ایسا کرتے ہیں ایک ملاقات رکھ لیتے ہیں
چائے کی پیالیاں، کچھ سوغات رکھ لیتے ہیں
میں بھی اداس ہوں تم بھی گُم سُم جاناں
محفلِ مشاعرہ اِس رات رکھ لیتے ہیں
تم آئے ہو بڑی چاہ سے بادل کے لیے
سو لے جاؤ ، ہم برسات رکھ لیتے ہیں
کچھ تو بھرم رہے کہ ہم بھی کبھی ساتھ رہے
ہم تحفتاً ایک دوسرے کی عادات رکھ لیتے ہیں
زندگی نے ہم دونوں کو بہت غم دیے
تم رکھو خوشیاں ، ہم تجربات رکھ لیتے ہیں
کچھ ایسا کرتے ہیں کہ یہ ملاقات یاد رہے
ہم قیدِ غزل میں یہ لمحات رکھ لیتے ہیں❤️
ہمیں اور ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا نشان چھینے پارٹی توڑی لیکن سلام ہے پاکستانی عوام کو جنہوں نے حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔
واللٰہ جسے اللّٰہ رکھے اسے کون چکھے !