جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
مزمل اسلم صاحب جب گنڈاپور کو ہٹایا گیا تو عمران خان سے سلمان اکرم راجہ سمیت سب نے ملنے کی کوشش کی ،جرنیلوں نے صرف آپ کو ملنے دیا، آپ اپنا اپرول لے کر آ گئے
موجودہ حالات میں جب جرنیلوں نے ہمارے لیڈر کی بینائی چھین لی، ظلم کی انتہا کر دی ایسے میں ہم ان کو پیسے نہیں دے سکتے
شہباز گل
طاقت کے ایوانوں کو جب عوامی احتساب کا پھندہ اپنی گردن پر تنگ ہوتا محسوس ہوتا ہے تو خبر آتی ہے کہ عمران خان کے لیے عدالتی ریلیف کا اعلان۔ کیا نااہل ٹولے کے من پسند جج ان کے جتنے ہی نااہل ہیں کہ عوام کو انہیں یہ بھی یاد دلانا پڑے کہ عدالتوں کا کام ریلیف نہیں بلکہ انصاف دینا ہے۔ کل ان کا بنی گالہ سے آیا ضرورت کا سامان واپس کر دیا گیا، چھ ماہ سے کسی نے انہیں دیکھا نہیں، بنیادی طبی سہولتیں حاصل نہیں۔
ججوں کو شرم آنی چاہیے، ہر ہفتے عدالتی احکام کی پامالی ہوتی ہے تو راتوں کو لگنے والی عدالتوں کے جج ان پر ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ ان کے وکالت نامے 25 مئی سے جیلُ حکام کے پاس ہیں جن پر دستخط تک نہیں ہو پائے ہیں۔
عسکری ججوں کے لئیے کیا ایک ڈکٹیٹر کا حکم نامہ اللہ کی اس کتاب سے بڑھکر ہو گیا ہے جس پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا!
#ShameOnJudges
#WhereIsImranKhan
ماشاءﷲ۔ قوم کو مبارک ہو۔ غربت تو نہ ختم ہوئی، نہ کم ہوئی لیکن "غریب" کی definition بدل گئی۔
اب 8 ہزار روپے کمانے والا خود کو ارب پتی تصور کرے اور 8 ہزار کو مہینے میں اتنی بار گنے جب تک وہ 8 ارب نہ لگنے لگے۔ 👏👏👏
یہ صرف جاہل نہیں بلکہ جاہلیت کے اعلی رتبے پر ہیں - یعنی 8,483 روپے ماہانہ اور روزانہ 282 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے؟ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیئے اور غربت ختم کرنے کا دعوی کرنے کے لیئے ایک بیہودہ ترین فارمولہ لگا دیا ہے- انہتائی افسوسناک اور شرمناک
امریکی کہتے ہیں کہ
"There is no Free Lunch"
لیکن سہیل خان آفریدی ایسا لیٹا ہے کہ وفاق کو خیبر پختونخوا کے بجٹ سے 3 سے 400 ارب دینے کو تیار ہو گیا ہے۔
او بھائی تم لوگ پاگل ہو؟ تمہارے پاس ایک صوبے کی دو تہائی اکثریت والی حکومت ہے،
تمہیں عمران خان کی رہائی کی شرط ٹیبل پر رکھنی چاہیے،
اور مختلف طریقوں سے عمران خان کی دہائی کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے۔
ن لیگ کے پاس کسی بھی صوبے میں حکومت نہیں تھی لیکن انہوں نے نواز شریف کو جیل سے نکلوا لیا تھا، تم لوگوں کے پاس عوامی طاقت، اقتدار کی طاقت سب کچھ ہے لیکن صرف غیرت نہیں ہے تم میں جو عمران خان چار سال گزرنے کے باوجود رہا نہیں کروا سکے تم لوگ اسے۔
سٹریٹ موومنٹ سہیل آفریدی اپنی مرضی سے روک لیں
گلگت الیکشن میں اپنی مرضی سے نہ جاہیں
محسن نقوی سے خفیہ ملاقاتیں اپنی مرضی سے کریں
صوبائی بجٹ سرپلس، شہباز، احسن اقبال ، مولانا سے مرضی سے ملیں
لیکن خان رہائی تحریک ، قیادت کرے یا خان کا حکم آئے۔۔۔۔۔واہ
پہلی دفعہ قبل از وقت میڈیا پر عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کی خبر دی جا رہی ہے
بجٹ کیلئے ساری باتیں منوانے اور سہیل آفریدی کو راستہ دینے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے
ملاقات ہوئی تو اصل بات باہر نہیں آئے گی۔ اور اگر نہیں ہوتی تو باہر ملاقات ہونے کا بتایا جائے گا
اس ملاقات کی ویڈیو جاری کی جائے
ورنہ کسی پر یقین مت کریں
اور ٹھوک کے رکھیں
جان کر فیک خبر چلوائی گئی ہے تاکہ عوام کا فوکس ہٹایا جا سکے۔ محسن نقوی کی سہیل آفریدی سے ملاقات، کے پی کے کا سرپلس بجٹ دینا، خان صاحب سے ملاقات کے بغیر بجٹ کو پیش اور منظور کرنا، اور باقی تمام چیزوں سے فوکس ہٹانے کے لیے ہی یہ خبر چلوائی گئی تھی۔
لیکن مجھے حیرت قیادت پر ہو رہی ہے کہ یہ کیسے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں، حالانکہ ان کو پتا ہے کہ خان صاحب کو کسی جگہ نہیں لے کر گئے ہیں۔ اگر یہ واقعی خان صاحب کے اتنے سگے ہوتے تو تب کیوں نہیں پمز گئے، جب خان صاحب کو تقریباً چار سے پانچ مرتبہ وہاں لے کر آئے تھے؟ اگر سگے ہوتے تو تب پمز آ جاتے۔
لیکن یہ سب ڈرامے کیے جا رہے ہیں اور آپ کا فوکس اصل ایشوز سے ہٹایا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کے پی بجٹ کا بڑا حصہ ملٹری جنرلز کو دے دیا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ ہاتھ باندھ کر تصویر بھی بنوا لی ہے۔ باہر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان سے پوچھے بغیر پیسے نہیں دے سکتا لیکن اندر وہ سب باتیں مان چکے ہیں، شہباز گل
آج خلیل الرحمان قمر صاحب نے مجھے روتے ہوئے کال کی۔کہنے لگے میں اور میری بیگم رات سے یوں رو رہے ہیں جیسے ہمارے اپنے بچے مر گئے ہوں۔ہم نے سروس کے دوران 6 برس آزادکشمیر میں گزارے۔ کوٹلی میں شہید ہونے والا احسن سلیم میرے دوست کا بیٹا تھا جو آزادکشمیر میں 6 سالہ ملازمت کے دوران بینکنگ سیکٹر میں میرا کولیگ تھا۔جب میں نے تعزیت کے لیے اپنے دوست سلیم کو فون کیا تو اس 66 سالہ بوڑھے نے رو کر مجھے کہا کہ خلیل الرحمان قمر تو نے میرا بیٹا مار دیا ہے۔میں نے بطور پاکستانی اسے کہا کہ ہاں دوست میں بھی تیرے بیٹے کا قاتل ہوں۔میں بطور پاکستانی آپ سب کشمیریوں سے معافی مانگتا ہوں۔
صوبائی کابینہ پوری کرنا
فیصل کریم کنڈی سے ائے روز ملاقاتیں
مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقاتیں
وفاقی وزیر احسان اقبال سے ملاقات
آج شہباز شریف سے بجٹ پر ملاقات
بجٹ میں 305 ارب روپے وفاق کو دینا
صوبائی بجٹ تیار کرنا اور کابینہ سے پاس کرنا
یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہا ہے لیکن جب سوال ہوتا ہے کہ خان صاحب کی رہائی کیلئے تحریک کا اعلان کا کرو تو آگے سے کہتے ہے کہ جب خان صاحب کا حکم ائے گا تب ہم نے کرنا ہے باقی ہر ایک کام خان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ہو رہا ہے لیکن جو اصل کام ہے خان صاحب کی رہائی کی تحریک وہ کام یہ نہیں کر رہے ۔۔!
سہیل آفریدی کی ترجیحات۔۔۔۔
خان صاحب سخت گرمی میں بند ہیں
مکمل طور پہ ہے ائیسولیٹ ہے لیکن سہیل آفریدی اپنی حکومت بچانے کے لیے ان لوگوں کے اگے لیٹ چکا ہے۔۔۔۔۔
کل بھی خان صاحب کی بہنیں سخت دھوپ میں اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھیں
لیکن سہیل آفریدی صرف اپنے ایک اقتدار کی ہوس میں اتنا بدمست ہو چکا ہے
کہ اس کو کچھ اور نظر نہیں آ رہا۔۔۔
بس ملاقاتیں کمپرومائز اور لیٹنا ہی شروع کر دیا ہے۔۔۔۔
بس اسی طرح اپنا اقتدار بچا رہا ہے
خان صاحب بے شک قید میں رہیں۔۔۔
اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
سفینہ خان نے زیشان عزیر پر اسٹلشمنٹ کے پے رول ہونے کا الزام لگایا،، زیشان عزیز نے اہسی کی تیسی پھیر دی،، سفیہ خان کا حال بھی جواد احمد جیسا ہونا شروع ہوگیا یے
سہیل آفریدی کے لئے ایک برادرانہ مشورہ یہ ہے کہ جلد از جلد اپنے دائیں بائیں صفائی کرے اور جو لوگ غلط مشورے دیتے ہیں اور خوشامد میں حد سے اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ الٹا اسی کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچانے لگ جاتے ہیں، ایسے کرائے کے ٹٹووں سے جلد از جلد جان چھڑائے
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
گلگت بلتستان میں جب عوام پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالنے کیلئے نکل آئی ہے تو اب پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں اور ووٹ کاسٹ نہیں کرنے دیے جا رہے ہیں