آیت نور کی ڈی این اے رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی۔ یاور عباس کی خبر ۔ پولیس سے میڈیا بریفنگ کا مطالبہ
آیت نور کیس میں گرفتار چار میں سے صرف ایک ملزم ہیں باقی تین اس کیس کے ملزم نہیں ہیں۔ ہری پور سے ڈان نیوز کے صحافی یاور عباس کا بڑا دعوی
سماجی رہنما عمران علی زئی نے بھی گرفتار ملزمان پر سوالات اٹھادئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ دو کا تو ہمیں معلوم ہے کہ یہ ملوث ہیں لیکن باقی دو کا ہمیں بھی نہیں پتا کہ وہ کون ہیں۔ اور آیا ان کو پریشرائز کیا گیا ہے یا کس بنیاد پر کیس میں شامل کیا گیا ہے
اس وقت ہری پور کے عوام سیاسی و سماجی رہنما اور صحافی ایک ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ آیت نور کیلئے ہائی کورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے کیوں کہ پولیس نے یہ کیس خراب کردیا ہے
#JusticeForAyatNoor
An 8-year-old girl was reportedly subjected to sexual assault and murder in Ahmedwal, Nushki district. Her body was shifted to Quetta for medico-legal procedures, and police have reportedly taken a suspect into custody.
ملک میں ایک سال اور ڈیڑھ سال اور چار اور پانچ سال کی بچیوں کے ساتھ جو یہ سنگین مظالم ہورہے ہیں تو مجرموں کو پتہ ہے کہ بھئی پولیس کا کام ہمیں بچانا ہے لہذا ریلیکس ہوتے ہیں ہنستے ہے پھر جب ایسے پولیس والوں کو کوئی ٹھوک دے تو سب روتے ہیں کہ پولیس کے ساتھ بڑا ظلم ہوا،جلانے کا من کرتا
یہ ڈیڑھ سال کی معصوم بچی کراچی کی آئزل ہے ۔ جس کیساتھ 4 اگست کو درندگی ہوئی اور آج 26 روز گزر چکے ہیں لیکن ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی ۔ بچی کی والدہ جب تھانے گئی تھی تو وہ بتاتی ہیں کہ ملزم منان ہنس رہا تھا ۔
جبکہ والدہ کہتی ہیں کہ ان کو بتایا گیا ہے ڈی این اے رپورٹ آنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں ۔
آیت نور کی موت کی وجہ تو کم از کم بتادی گئی ہے لیکن آئزل کے پوسٹ مارٹم میں وجہ کو محفوظ کرلیا گیا ہے بتایا نہیں گیا ۔ کیوں ؟
قصور کی زینب انصاری کی لاش 9 جنوری 2018 کو ملی۔ 12 جنوری تک DNA analysis سامنے آ چکا تھا۔ جبکہ 1150 لوگوں کا ڈی این اے لیا گیا اور 814 ملزمان سے ڈی این اے کو میچ کیا گیا تھا جس میں سے عمران علی کا میچ ہوا تھا ۔ جبکہ یہاں تو ملزم بھی گرفتار ہے اور ایک ہی ہے تو پھر اتنی تاخیر کیوں ؟
آئزل کی والدہ کے مطابق ملزم کے خاندان کی طرف سے منان کو کم عمر اور ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں انصاف کی امید نظر نہیں آ رہی اور وہ انصاف کے لیے سڑکوں پر آواز اٹھائیں گی۔
#JusticeForAyatNoor #JusticeForAizal
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
I thought for some times that Chinese are the cruelest on the planet earth
Then the Epstein files and this news changed my mind, I consider the Jews...
اختلاف کے دوران ایک دوسرے کے خلاف فریق بننے کے بجائے آگ بجھانے اور صلح کرانے والے بننا زیادہ بہتر ہے
پاکستان میں ویسے بھی حال ایسا ہے۔۔۔
ایسے میں اپنے بندے آپس میں ہی جھگڑنے لگے کھلے عام تو نقصان کا اندازہ ہی کیا جا سکتا
سب اپنے ہیں نوک جھونک تو انسانوں میں ہوتی ہی ہے
سوشل میڈیا پر آیت نور کیس کے مبینہ مرکزی ملزم کی یہ تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں یہ شخص بالکل اطمینان سے بیٹھا ہے اور کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ یہ پولیس کی زیر حراست ہے یا جیل میں تھا ۔
کپڑے تک صاف ستھرے ہیں ۔ اور اس پر مقامی لوگ بھی سوالات اٹھارہے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح کے کیسز میں گرفتار ملزمان اکثر بڑی مشکل سے اٹھنے بیٹھنے کے قابل رہتے ہیں ۔
عوام یہ مطالبہ کررہی ہے کہ آیت نور کے کیس کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ صحیح معنوں میں انصاف ہوسکے ۔
#JusticeForAyatNoor
سوشل میڈیا پر آیت نور کیس کے مبینہ مرکزی ملزم کی یہ تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں یہ شخص بالکل اطمینان سے بیٹھا ہے اور کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ یہ پولیس کی زیر حراست ہے یا جیل میں تھا ۔
کپڑے تک صاف ستھرے ہیں ۔ اور اس پر مقامی لوگ بھی سوالات اٹھارہے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح کے کیسز میں گرفتار ملزمان اکثر بڑی مشکل سے اٹھنے بیٹھنے کے قابل رہتے ہیں ۔
عوام یہ مطالبہ کررہی ہے کہ آیت نور کے کیس کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ صحیح معنوں میں انصاف ہوسکے ۔
#JusticeForAyatNoor
Malalai, a girl from Chaman, South Pashtunkhwa was beaten so severely on her face that one of her eyes got lost. Now, when her family shared the story with the media, The Mullah of her Madrassa is threatening her family with "consequences" for desriputing his Madrassa.
@wahidi4you خسیس غلاموں کی کیا اوقات جو اپنے آقاؤں کو مشورہ دے سکیں
خود انہیں بھی ان کی ذلالات کا پتہ ہے
بہرحال ابلیس کے فالورز ہیں کام تو ایک جیسے ہی ہونے ہیں
ابلیسی لونڈوں کی ابتدائی تصویر میں وہ کافی ریلیکس لگ رہے تھے گویا انہیں تحفظ کی پوری یقین دہانی کی گئی ہو
اس معاملے کی پوری تحقیق کرنی چاہئے
پولیس کے ان ہتھ کنڈوں سے صاف لگ رہا کہ کوئی بڑا مگرمچھ ملوث ہے
لیکن پاکستانی ریاست اور عدل/انصاف متضاد چیزیں ہیں
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہری پور آئے ۔ آیت نور کے گھر گئے ۔ والد کے گلے لگ کر رو پڑے ۔ ایک کروڑ روپے کا چیک اور سرکاری نوکری کا اعلان کیا ۔ مجرموں کو سخت ترین سزا دلانے کا اعلان بھی کیا ۔
لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہائیکورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اعلان کرنا چاہیے تھا کیوں کہ پولیس کی تفتیش مشکوک ہوچکی ہے ۔ پکڑے جانے والے ملزمان مشکوک ہیں ۔ کیوں کہ اگر ملزمان پکڑے جائیں اعتراف بھی کرلیں تو پھر بچی فوری بازیاب ہوجانی چاہیے تھی
لیکن تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ملزمان گرفتار ہوئے جرم کا عتراف بھی کرلیا لیکن بچی کئی روز تک پھر بھی بازیاب نہ ہوسکی ۔
جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی اور بھی ہے جو اس معاملے میں ملوث ہوسکتا ہے ۔
پھر بچی کے والد کا بیان کہ بچی 8 اگست کو لاپتہ ہوئی رپورٹ 12 اگست کو درج ہوئی ۔ پولیس نے غلط تاریخ درج کی ۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنا ضروری ہے ۔
آیت نور کے والد محمد شفیق خود کہتے ہیں کہ پہلے دس بارہ روز پولیس نے عملی کاروائی نہیں کی اگر وہ کرتے تو شاید بچی آج زندہ ہوتی
#JusticeForAyatNoor