ایران کی بہادری کو سلام
جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر بھرپور حملے کی دھمکی دی تو ایرانی جرنیلوں نے ریجیم چینج کرکے امریکہ اسرائیل کو خوش کرنے کی بجائے شہادتیں دینے کو ترجیح دی
نتیجہ یہ نکلا کے ایران بغیر فیلڈ مارشل اور بغیر ایٹم بم کے دنیا کی دو بڑی سپر پاورز سے جنگ جیت گیا
آبپارہ اور پنڈی والوں کو ذرا سوچنا چائیے کہ آخر ہزاروں کشمیری برطانیہ میں کیوں جمع ہیں اور آپ سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟
ذرا سوچیے آج پھر بھی کافی حد تک تحمل تھا اگر ہوش نا کیا گیا تو پوری دنیا میں رسوائی ہو گی
خدارا ہوش میں آئیے آپ کا ایکسپیرمنٹ پھر سے ناکام ہو گیا بیرکوں میں لوٹیے سیاست کو آزاد کریں
آپ سے نا ہو پاۓ گا‼️
سانحہ ساہیوال آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔ عاصم منیر اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ تب بھی آئی ایس آئی کی پالیسی یہی دیکھے بغیر بھون دو تھی۔ سی سی ڈی بھی اسی ذہنیت اور شہباز شریف کے پولیس مقابلوں والی سوچ کا تسلسل ہے۔ نیفے میں پستول چلنے کی خوشیاں منانے والے بھی چکوال میں معصوم بچی کے شہادت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کسی کا جرم کتنا ہی گھناونا کیوں نہ ہو ، بغیر ٹرائل کے سزا دینا اس سے بڑا جرم ہے اور معاشرے میں تباہی کا سبب ہے۔
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
ہر سال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سرکاری افسران بجٹ میں سے کم سے کم، کم سے کم 1500 ارب روپے ذاتی جیبوں میں ڈالتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کے منصوبوں میں کک بیکس اور سرکاری اشیا کی خریداری میں کمیشن کے ذریعے۔ عوام سے وصول کردہ رشوت اسکے سوا ہے۔
آج کل سقوط ڈھاکہ کی کتابیں دوبارہ سے پڑھ رہا ہوں اور وہ بھی ریٹائرڈ جرنیلوں کی لکھی ہوئی۔ اور تمام جرنیل اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ بندوق کی پالیسی نہ ہوتی تو سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا۔
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
سالانہ 822 ارب روپے فوج کی پنشن میں جارہے ہیں۔ فوج کے باقی دفاعی اخراجات ، موجودہ تنخواہیں اور عیاشیاں اپنی جگہ۔ 822 ارب روپے سالانہ ازخود خطیر رقم ہے۔ اسکے بدلے پاک فوج نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟
چار مارشل لاء لگائے ہیں
ملک توڑ دیا ہے
کشمیر آزاد نہیں کروا سکے
امریکی سائفر کے آگے لیٹ گئے
ملکی معیشت تباہ کردی
کبھی لاپتہ کرتے ہیں کبھی لاشیں مسخ
ڈیڑھ لاکھ لوگ بم دھماکوں میں مر گئے
بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک زوروں پر ہے
پختونخواہ میں دہشتگردی عروج پر ہے
پورا کشمیر احتجاج کررہا ہے
جب شریفین کی 5 سال کی حکومت میں کوئی ایک میٹرو بھی نہ بنے کوئی ایک بڑا پل بھی تعمیر نہ ہو تو سمھ جائیں انہوں نے معیشت گھوڑے لگا دی ہے اور ملک کے پاس وسائل ختم ہوچکے ہیں ورنہ شریفوں کو پل اور میٹرو کے علاوہ کوئی کام بھی نہیں آتا!
پورے پاکستان میں تعلیم پر 962 ارب روپے یعنی 4 ارب ڈالرز سے بھی کم یہ پاکستان کی GDP کا ایک فیصد حصہ بھی نہیں بنتا اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، صوبوں کے فنڈ سے مزید پیسہ نکال رہے تو تعلیم پر پیسہ کیسے خرچ ہوگا؟ صوبوں سے فنڈز لینے کا راستہ کھل گیا معیشت پر پھر کیا ریفارمز کرنی انہوں نے ، صوبوں نے تو تعاون کردیا لیکن پاکستان کی معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔
ہائے ایجوکیشن کمیشن کا 2022 میں بھی بجٹ 65 ارب 2023 میں بھی65 ارب روپے ، 2024 میں بھی 65 ارب روپے 2025 میں بھی اور اس سال بھی 65 ارب روپے رکھا جارہا ہے ۔ ان کو پاکستانیوں کی تعلیم کی کوئی فکر نہیں ہے۔ تیمور جھگڑا
ایک طرف میڈیا پر عمران خان کو پمز ہسپتال بھیجنے کی خبر دوسری طرف جنید اکبر خان کی اس کی تردید ۔
پہلی خبر بجٹ راستے ہموار کرنے کی ہے
اور تردید کارکنوں کو وہاں پہنچنے سے روکنے کیلئے
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
پانچ ہزار سال کی تاریخ میں ایسی بھوک ننگ نہی آئ تھی۔ اس کے لیے اتنی جہالت اور منافع خوری چاہیے کہ تاریخی طور پر خوشحال خطہ۔ سات دریاؤں کی دھرتی۔ سندھو سپتایہ۔ انڈس بیسن۔ جو بعد میں پنجاب بھی کہلایا ۔ سرسوتی یا ہاکرا دریا بہاولپور کے قریب خشک ہو گیا۔ بیاس ستلج میں کھو گیا۔ اور اب ہم صرف سندھ ساگر جہلم پر نظام چلا رہے ہیں۔ چناب پر ہندوستان نے چار سال میں کنٹرول کر لینا ہے اور راوی ستلج پہلی ہی ہم ہندوستان کو دے چکے۔ اب کرنا کیا ہے بھائ۔ آج تک یہ فیصلہ نہی ہو پایا کہ مونجودھاروں کیوں تباہ ہوا۔ پاکستان ہمارے سامنے تباہ ہو رہا ہے۔ اور ہم کچھ نہی کر پا رہے۔ کیونکہ ہماری اشرافیہ کرپٹ بھی ہی اور کمزور بھی۔ دیامر بھاشا ہماری لائف لائن ہے مگر ہم نے اس کی لیے فنڈ اک چوتھائی کر دی ہیں۔ جبکہ بھارت نے چار سال میں چناب کے پانی کو بیاس میں ڈال لینا ہے۔ لڑتے رہو۔ مرتے رہو۔ قومیں ایسی ہی مرتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے سامنے اس قوم کو مرتے دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہی کر سکتے۔ ٹھوکتے رہو کشمیریوں کو اور گلگت والوں کو۔ کیونکہ پاور ضروری ہے۔ پاور رکھنا مگر ان کا دل جگر نہ جیتنا۔ یہ نہ پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ فارم سنتالیس زندہ باد۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر اپنی محنت اور بغاوت سے پاکستان میں شامل ہوئے۔ اب ہم ان کو کچھ نہی سمجھتے۔ ان پر فارم سنتالیس نافذ نہ کریں۔ کچھ تاریخ سے سبق حاصل کریں۔
ڈاکٹر عشرت حسین🔥🔥🔥
آپ خرچے دیکھیں، افسروں کے آگے 4 پیچھے 8 گاڑیاں ہوتی ہیں, کتنا پیٹرول خرچ ہورہا ہے، یہ کونسی بات ہوئی؟ ایسے ایسے افسران ہیں جنہیں ریٹائرڈ ہوئے 10 سال ہوگئے، مگر ان کے پاس ابھی تک سندھ حکومت کی گاڑیاں، ڈرائیور اور پیٹرول ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت پاکستان اعتراف کرتی ہے کہ آزاد کشمیر ایک غیر ملکی علاقہ ہے پھر وہاں رینجرز کس قانون کے تحت جاتی ہے ؟
سینئر صحافی حامد میر کا تہلکہ خیز سوال
”کشمیر کاز کا اتنا نقصان شاید کبھی بھارت نہ کر سکتا، جتنا اس وقت ہماری عسکری رجیم کر چکی ہے۔ بھارت کیلئے ایسی خدمات کسی بھارتی ایجنٹ نے بھی نہیں انجام دینا تھیں! حساس صورتحال کو سنبھالنے کی بجائے عجیب شگوفے چھوڑے جا رہے ہیں۔ کبھی شوکت نواز میر کے گھر سے بھارتی کرنسی نکال دیتے ہیں تو کبھی میڈیا پر بھارتی خفیہ ایجنٹ پکڑ لیے جیسی خبریں چلاتے ہیں۔ یہ ملک کن نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔“
- @ShazadAkbar
#ذہنی_مریض
🚨"میں نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی تھی کہ عام آدمی سولر پر بجلی خود بنا رہا ہے اور آہستہ آہستہ آف گرڈ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی وہ موٹر لگا کر خود نکالتا ہے۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن بھی زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے۔ چوکیدار بھی اپنا ہے۔
کوئی بھی بنیادی سروسز نہیں ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور جو موٹرویز ہیں وہاں اشرافیہ کے لیے ٹول بہت زیادہ ہے۔ تو یہ جو ہم 100 ٹریلین کے ٹیکسز اور قرضوں کی بات کرتے ہیں، وہ تو اس سے بھی آگے جا رہا ہے۔ تو عام آدمی کا یہ جائز سوال نہیں ہے کہ یہ سب ہم کس لیے دے رہے ہیں، کیوں دے رہے ہیں، اور کس کو دے رہے ہیں؟"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب
@AmirMateen2@SharifHaroon