“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
Alert : 🚨
Two Unidentified individuals on bike with weapons and Bandoliers were sighted at Khan Baba Ghari area of Bakhshu bridge, Peshawar
34.063018,71.573635 latitude longitude for more visibility
#ISPR
On 1 October 2025, security forces conducted an intelligence based operation in Khuzdar District of Balochistan, on reported presence of terrorists belonging to Indian proxy, Fitna al Hindustan.
During the conduct of operation, own forces apprehended four Ts trying to flee cowardly by disguising in women attire. Weapons and ammunition was also recovered from the terrorists, who remained actively involved in numerous terrorist activities in the area.
Sanitization operation is being conducted to eliminate any other terrrorist found in the area, as the security forces of Pakistan are determined to wipeout the menace of Indian sponsored terrorism from the country, and reaffirm the nation’s unwavering resolve to bring the perpetrators of terrorism to justice.
In Karak’s Shah Saleem, security forces and police conducted a joint intelligence-based operation against Fitna al-Khawarij’s Mullah Nazir group in the Darsha Khel area.
The Forces encircled a group of 22 militants.
With precise maneuvers, the cordon was tightened and action taken, resulting in 17 terrorists being killed, while 7 to 10 others were reported critically injured.
Peace in the area will not be allowed to be disturbed under any circumstances.
BREAKING: CIVILIAN FAMILY ELIMINATES 14 TTP TERRORISTS IN KARAK
A Pakistani civilian family conducted a target-of-opportunity counterterrorism operation today after an entire Tashkeel of Fitna al-Khawarij/TTP terrorists hijacked their home in Banda Daud Shah, Karak.
The terrorists demanded food intending to rest and eat in the home before moving on to conduct terror attacks. The homeowners then proceeded to lace the food (Biryani) with potent, fast-acting poison, which the terrorists ate. After some members of the Tashkeel started convulsing and dying, others attempted to reach a nearby hospital, however could not reach the hospital in time. The brave and laudable act of the civilian family ultimately resulted in the elimination of all FOURTEEN (14) Khawarij terrorists of the Tashkeel.
The Khawarij must not be given shelter in homes, neighborhoods, or mosques. Anyone who provides them refuge should be treated as part of the terrorist ranks.
There must be no ambiguity regarding the Khawarij. Every political party must oppose them. Anyone attempting to protect them through excuses or loopholes should be removed from politics and held accountable.
فتنہ الخوارج کی جانب سے شہداء کی میتوں کی بے حرمتی، اسلام و شریعت کے لحاظ سے گناہ کبیرہ ہے
لاشوں کی بے حرمتی اسلام کے منافی ہے
اسلام امن، رحمت اور انسانی وقار کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت دی ہے اور یہ عزت موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن فتنہ خوارج کی روش یہ رہی کہ وہ نہ صرف بے گناہ مسلمانوں کو شہید کرتے بلکہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کرتے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں صریح کبیرہ گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور بے شک ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی۔"
(سورۃ الإسراء، 17:70)
یہ عزت زندگی اور موت دونوں پر محیط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مُردے کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا۔"
(سنن ابو داؤد، حدیث 3207)
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے۔ صحابہؓ نے کہا: یہ تو یہودی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"کیا یہ جان نہیں ہے؟"
(صحیح بخاری، حدیث 1312)
یہ بتاتا ہے کہ حتیٰ کہ غیر مسلم کی لاش کی بے حرمتی بھی جائز نہیں، تو مسلمانوں کے شہداء کی لاشوں کی بے حرمتی کیسے جائز ہو سکتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے خوارج کے بارے میں فرمایا:
"وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔"
(صحیح بخاری، حدیث 3344)
*یہی ان کی پہچان ہے کہ وہ امت کے شہداء اور صالحین کی بھی بے حرمتی سے باز نہیں آتے۔*
میتوں کی بے حرمتی اسلام میں صریح حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ عمل صرف فتنہ خوارج کی پہچان ہے، جس سے نبی کریم ﷺ نے ہمیں بار بار خبردار کیا۔
Breaking:
A TTP Terrorist Disguised as Woman Arrested While Fleeing
🔺️Watch 📹 : @Shadowfox_11
In Bajaur, security forces apprehended a TTP terrorist attempting to escape while disguised in a burqa.
Ongoing military operations have severely weakened the Khawarij, restricting their movement to the point that they are resorting to disguises.
ہو امن و سکوں یا جنگی جنوں ، میں ہر دم ہوں تیار
میں محنت کش،میں آہن مرد،
صمصام کی تلوار
ہدف کا چکنا چور کروں میں سعد کا پیروکار
عبیدہ کا جراح ھوں , سخت لشکر کا سالار
عدو کو چیرے جو لکارِ صدق ، میں وہ جعفرِ طیار
تقوی ایمان طلحہ کا، میں جری جانثار
جو ضرب ہے وہ کاری ہے، میں حیدرِ کرار
صمصام کا مردِیزداں ھوں،مرصوص کی دیوار
ہو امن و سکوں یا جنگی جنوں میں ہر وقت ہوں تیار
میں محنت کش، میں مرد آہن،
صمصام کی تلوار