دشتِ وحشت کی آبلہ پائی میرے پاگل پٙنے پہ ہنستی تھی
میں ہواوں سے بات کرتا تو
وہ مُسافر سمجھ کے سُنتی تھیں
روز پاوں سفر پہ چل پڑتے
روز آنکھیں تلاش کرتی تھیں
اِک توقع تھی کوئی تو رستہ تیرے گھر کی طرف بھی جائے گا
اِک توقع تھی تُو کبھی نہ کبھی
میری آنکھوں کو مِل ہی جائے گا
عمران خان کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے کچھ چورن فروغ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں اور خبطی ہو گئے ہیں ابھی جب کمیشن بنے گا اور معلومات سامنے آئیں گی کہ کون کون سے نام نہاد تجزیہ کار امریکی سفارتخانے میں دوزانو رہے اور اس سازش میں مکمل شراکت دار تھے تو اور کانپیں ٹانگیں گی
عمران خان کے جلسے دکھانے کی پاداش میں منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے اس وقت اے آر وائی کی آواز دبانے کی کوشش ہو رہی ہے
کیا اس مشکل گھڑی میں آپ اے آر وائی کے ساتھ ہیں؟
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور#WeStandWithAry
پیش نگاہ آگ کا دریا ہے دور تک
ہے کون سا دیار مجھے کچھ پتہ نہیں
دشمن ہے کون فیصلہ ہو ہی نہیں رہا
ہے کون غم گسار مجھے کچھ پتہ نہیں
میں نے سدا خزاؤں سے رکھی ہے دوستی
ہوتی ہے کیا بہار مجھے کچھ پتہ نہی
دیکھ..! عبرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
گاٶں کے لوگ ہیں..٫ چالوں سے کہاں سمجھیں گے
ٹھوکریں کھا کر ہی سمجھیں گے نئی نسل کے لوگ..!
چھوڑ نا یار یہ لوگ مثالوں سے کہاں سمجھیں گے.
لازم ھـــے کہ ہرشـــام ہتھیلی پـــہ رکـــھوں دل
وہ شخص ناں آ کـر بھی تو مہمـــان ھــے میـــرا
جب پھـــول کسی شــاخ سے گـرتا ھے تو محسن
مجھ کـــو یہی لگـــتا ھے یہ نقصـــان ھے میـــرا
یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے
خدا یہ وقت تری آنکھ کو نہ دِکھلائے
اُسی کے نام سے لفظوں میں چاند اُترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے
جو کھو چکے ہیں اُنہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے
جو جا چکے ہیں اُنہیں کوئی کس طرح لائے
موسم بھی نہیں بدلا ، منظر بھی نہیں بدلا
اس شہر کو جانے کا ، رستہ بھی نہیں بدلا
کشتی بھی نہیں بدلی ، دریا بھی نہیں بدلا
ھم ڈوبنے والوں کا ___ جذبہ بھی نہیں بدلا
تم چھوڑ گئے جیسے ، سب ویسا ھی رکھا ھے
بستر کی وھی چادر ___ تکیہ بھی نہیں بدلا
#سوچ_کا_سفر
نہ بھولے گاترا راتوں کوشرماتے ہوئے آنا
رسیلی انکھڑیوں سے نیند برساتے ہوئے آنا
رخ روشن کے جلووں سے سحر کا نور بن کر
اندھیری رات کے پردوں کوسرکاتے ہوئے آنا
روپہلی چاندنی میں اپنی مستانہ خرامی سے
بہار وخواب کے سائے سے برساتے ہوئے آنا
محبت کےفرشتےکی طرح خاموش راتوں میں
#ادب_کا_سفر
فضاکونکہت گیسو سے مہکاتے ہوئےآنا
ترے پازیب کی جھنکار کا آہستہ آہستہ
وہ دھیمی دھیمی لےمیں گیت برساتے ہوئے آنا
ترےابریشمی ملبوس کاصرصرکےجھونکوں سے
سحاب رنگ و بو کی طرح لہراتے ہوئے آنا
بدن اپنا چرا لینا کبھی نظریں جھکا لینا
ہم آغوشی کے اندیشے سے گھبراتے ہوئے آنا