ہفتہ کو شرپسندوں کا لوہڑ کاریز لائبریری پر حملہ, توڑ پھوڑ , لائبریری کے رضاکاروں کوزخمی اور انھیں جان سے مارنے , لائبریری کو بند کرنے کی دھمکیاں دیں, یاد رہے کہ ہر سال کی طرح امسال دس سے بارہ مارچ کو لائبریری کی جانب سے سالانہ سریاب لٹریری فیسٹیول کی تیاریاں جاری ہیں.
ہمارے لئے پشتون اور بلوچ ”یک جان دو قالب“ کی مانند ہیں۔ جب بھی کسی تعلیمی ادارے میں سے پشتون اور بلوچ طلباء کے آپس میں لڑنے کی خبر آتی ہے تو انتہائی دکھ ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس محنت کے خلاف ایک سازش لگتی ہے جو پشتونوں اور بلوچوں کے ایک متحدہ فرنٹ کی تشکیل کیلئے ہم کرتے رہے ہیں۔
بلوچستان کے علاقے بارکھان میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہکار عبدالرحمن کھیتران کے گھر کے قریب سے مزید دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں، لاشوں میں ایک خاتون اور ایک کمسن بچی کی ہے۔
زمینی خدا سردار عبدلرحمٰن کھیتران
گزشتہ دنوں اسی خاتون نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر تمام طبقہ فکر لوگوں سے دست بستہ اپیل کی تھی کہ وہ سردار کے نجی جیل میں قید ہیں اور وہ آئے روز انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اسلیئے انہیں آزاد کرائیں اور آج انکی لاش کونئیں سے ملی ، آخر کب تک ؟؟؟