@TahirNaeemMalik Separation of power and non interference in each other affairs, downsizing of bureaucracy and stop recruitment of generalists in bureaucracy, implementation of rule of law and total respect and obedience to constitution and law
Visited the family of Saba Hyder to offer prayers for her health and to express my family and our party solidarity and support during this challenging period. We stand with them in hope and faith, and pray for her complete recovery. May Allah bless her with healing and a miracle
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پی پی پی کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کی خبر (چھٹا اور آخری حصہ)
ہم قومی مفاد کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں لیکن ن لیگ کے مفاد کے لئے ایک انگلی تک نہیں کٹوائیں گے۔ ن لیگ کے مفاد اور قومی مفاد کو چاہے وہ آزاد کشمیر کے تناظر میں ہو یا جی بی کے تناظر میں چاہے وہ وفاق کے تناظر میں ہو،۔ میں ان دونوں کنفیوز ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں آج بھی اسلام آباد میں، صوبوں میں، عالمی سطح پر قومی مفاد کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ ن لیگ اپنے مفاد کا خود خیال رکھے وہ میری ذمہ داری نہیں۔ آپ نے سہیل وڑائچ کی کتاب خان صاحب کے زمانے میںوہ کتاب دیکھی ہوگی کہ "یہ کمپنی نہیں چلے گی"۔ اب سہیل وڑائچ صاحب نے نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ حکومت کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ریاست کو، ملک کو ، قومی مسائل کو ایک سایہ دے۔ وہ درست کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت سایہ دینے میں ناکام ہوتی ہے یا وہ قابل ہی نہیں ہے تو پھر ان کے رہنے کا جواز نہیں رہتا۔ ان سیاسی جماعتوں جن کی عوام میں جڑ نہیں، جی بی ہو یا آزاد کشمیر کے پہاڑ ہوں وہا ں ان کے عوام کے ساتھ ان کا رابطہ کٹ گیا۔ جب انہیں عوام کی طاقت کی بجائے کسی اور طریقے سے حکومت بنانی پڑتی ہے تو انہیں زمینی حقائق کا احساس ہی نہیں ہوتاک اور نہ وہ زمینی حقائق کے مطابق اپنی پالیسی بنا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ریاست اور ملک کو سایہ دے سکتے ہیں یا وہ بفر بن سکتے ہیں۔ پی پی پی عوام کی نمائندہ ہے، تمام صوبوں میں ہماری جڑیں ہیں اور گہری ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت جی بی میں ہمارا واضح منڈیٹ ہے۔ جہاں تک قومی مفادکا سوال ہے تو جواب ہاں ہے اور اگر ن لیگ کا مفاد ہے تو نہیں۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے یہ تقریر نہ کرنی پڑے۔ میں سمجھا تھا کہ وہ ن لیگ کی بجائے قومی مفاد میں بات کر رہے ہیں۔ میں اس خیال کو مکمل رد کرنا چاہتا ہوں کہ میں حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کہا گیا کہ آدھا حکومت لے لیں لیکن میں نے منع کیااور کہا کہ انہیں حکومت پوری کرنے دیں۔ جیسے زرداری صاحب نے عمران خان کے لئے کہا تھا کہ وہ خود گریں گے تو جب وہ سایہ نہیں بن سکتے تو اس میں میرا قصور نہیں ہے۔ یہ اپنے لئے مسئلے پیدا کر رہے ہیں۔ جہاں تک بجٹ کی بات ہے ہم مل کر ایک نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دل بالکل نہیں کر رہا میں جا کر نہیں بیٹھوں گا۔ میرے نمائندے کچھ تعداد میں ضرور بیٹھیں اجلاس میں اور یہ پیغام بھیجیں کہ جہاں تک قومی مفاد ہے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ساری زیادتیوں کے باوجود ہم ابھی تک ادھر بیٹھے ہیں، کورم میری ذمہ داری نہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب وہ دن چلے گئے ہیں کہ آپ پی پی پی کے ساتھ جو کچھ بھی کریں اور میں آپ کو برداشت کروں۔ اب ان کی مرضی، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ میں جی بی کی پارٹی پر فخر کرتا ہوں اور وہاں کے عوام نے مجھے اپنے حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار دلوانے کے لئے مینڈیٹ دیا ہے اور انشااللہ تعالیٰ میں اس مینڈیٹ کے لڑوں گا۔ آزاد کشمیر کے تناظر میں ہم ریاست کے ساتھ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کا حل ہو۔ کوئی اگر قانون اپنے ہاتھ میں لے گا تو سختی سے نمٹا جائے لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سیاسی حل نکلے، بات چیت کے لئے ذریعے حل نکلے۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم کے سامنے کشمیر کے حوالے سے جو اعتراضات میں نے رکھے ہیں وہ انہیں ایڈریس کریں گے۔ نوید قمر کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آپ نے اس بجٹ پر اتنی محنت کی ہے تو آپ کو بیٹھنا پڑے گا، ہم ان کے بجٹ کے پراسس کو خراب نہیں کریں گے۔ اگر کسی کو یہ خیال ہے کہ پی پی پی کے ساتھ نا انصافی کرے اور میں خاموش بیٹھوں تو ایسا نہیں ہوسکتا۔