی چنوں لال دلگیر نے لکھا ہے۔ منشی چنوں لال دلگیر میر انیس سے بھی پہلے 417 مرثیے لکھ چکے تھے۔ جب مرثیے کہنا شروع کیا تو اپنی غزلوں کا دیوان '' گومتی'' لکھنؤ کے دریا میں بہا دیا۔ ان کے لکھے ہوئے مرثیوں کی7 جلدیں ہیں۔ تاریخ میں یہ بات بھی موجود ہے کہ منشی چنوں لال مشہور شاعر ناسخ کے شاگرد تھے اور مرزا فصیح اور میر خالق کے ہم عصر تھے۔ شاعر مصحفی نے ان کی تعریف میں یہ بات بھی بیان کی ہے کہ چنو ں لال کا تخلص '' ترب'' تھا جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ چنو ں لال نے ترب کا تخلص صرف اس وقت تک استعمال کیا جب تک وہ غزلیں کہتے رہے۔ مرثیہ لکھتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ '' دلگیر'' کا تخلص استعمال کیا۔
لکھنو میں یہ کلام ہمیشہ پڑھا جاتا تھا لیکن50ء کی دہائی میں مرحوم ناصر جہاں نے اِس کلام کو مختلف طرز سے پڑھ کر اِسے ہمیشہ کے لیے مجلسِ شامِ غریباں سے منسوب کر دیا۔
”سلامِ آخر“
گھبرائے گی زینبؓ ، گھبرائے گی زینبؓ
بھیا !! تمہیں گھر جا کے کہاں پائے گی زینبؓ؟؟
گھبرائے گی زینبؓ
کیسا یہ بھرا گھر ھوا برباد الہٰی ، کیا آئی تباہی
اب اِس کو نہ آباد ، کبھی پائے گی زینبؓ
گھبرائے گی زینبؓ
گھر جاکے کیسے دیکھے گی ، قاسم ہے ، نہ عباس
اکبر سے بھی ہے آس ، اپنے علی اصغر کو ، کہاں پائے گی زینبؓ ؟؟
گھبرائے گی زینبؓ
پُوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو پہ ہوا کیا؟؟ ، یہ نیل ہے کیسا؟
کس کس کو نشاں رَسی کے ، دِکھلائے گی زینبؓ؟؟
گھبرائے گی زینبؓ
پَھٹ جائے گا ، بس دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ ، یاد آؤ گئے بھیا
دِل ڈُھونڈے گا تم کو تو ، کہاں پائے گی زینبؓ؟؟۔
گھبرائے گی زینبؓ
بے پردہ ہوئی، قید بھی، ہر ظلم اٹھایا اور موت نہ آئی
کیا جانیے ، کیا کیا ابھی اور دُکھ پائے گی زینبؓ
گھبرائے گی زینب
بشکریہ :روزنامہ" انقلاب"(ممبئی)
ٹنڈو جام سے متعدد افراد نے مطلع کیا ہے کہ وہاں سینکڑوں مقدمات میں مطلوب بدنام منشیات فروش و لینڈگریبر یہ غلام فرید پسیو نے سرکاری سرپرستی میں قرشی برادری کے گھر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔علاقہ میں شدید کشیدگی ہے۔
خلافت و ملوکیت سے زیادہ مدلل۔بہترین غیر جانبدارانہ کتاب جو بنو ہاشم بنو امیہ کی تاریخی چپقلش۔فتح مکہ۔وغیرہ پر سیر حاصل مواد فراہم کرتی ہے میری نظر سے نہیں گزری۔اللّه مولانا مودودی رح کے درجات بلند فرمائے آمین
بہت سے دانشوروں نے پاکستان کی مخالفت شائد موجودہ حالات کو بھانپتے
حیرانگی کی بات یہ نہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ ایک گریڈ 22 کے آفیسر سے پیزا کھاتی تھیں بلکہ ہمیں تو کچھ حلالی افسران نے بتایا ہے کہ ایک موجودہ 22 گریڈ کا افسر اور اسکا ٹونی کتا، جو جب سے لیفٹننٹ کرنل تھے، تب سے اپنے گھر ٹی بریک، سرکاری کمانڈ فنڈ سے بھجواتے چلے آرہے ہیں۔
#چاچو_وسکی صرف وسکی مفت کی نہیں پیتا بلکہ شامی کباب، چکن رول اور،سموسے بھی چوری کرتا ہے۔ یہ تو انکی اوقات ہے۔
آپ کا ریٹویٹ اس بچی کو ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے پلیز ریٹویٹ ضرور کریں
نام مریم ولد فضل رحیم عمر13 سال 11جون2023کو سیکٹرB-1 اورنگی ٹائون کراچی سے لاپتہ ہے کسی کو اس بچی کے بارے میں علم ہو تو قریبی پولیس سٹیشن یا اس نمبر پر رابطہ کریں
1102-021 35662222
یومِ تکبیر مبارک
28 مئی 1998 کے دن ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا
قوم آج کے دن محسنِ پاکستان مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھے
#Pakistan🇵🇰
کراچی مُہاجر کے باپ کا ہے۔ اس لئے نہیں کہ پاکستان بنایا بلکہ تبادلہ کیا ہے آبادی و زمین کا۔ کراچی متروکہ سندھ کا شہر ہے۔ کسی راجہ داہر کی اولاد کا نہیں۔ #MatrukaSindh@NaeemRehmanEngr صاحب کاش آپنے اپنے لیڈروں اور کارکنان کو سمجھایا ہوتا یہ اہم نکتہ تو عبدالرشید سندھ اسمبلی میں نسل پرست ڈکیتوں کے سامنے مکمل بات کرتے۔
مجھے حیرت ہے کہ کروڑوں مُہاجر مردم شُماری پہ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ MQMPK سے سوال نہیں کررہے۔ کہاں ہیں ٹوئیٹر پہ ریڈ لائن کھیچنے والے ؟ ٹکے ٹکے کے لیڈروں کی ایسی غلامی کیوں ؟
ہنسی آتی ہے MQMPK کی روایتی منافقت پہ۔ مردم شُماری کے نتائج پہ بند کمرے میں سر جھکا دینے والے عوامی سطح پہ اسے مسترد کرکے ان گدھوں کو ہی گدھا سمجھ رہے ہیں جو ۳۵ سال سے خود کو گدھے ثابت کررہے ہیں۔ اگر یہ مفاد پرست سنجیدہ ہوتے تو حکومت چھوڑتے مگر حُکم کے غلام کردار سے عاری ہیں۔
@MatrukaSindh@ZshanMirza عمران خان کی حمایت یا مخالفت سے مہاجر مسائل اور مفادات کا کچھ بھی لینا دینا نہیں۔مہاجروں کو اس بحث میں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ہم صرف بحث و مباحثوں میں الجھے ہوئے ہیں عملی طور سے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔الطاف حسین کی غیر سنجیدگی زبان الفاظ کے بیجا استعمال نے مہاجروں کو تیسرے درجہ کا
@MatrukaSindh@ZshanMirza درجہ کا شہری کا بنادیا ہے۔مہاجر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے جبکہ نسل پرست متحد ہے اور اس نے ایم آر ڈی کی تحریک سے سبق حاصل کرکے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے معاملات اچھے کرلئے۔مہاجر ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہا ہے اس لئے غیر ضروری بحث کی بجائے اس صورت حال سے نکلنے کی کوشش کی جائے