کیا قرآن کو سمجھنے کے لیے کسی کتب روایات کی ضرورت ہے؟ جانئے قرآن سے ۔
روایت پرست اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ "احادیث کے بغیر قرآن کو سمجھا نہیں جا سکتا"۔ لیکن جب ہم خود قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ہدایت، نصیحت، فرقان، نور، بصیرت اور ہر چیز کی وضاحت قرار دیا ہے۔ اگر قرآن انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے تو یہ تصور کیسے درست ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ہدایت کی کتاب تو نازل کر دی مگر اس کو سمجھنے کے لیے کسی دوسری کتاب کا محتاج بنا دیا؟
اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ"
"اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟" (القمر: 17، 22، 32، 40)
یہ آیت ایک مرتبہ نہیں بلکہ ایک ہی سورت میں چار مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ اگر قرآن کو سمجھنا عام انسان کے بس کی بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے بار بار "آسان" قرار نہ دیتا۔
قرآن اپنے بارے میں یہ بھی کہتا ہے:
"وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ"
"اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔" (النحل: 89)
اسی طرح فرمایا:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ"
"کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟" (النساء: 82)
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے پہلے فلاں عالم، فلاں امام یا فلاں روایت کی طرف رجوع کرو، بلکہ براہِ راست قرآن میں تدبر کا حکم دیا۔
اصل مسئلہ قرآن کی مشکل زبان نہیں بلکہ انسان کے ذہنی تعصبات ہیں۔ جو شخص پہلے سے فرقہ وارانہ عقائد، موروثی نظریات اور مذہبی پیشوائیت کے تصورات کو حقِ مطلق سمجھ چکا ہو، وہ قرآن کو غیر جانبداری سے نہیں پڑھ سکتا۔ ایسے لوگ اکثر قرآن سے ہدایت لینے کے بجائے اپنے پہلے سے قائم شدہ عقائد کے حق میں دلائل تلاش کرتے ہیں۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ ہدایت ہر ایک کو نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں:
"ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ"
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔" (البقرہ: 2)
اسی لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف زبان جاننا کافی نہیں، بلکہ اخلاص، تقویٰ اور تزکیۂ نفس بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا"
"یقیناً کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔" (الشمس: 9)
جب انسان اپنے نفس، تعصب، اندھی تقلید اور فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بلند ہو کر صرف اللہ کی رضا اور حق کی تلاش کے لیے قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فہم و ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا"
"اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں۔" (العنکبوت: 69)
لہٰذا قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو قرآن کے تابع کرے، نہ کہ قرآن کو اپنی سوچ کے تابع بنانے کی کوشش کرے۔ جو شخص حق کی تلاش میں قرآن کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔ قرآن اپنی بہترین تفسیر خود ہے، کیونکہ اس کی آیات ایک دوسرے کی وضاحت کرتی ہیں، اور اللہ نے اسے ہدایت و نصیحت کے لیے آسان بنا کر نازل کیا ہے۔
احادیث کی کتب تاریخ کا حصہ ہیں بہت محنت سے لکھی گئیں لیکن کوئی روایت قرآن کریم سے ٹکراتی ہو گی تو رد کر دی جائے گی۔
سوال یہ نہیں کہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے تعصبات، موروثی عقائد اور اندھی تقلید کو چھوڑ کر قرآن سے ہدایت لینے کے لیے تیار ہیں؟
دعا کا اصل مقام: نماز کے دامن میں
جب ہم نماز کی نیت کرتے ہیں اور جب السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ کہہ دیتے ہیں تو نماز اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔
کتنا عجیب منظر ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہو، اُس کے کلام کی تلاوت کرے، اُس کے سامنے رکوع میں جھک جائے، سجدے میں اپنی پیشانی خاک پر رکھ دے، پھر بھی اپنی حاجات اور آہوں کو مؤخر کر کے نماز کے اختتام کا انتظار کرتا رہے!
حالانکہ نماز محض چند اذکار و حرکات کا نام نہیں، بلکہ بندے اور رب کے درمیان راز و نیاز کی ایک مقدس محفل ہے۔ یہی وہ ساعتیں ہیں جب آسمانِ رحمت کے در وا ہوتے ہیں اور عبد اپنے معبود کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ"
(المؤمن: 60)
"تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"
اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔"
(صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے دعا کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"پھر جو دعا اسے پسند ہو، مانگے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب بندہ رکوع و سجود میں، دو سجدوں کے درمیان، اور سلام سے قبل اپنے رب سے براہِ راست مخاطب ہو سکتا ہے تو اپنی فریادوں کو اُس لمحے سے باہر کیوں لے جائے؟
یقیناً نماز کے بعد دعا کرنا جائز ہے، اور بعض مواقع پر رسول اللہ ﷺ سے ثابت بھی ہے، خصوصاً کسی خاص ضرورت، اجتماعی دعا یا کسی درخواست کے موقع پر۔ لیکن دعا کا سب سے عظیم اور مسنون مقام خود نماز کے اندر ہے، جہاں بندہ دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوتا ہے۔
آئیے! نماز کو محض ایک فرض کی ادائیگی نہ بنائیں، بلکہ اسے اپنی تمناؤں، آنسوؤں، امیدوں اور دعاؤں کا گلستان بنائیں۔ شاید وہ دعا جو برسوں سے لبوں پر ہے، سجدے کی مٹی میں قبولیت کا پروانہ پا لے۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا 😍
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :’’ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، ۷ / ۱۲۹، الحدیث: ۶۵۸۹)
🚨پاکستانیوں توجہ سے پڑھیں اور صدقہ جاریہ سمجھ کر اگے فارورڈ کریں
خاموش قاتل چینی اور ہماری برباد ہوتی صحت کے متعلق
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ روزانہ جو چینی اپنی چائے میٹھے اور مشروبات میں استعمال کر رہے ہیں وہ دراصل آپ کے جسم کے اندر ایک سست رفتار زہر کی طرح کام کر رہی ہے؟
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے، کلینک میں آنے والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے آج ہمارے معاشرے میں شوگر ذیابیطس موٹاپا اور یہاں تک کہ کینسر جیسی مہلک بیماریاں وبا کی طرح پھیل چکی ہیں ان تمام مسائل کے پیچھے ایک ہی بڑی وجہ ہےاضافی چینی کا بے دریغ استعمال
چینی کیوں خطرناک ہے؟
شوگر ذیابیطس کی جڑ چینی خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی ہے، جس سے انسولین کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے یہ نہ صرف شوگر کا باعث بنتی ہے بلکہ جسم کے اعضاء کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے
خطرناک کینسر سے تعلق طبی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال جسم میں سوزش Inflammation پیدا کرتا ہےجو کینسر کے خلیات کی نشوونما کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے خاص طور پر پروسٹیٹ بریسٹ اور بڑی آنت کے کینسر کا چینی کے زیادہ استعمال سے گہرا تعلق پایا گیا ہے
دل کے امراض چینی جسم میں بیڈ کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائڈز کو بڑھاتی ہےجو شریانوں کو بند کر کے ہارٹ اٹیک اور فالج کا سبب بنتے ہیں
جگر کی تباہی چینی میں موجود فرکٹوز براہِ راست جگر پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے فیٹی لیورکا مرض عام ہو رہا ہے
قبل از وقت بڑھاپا چینی جلد میں موجود کولاجن کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے آپ عمر سے بہت زیادہ بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
یہ صرف ایک مشورہ نہیں بلکہ آپ کی زندگی بچانے کے لیے ایک انتباہ ہے چینی چھوڑنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں آپ کا جسم آپ کی امانت ہے آج ہی سے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس سے توبہ کریں
مٹھائیوں اور بیکری کی اشیاء سے پرہیز کریں
قدرتی مٹھاس پھلوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں
یاد رکھیں آج کی چھوٹی سی قربانی آپ کو کل ہسپتال کے چکروں اور دردناک بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اپنی صحت کو مقدم جانیں اور چینی کو خیرباد کہیں
جزاکﷲ 💯👍🤲❤️
درودِ ابراہیمی اور تاریخ کا آخری راز
ایک دعا جو ابھی تک آسمانوں میں جاری ہے.......
قرآن کھولیے...اور تاریخ کے دریاؤں میں الٹا سفر شروع کیجیے۔
ایک طرف ابراہیمؑ ہیں... دوسری طرف ان کی دعا ہے...اور تیسری طرف اللہ کا وعدہ۔
ابراہیمؑ نے عرض کیا:
"اے میرے رب! میری اولاد میں بھی ایسے لوگ پیدا فرما جو انسانیت کی رہنمائی کریں۔"
جواب آیا:
میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
یہاں سے ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ ابراہیمؑ کے گھر میں دو نسبتیں تھیں۔
سارہؑ...
اور ہاجرہؑ...
ایک نسل سے انبیاء کا طویل سلسلہ نمودار ہوا۔ پے در پے انبیاء اکرام کا مبعوث ہونا اللّٰه تعالیٰ کی توحید کا پرچم بلند کرنا جیسے
موسیٰؑ آئے...
داؤدؑ آئے...
سلیمانؑ آئے...
زکریاؑ آئے...
یحییٰؑ آئے...
اور پھر عیسیٰؑ آئے...
صدیوں تک آسمان کی خبریں اسی شاخ سے زمین پر اترتی رہیں۔ اسی شاخ سے توحید کی کونپلیں پھوٹتی رہیں ۔
مگر دوسری طرف...
ہاجرہؑ اپنے ننھے اسماعیلؑ کے ساتھ ایک وادی میں چھوڑ دی گئیں۔
ایسی وادی... جہاں نہ کھیتی تھی، نہ درخت، نہ پانی، نہ آبادی۔ نہ کوئی بندہ بشر دور دور تک ویران بے آب و گیاہ ریگستان ، مکمل سناٹا
بظاہر خاموش۔
مگر اللّٰه کے منصوبے اکثر خاموشی میں پروان چڑھتے ہیں۔ کیونکہ اللّٰه بڑی شان والا ہے وہ دانا ہے وہ حکیم ہے اس کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔
وہ ویران وادی بعد میں مکہ بنی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انسانیت کا مرکز بن گئی ۔مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔
بلکہ یہاں پر اللّٰه تعالیٰ کا گھر تعمیر ہونا تھا ۔
مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ یہاں بے آب و گیاہ ریگستان میں آب زمزم کا چشمہ پھوٹنا تھا ۔
مکہ
وہ ایک ایسی قدرت کی امانت تھی... جو وقت کے خزانے میں محفوظ رکھی گئی تھی..... صدیوں تک۔
یہاں تک کہ تاریخ ایک بلکل نئے اور نہایت خوبصورت موڑ پر پہنچی۔
پھر اسماعیلؑ کی نسل سے محمد ﷺ تشریف لائے اور یوں ابراہیمؑ کی دعا کا دوسرا سنہری باب کھل گیا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کہانی نے قیامت تک رہنا ہے اس لیے یہ ختم کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟
کہانی کا کلائمکس
ہر نماز میں جب ایک مؤمن بیٹھ کر درودِ ابراہیمی پڑھتا ہے تو وہ دراصل تاریخ کے دو عظیم دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ... كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ...
غور کیجیے...
"کما صلیت"
یعنی...
جس طرح تو نے ابراہیمؑ اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں...
اسی طرح محمد ﷺ اور ان کی امت کے وہ خوش نصیب جو دین ابراہیمی پر ہیں ان پر فرما ۔
یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ زمین سے آسمان تک بلند ہونے والی ایک مسلسل دعا ہے۔ وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا صلہ ہے ۔ جو اللّٰه تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے ۔
یہ ایک ایسی دعا ہے... جو چودہ سو سال سے ہر نماز میں دہرائی جا رہی ہے اور شاید اسی لیے تاریخ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کیونکہ اللہ کے منصوبے وقت سے بڑے ہوتے ہیں۔
عیسیٰؑ کا ذکر ہو،
یا علم کی وہ وراثت جو انبیاء چھوڑ کر گئے...
ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
انبیاء سونا اور چاندی وراثت میں نہیں چھوڑتے۔
وہ علم چھوڑتے ہیں۔
شعور چھوڑتے ہیں۔
ہدایت چھوڑتے ہیں اور یہی وہ میراث ہے جس کے ذریعے انسان زمین پر اللّٰه کی نشانیوں کو پہچانتا ہے۔
شاید اسی لیے قرآن جو فرقان حمید ہے ، جو ہدایت کی کتاب ہے یہ صرف ماضی کی کتاب نہیں.... بلکہ یہ مستقبل کا آئینہ بھی ہے۔
اور درودِ ابراہیمی صرف ایک دعا نہیں...یہ ابراہیمؑ سے محمد ﷺ تک اور محمد ﷺ سے قیامت تک پھیلا ہوا ایک زندہ رشتہ ہے.
آج روئے زمین پر بسنے والے مسلمان اپنی صلواۃ میں دن رات ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت کی دعا پڑھتے ہیں ۔
اور جب بھی ہم "بارک علی محمد" پڑھتے ہیں تو ہم اس وعدے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم ابراہیمؑ کی دعا کا جواب ہیں۔ ہم ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے گواہ ہیں ۔ہم اسماعیلؑ کی نسل کا مان ہیں۔ ہم اسمعیل علیہ السلام کی نسل کے امین ہیں ۔سوچیں، ہماری ہر صلواۃ ایک تاریخ لکھ رہی ہے۔ اور یہ تاریخ قیامت تک لکھی جائے گی۔
ابراہیم علیہ السلام اور ان کی مومن آل اولاد پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں بیشک ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلم تھے اور ان کے اس خوبصورت عقیدے کو پسند فرما کر اللّٰه تعالیٰ نے ہمارا اور ہم سے پہلے والو کا نام مسلم رکھا ۔
تو بتائیں، جب ہم ہر نماز میں یہ درود پڑھتے ہیں، کیا ہم اس عظیم وراثت کا حق ادا کر رہے ہیں؟ یا بس الفاظ دہرا رہے ہیں؟؟؟؟
تحریر: حنا محسن
میں ایک ترک نغمہ نگار اور موسیقار ہوں، اور کشمیر اور فلسطین سے متعلق اپنے گیتوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بعض پابندیوں کا سامنا کر رہا ہوں۔
میں پاکستان سے بہت محبت کرتا ہوں اور مجھے آپ کی حمایت کی ضرورت ہے۔ براہِ کرم میرے صفحے کو فالو کریں اور میری پوسٹس کی حمایت کریں۔
آپ کی محبت اور حمایت کا بہت شکریہ۔ 🇵🇰❤️🇹🇷
👀 میں مردہ باد 👀
آج فیروز پور روڈ لاہور پر مائیکل اپنے لوڈر رکشہ پر جاتا دکھا، اظہار راۓ کے لیے موجود گھٹیا ترین حالات میں بھی کیا شاندار طریقہ ڈھونڈا ہے مائیکل نے احتجاج کا۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عام آدمی سے مکمل طور پر کٹا ہوا “بچہ جمہورا نظام” مائیکل کے یہ فلیکس بھی برداشت نہیں کر پاۓ گا۔ اللہ ہمارے سائکلیں کھینچتے، بوریاں لوڈ کرتے، مزدوری کرتے، کھیت سینچتے، اپنے خاندان کے لیے خواب دیکھتے مائیکلوں کی خیر رکھے، زندہ رہنے کے حالات تو نہیں رہے لیکن شام کے سب پروگراموں میں ملک اونچی اڑان بھرتا ہے ہر روز۔اسی لیے مائیکل نے لکھ دیا کہ سب زندہ باد بس میں مردہ باد۔