یہ فلسطینی نوجوان گیس کے سلینڈر اُتار کر گھروں کو پہنچا رہا تھا اور اسرائیلی فوجی نے اُسے گولی مار کر شہید کردیا۔۔۔۔۔
یہ کوئ دہشتگرد تھا ؟ نہیں۔ اسرائیل ایک دہشتگرد ہے۔
کاکڑ صاحب @anwaar_kakar فلسطین میں 900 شہید ہوگئے ہیں ہسپتال میں اسرائیل کی بمباری سے۔۔۔۔۔۔
میرے پاکستان کے نگران وزیراعظم: کُچھ تو کہئیے۔ کُچھ تو بولئیے۔ کُچھ تو بیان دیجئے۔
ایک خاندان کے 57 مرد ہوں اور ایک غیر آپ کی عورتوں اور بچوں کو مارتا رہے تو غلطی مارنے والے کی نہیں بلکہ اُن غیرت سے عاری 57 مردوں کی ہے۔۔۔۔۔۔۔
یا مُجھے لکھنا چاہییے “ مُردوں” کی ہے۔
ریٹوئیٹ کرکے پُورے پاکستان کو دکھائیں۔
یہ اسرائیل وزیر اعظم کا ڈیجیٹل میڈیا کا ترجمان ہے۔ پہلے کہا اسرائیل نے بم مار کر ہسپتال تباہ کردیا اور جیسے ہی تمام دُنیا سے لعنتیں موصول ہونا شروع ہوئیں تو:
یہ ٹُوئیٹ ڈیلیٹ کر کہ کہنے لگا کہ حماس نے خُود حملہ کیا۔
ایسے حرامخور ہیں یہ۔۔۔۔۔۔۔
بریکنگ نیوز :
پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEO,S) نے تمام سرکاری سکولوں میں مراسلہ بھیج دیا
اور تمام طلباء کو سختی سے متنبہ کیا کہ اگر کوئی طالب علم نواز شریف کے پوسٹر پر جوتے پھینکتے ہوئے پکڑا گیا
تو اس طالب علم کو سکول سے نکال دیا جائے گا۔
یہ بچے جلدی ہی کر گئے اللہ کے پاس جانے کہ حالانکہ OIC نے تو اپنا وزاراتی اجلاس بلانے پہ مشاورت مکمل کر لی تھی ۔۔۔ دو چار روز میں مسلم ممالک کے وزیر یا انکے وزارتی نمائندوں نے مل بیٹھ کر کچھ سوچ ہی لینا تھا کہ اگے کہ اسرائیل کو کن الفاظ میں تنبیہہ کرنی مذمت پہنچانی ۔۔۔ بس ان بچوں کو جلدی تھی یہ عظیم امت مسلمہ کے عظیم وزیروں کے اجلاس کا مذمتی بیان سنے بغیر ہی اللہ کے پاس جا پہنچے ۔۔۔۔
ہم نے کہا تھا کہ ہم ہسپتال کو بم مار کر گرائینگے۔ کیوں نہیں خالی کیا ہسپتال ؟
اسرائیلی فوج کا ترجمان
یہ بیان اسرائیلی فوج کو بہت مہنگا پڑیگا۔۔۔۔۔۔یہ اقبالِ جُرم ہے۔۔۔۔۔
اسرائیل نے غزہ ہسپتال پر سٹرائیک کر کے 500 سے زائد بچوں حاملہ عورتوں ڈاکٹروں سمیت سینکڑوں لوگ شہید کر دئے .
57 اسلامک ممالک صرف مزمت کریں گے اور کچھ نہیں... تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام ہوگیا ہے آج اور ہم زبانی مزمت کریں گے بس
چوبیس لاکھ ایرانی باشندوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ کے لئیے اپنے آپ کو ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹر کروا لیا ہے۔۔۔۔۔۔
اور اگر پاکستانیوں سے بھی یہی پُوچھا جاۓ تو شائد پاکستان کے دفاع کے لئیے پُورے چوبیس کروڑ کھڑے ہوجائیں۔
ہر مُحبِ الوطن قوم یہی کریگی۔
اس 71 سالہ امریکی بُوڑھے صیہونی پرست نے شکاگو میں ایک چھے سال کے بچے کو 31 مرتبہ چُھریوں کے وار کرکے قتل کردیا ہے۔
چھریاں مارتے وقت چیختا رہا کہ تُم مُسلمانوں کو جینے کا کوئ حق نہیں۔ ماں کو بھی چھریاں ماریں جو زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
اللہُ اکبر۔ یہ نفرتیں۔ چھے سالہ بچے سے۔