بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء ڈاکٹر مارہ رنگ بلوچ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رہنماء سمی دین بلوچ کی کراچی بار ایسوسی ایشن کے پروگرام میں شرکت، تاہم اس موقع پر حکام نے بجلی بند کردی۔ پروگرام میں خلل ڈالنے پر وکلاء کا ماہ رنگ بلوچ سمی دین کے حق میں نعرے بازی
انتظامی نااہلی کے باعث یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ کئی مہینوں سے بند اور تعلیمی سرگرمیاں معطل
ہیں، طلبہ کو درپیش مسائل حل کئے جائیں
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
یونیورسٹی آف بلوچستان سے منسلک یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ میں امتحانات کی ملتوی و کلاسوں کی غیر فعالی طلبہ کے لیے تشویش کا سبب بن رہی ہے جس کی مزمت کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سےبلاجواز امتحانات کو ملتوی کرنے اور کلاسوں کی غیر فعالیت سے نا صر ف طالبعلموں کی تعلیمی سال ضائع ہورہی ہے بلکہ وہ زہنی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ کالج میں سیمسٹر فیسوں میں بے جا اضافہ اور انتظامی مسائل پر غیر سنجیدگی سمیت پرنسپل کی جانب سے غیرنصابی سرگرمیوں جیسے کہ کتب میلے، ویلکم اینڈ فئیرول تقریب پر قدگن لگانا ایک حقیقی تعلیمی ادارے کے برخلاف ہے جس سے طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے میں ناصرف مشکلات ہوگی بلکہ یہ عمل معاشرے کے لئے بھی نقصاندہ ثابت ہوگی۔
کالج کی انتظامیہ و پرنسپل اتنے نااہل ہوچکے ہیں کہ ہر چھوٹے مسلئے پرامتحانات ملتوی کیے جاتے ہیں یا پھر کالج کو ہی بند کیا جاتا ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے زیادہ کے عرصے سے کالج کے امتحانات کو ایک معمولی گروہ کے مسائل کو جواز بناکر ملتوی کیےگیے ہیں جو انتظامیہ کی نااہلی کی واضح مثال ہے۔ بجائے اس کے کہ انتظامیہ کالج کو درپیش مسائل کو حل کرکے ادارے کو فعالیت کی جانب لے جائے مگر وہ ہمیشہ طالبعلموں کو ہی نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ کالج کی ساری تعلیمی نظام کی غیر فعالیت کالج انتظامیہ کی غیرسنجیدگی سمیت ان کی ناہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کسی صوت قابل قبول نہیں ہے۔
بلوچستان کے تعلیمی ادارے پہلےسے حکومتی غیر سنجیدگی کے باعث تباہی کے دہانے پرہیں،دوسری جانب تعلیمی اداروں کی نااہل انتظامیہ کی وجہ سے روز نئے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں جس سے طالبعلم ہمیشہ زہنی پریشانی کے شکار ہوتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی اس طرح زبوں حالی سے معاشرے میں ترقی و علمی نشونما آنے کے بجائے قومیں زوال کی جانب جاتی ہیں۔
ہم بطور طلبہ نمائندہ تنظیم انتظامیہ سے واضح الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد حل کرکے کالج کے امتحانات منعقد کئے جائیں اور تعلیمی ادارے میں نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، اگر طالبعلموں کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
Breaking: Dr @MahrangBaloch_ in a latest statement from Gwadar has said that a human crisis is unfolding in Balochistan and military has taken over the region. She urges international community to take notice of the situation.
Administratively You parted us But emotionally we are connected like blood and flesh. By identity by culture and by sense of national consciousness we are only one “The Baloch”.
#MarchAgainstBalochGenocide
سمی دین بلوچ کے ساتھ جدوجہد کے رستے تب ملے جب وہ بہت کمسن تھی۔ آج سمی عمر میں اتنی بڑی نہیں ہوئی لیکن اپنے مزاحمتی قدکاٹھ کو بہت بڑا کر چکی ہے
دیگر بلوچ خواتین کے ساتھ سمی نے تمام ترقی پسند اور انسان دوست حلقوں کو مزاحمت کا ایسا رستہ دکھایا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
ایرانی حملے کی اصل کہانی ،
وزیرخارجہ کہہ رہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی وزیرخارجہ کو بتا کر بلوچستان میں مقیم ایرانی دہشتگردوں پہ حملہ کیا، مزید یہ کہ جس فورم پر ایرانی وزیرخارجہ یہ بیان دے رہے ہیں وہیں پاکستانی وزیراعظم انوار کاکڑ بھی موجود ہیں، پاکستانی "ادارے" آخر کب تک پاکستانی عوام سے جھوٹ بولتے رہیں گے؟؟؟؟؟
@HamidMirPAK@ICHRI@IranObserver0 #Iran_Pakistan #IranAttackPakistan #IranPakistanConflict #Balochistan #BalochGenocide