اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔"
(سورہ التوبہ، آیت: 119
#اردو_زبان#قومی_زبان
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
کوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنے
ایسی تصویر بنا روتے ہوئے خوش بھی لگوں
غم کی ترسیل تو ہو غم کا تماشہ نہ بنے
جتنا پختہ بھی ہو دل جسم سے باہر رکھنا
تاکہ ٹوٹے بھی تو پھر سینے میں ملبہ نہ بنے
#قومی_زبان
مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گی
تھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گی
تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہوں گے
ہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہوں گی
#قومی_زبان
جس دن سے شکاری نے ادا کی کوئی منت
دربار پہ اس دن سے کبوتر نہیں جاتے
• سو تم مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے نہ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں، سب مر نہیں جاتے
#قومی_زبان
• ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے
ہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتے
• دیکھو مجھے اب میری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے
• بد نام ہیں صدیوں سے ہی کانٹوں کی وجہ سے
عادت سے مگر آج بھی کیکر نہیں جاتے
#قومی_زبان
دیکھ نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
گاؤں کے لوگ ہیں چالوں سے کہاں سمجھیں گے
ٹھوکریں کھا کر ہی سمجھیں گے نئی نسل کے لوگ
چھوڑ ناں یار، مثالوں سے کہاں سمجھیں گے
#قومی_زبان
وقت نے چھین لیے شوق بھی، امید بھی اب
کسی خواب کا آنکھوں میں غبار نہیں رہتا
خود سے ملنے کی بھی فرصت نہیں ملتی مجھے
اور لوگوں سے بھی ملنے کا مدار نہیں رہتا
#قومی_زبان
جو آئے تم حال پوچھ لیتے تو اتنی لمبی نہ عمر لگتی۔
وصل کی اک گھڑی میں سارے گزر گئے ماہ و سال ہوتے۔
اسے مبارک مقام اونچا، سہی حقیقت ہمیں پتہ ہے۔
بناتے رشتوں کی ہم بھی سیڑھی تو آسمان کی مثال ہوتے۔
#قومی_زبان
نہیں تھا اپنا مزاج ایسا، کہ ظرف کھو کر انا بچاتے۔
ورنہ ایسے جواب دیتے کہ پھر نہ پیدا سوال ہوتے۔
ہماری فطرت کو جانتا ہے تبھی تو دشمن یہ کہہ رہا ہے۔
ہے دشمنی میں بھی ظرف ایسا جو دوست ہوتے کمال ہوتے۔
#قومی_زبان
خاک ہوتی ہے فقط خاک میں ملنے کے لیے
ہم ہیں اس واسطے مٹی سے بنائے ہوئے لوگ
ضبط کی حد بھی یہاں ٹوٹ کے بکھری ہے ابھی
میری آنکھوں سے نکل آئے چھپائے ہوئے لوگ
زینؔ ہنس ہنس کے اسی بات پہ روؤں میں کبھی
مجھ سے روٹھے ہوئے رہتے ہیں منائے ہوئے لوگ
#قومی_زبان
دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ
دیکھ کس حال میں رہتے ہیں ستائے ہوئے لوگ
بارشیں یوں بھی سبھی زخم ہرے کرنے لگیں
یاد آنے لگے آنکھوں سے بہائے ہوئے لوگ
منتظر اب یہاں خواہش ہے نہ میّت ہے کوئی
اس قدر دیر سے لوٹے ہیں بلائے ہوئے لوگ
#قومی_زبان
منتشر خاک کو آئینے سے نسبت کیا ہے
اک تحیّر کے سوا میری حقیقت کیا ہے
جو سفر اوڑھ کے نکلے ہیں وہی جانتے ہیں
دھوپ کے دشت میں سائے کی رفاقت کیا ہے
ٹوٹ جائیں تو مکمل نہیں ہونے دیتی
جانے اس نیند کو خوابوں سے عداوت کیا ہے
#قومی_زبان
جسم کی قید سے اک روز گزر جاؤ گے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوئے مر جاؤ گے
وقت اس طرح بدل دے گا تمہارے خدو خال
اپنی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
#قومی_زبان
ہونے تھے جتنے کھیل، مقدر کے ہو گئے
ہم ٹوٹی ناؤ لے کے سمندر کے ہو گئے
خوشبو ہمارے ہاتھ کو چھو کر گزر گئی
ہم پھول سب کو بانٹ کے پتھر کے ہو گئے
#قومی_زبان
جنھیں گلے ہوں وہ آئیں اور آ کے بات کریں
دلوں کی میز پہ بیٹھیں، مذاکرات کریں
عجیب ہے کہ عبادت کے نام پر ہم لوگ
خدا سے غیر مناسب مطالبات کریں
خزانہ مل چکا، خیر اس سے سندباد کو کیا
سلوک جو بھی سمندر سے حادثات کریں
#قومی_زبان