@Ahmad__Mukhtar@Nasrullah_shah1 Brother, I got 16,010 bill for 306 units. We are using one 1.5 AC 20+ hours. 2 Fans, 7-8 lights, 1 small size single door fridge, Iron, 3 laptops with around 100 watts of chargers, and a water pump.
آپ پاکستان،اسکے اداروں،عسکری و سیاسی قیادت کو گالیاں دیں،دھمکیاں دیں،جھوٹی خبریں پھیلائیں،دشمن ملک کے بیانیے کو بڑھائیں،دہشت گردوں کے وکیل بنیں،سب چلے گا اور خیریت رہے گی۔لیکن اگر آپ گلگت میں جلائے گئے جوانوں کے قاتلوں کی گرفتاری کی بات کریں،کسی دوسرے ملک کے وکیل کے افواج پاکستان کے بارے میں کہے گئے نازیبا الفاظ پر تنقید کریں یا کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کی سازش کی تحقیقات کا مطالبہ کریں یا ایسے مواد پر مبنی پوسٹ کو شیئر/ ریٹویٹ کریں تو آپ سے معافی منگوانے پولیس آپ کے گھر پہنچے گی ۔ بات مان لی تو ٹھیک وگرنہ آپ کی جیب سے ال قا عدہ کی ممبر شپ کا کارڈ نکلے گا۔جس کے بعد آپ غیر معینہ مدت تک غیابت صغریٰ یا کبریٰ کا جبری شکار بھی ہو سکتے ہیں،بھوکے پیاسے عالم بالا بھجوائے بھی جا سکتے ہیں یا طبعی موت تک غیوبت ابدی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔آپ کیلئے بہتر ہے کہ ملک خداداد پاکستان میں نفاذ فقہ جعفریہ کی "پُرامن جدوجہد" میں شامل ہو کر سکون کی زندگی جئیں۔
اطلاع کے مطابق، گزشتہ اتوار کو ایم فل (M.Phil) سکالر اور معروف 'Eon Podcast' سے وابستہ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ حافظ محمد سعد بن ریاض کو ان کے گھر کے اندر سے جبرا اٹھایا گیا۔ پھر بعد می ایک ایسی ایف آئی آر (FIR) منظر عام پر آئی ہے، جس کے مندرجات پہلی نظر میں ہی ایک 'بوگس' اور من گھڑت کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے لکھی گئی کہانی کے مطابق، لاہور میں پیدا ہونے اور یہیں پرورش پانے والا یہ پڑھا لکھا نوجوان، مبینہ طور پر الـقاعدہ کا 'ممبر شپ کارڈ' جیب میں رکھ کر، نہ صرف سرِ عام الـقاعدہ کے اشتہار جیسی کتابیں لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا بلکہ لوگوں کو علی الاعلان اس کالعدم تنظیم میں شمولیت کی دعوت بھی دے رہا تھا۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک 'سورس' نے اسے یہ سب کرتے دیکھا اور پھر پولیس کو آ کر اس کی اطلاع دی، جس کے 20 منٹ بعد پولیس نے اسے 'اکیلا' ہی قابو کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر وہ تمام لوگ جن میں کتابیں تقسیم کی جا رہی تھیں یا جنہیں دعوت دی جا رہی تھی، وہ سب کے سب پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں تحلیل ہو گئے اور ان کا کوئی ذکر ایف آئی آر میں موجود تک نہیں۔
اس طرح کی بچکانہ اور 'عمر عیار' کی داستانوں جیسی کہانیاں گھڑنے اور ایک پڑھے لکھے شہری پر دہشت گردی جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے والے اہلکاروں کی "تخلیقی صلاحیتوں" پر تو انہیں 'تمغہ حسنِ کارکردگی' ملنا چاہیے۔ یہ ایک انتہائی مکروہ اور شرمناک رجحان ہے کہ کسی صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے خیالات یا بیانات سے اختلاف کی صورت میں اسے دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا جائے، تاکہ انتقامی کارروائی کے طور پر اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جا سکے۔
میں سعد کو کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر فالو کر رہا ہوں۔ میں نے اسے اکثر ڈیجیٹل محاذ پر بھارتی ٹرولز (Trollers) کے خلاف سینہ سپر ہو کر پاکستان کا مقدمہ لڑتے اور ملکی مفاد کا دفاع کرتے ہی دیکھا ہے۔ ایک ایسے نوجوان کو، جو بیرونی پراپیگنڈے کے خلاف پاکستان کی ڈھال بنا رہتا ہو، آج اپنے ہی ملک میں دہشت گردی کے بوگس الزامات کا سامنا ہے۔
ریاستی اداروں کو سوچنا چاہیے کہ اختلافِ رائے کو دہشت گردی سے جوڑنے کی یہ پالیسی نہ صرف عدل و انصاف کے منافی ہے بلکہ اس سے نظامِ عدل کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
@prince_soomro1@CSMR786 آپ نوکیا موبائلز کو دیکھ کر یہ سوچ رہے ہوں گے لیکن اب ان کے پاس وہ کلپس نہیں ہیں، اس کے بجائے ان کے پاس صرف پوائنٹس ہیں جو سالوں تک چل سکتے ہیں۔
پاکستان نے ایران پر اسرائیل امریکہ حملے کے دوران جس طرح اس کو عرب ایران جنگ بننے سے روکا۔ پھر جنگ بندی اور ثالثی میں جو کردار ادا کیا ہے۔۔۔
اُس نے اسرائیل اور اس کے حواریوں و پالتوں کی امیدوں پر پانی پھر دیا دیا ہے۔ اسرائیل کے تنخواہ یافتہ لندن سمیت کئی مغربی شہروں میں پاکستانی سفارتخانوں کے باہر جمع ہوئے، اور پاکستان کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔
اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر ہے۔ جبکہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان پسِ پردہ زبردست جنگ چل رہی ہے۔ اسرائیل ہر قیمت پر جنگ دوبارہ بھڑکانہ چاہتا ہے، جبکہ پاکستان اس جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے پورا زور لگائے ہوئے ہے۔
Consciences are deaf, and the world is mute!
The innocent ten-year-old child, who was kidnapped by Israeli soldiers a week ago, was brutally killed yesterday.
This is not a war crime, but a massacre of ethics.
مہدی حسن نے برطانوی صحافی کی بولتی بند کر دی۔
مشرق وسطیٰ کے کس ملک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں؟ ایران کے نہیں اسرائیل کے پاس ہیں. پچھلے سال مشرق وسطیٰ کے کس ملک نے چھ ممالک پر حملہ کیا؟ یہ ایران نہیں، اسرائیل نے کیا تھا۔مسئلہ اسرائیل ہے۔
دنیا کو اسرائیل کی جوہری طاقت پر فکرمند اور محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی بین الاقوامی جوہری ضابطے کا پابند نہیں، نہ ہی این پی ٹی (NPT) معاہدے یا کسی اور عالمی پابند معاہدے کا رکن ہے۔
اس کے برعکس پاکستان تمام بین الاقوامی جوہری ضوابط کا پابند ہے، اور ہماری جوہری صلاحیت صرف اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہے تاکہ دشمنوں کے معاندانہ عزائم کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ہم اپنے ہمسایوں کے خلاف کسی بھی قسم کی بالادستی کی پالیسی نہیں رکھتے، جیسا کہ آج کل اسرائیل کی پالیسیوں میں کھل کر نظر آ رہا ہے۔
مغربی دنیا کو اسرائیل کی پیدا کردہ ان کشیدگیوں پر فکرمند ہونا چاہیے، کیونکہ یہ تنازعہ پورے خطے اور اس سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
اسرائیل جیسے سرکش ریاست کی سرپرستی کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انگریزی ٹویٹ کا ترجمہ بشکریہ عمیر گوندل