معرکہ حق بنیان المرصوص کو ایک سال مکمل
الحمدللہ افواج پاکستان نے بھارتی فوج اور عوام کا غرور خاک میں ملادیا
بھارتی میڈیا اور فوج کی بوکھلاہٹ نے پوری دنیا کو انٹرٹینمنٹ مہیا کی
پاکستان کے شاہنیوں نے ایک جھٹکے میں بھارتی، فرانسیسی، اسرائیلی اور روسی ٹیکنالوجی کو ناکوں چنے چبوادیےتھے
پاکستان اس موقع پر ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوناحق قید سےرہائی دلوانے اور واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کررہا
قوم کی بیٹی کس اذیت میں ہے، آخر ایک چھوٹی سی ڈیمانڈ پاکستان کیوں نہیں منوارہا؟
حافظ سعد حسین رضوی اور انس رضوی کی گمشدگی کو پانچ مہینے سے زائد ہو گئے ہیں۔ قابلِ حیرت ہے، قابلِ افسوس ہے اور قابلِ مذمت ہے کہ ریاست اس معاملے پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اور کچھ نہ ہو، یہ دونوں پاکستان کے شہری ہیں اور عدالتوں تک رسائی اُن کا حق ہے۔
#ناموس_رسالت_پر_کوئی_سمجھوتہ_نہیں
15thMarchNamooseRisalatDay
اگر تم پاکستان میں عزتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے تو نظامِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ خود بخود تم سے منہ موڑ لے گا!
ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک خدا کے گھر کی حرمت اور دوسرا فلسطین کے لیے آواز اٹھانا جرم کیوں ہوگیا کہ ہمارے اوپر حملہ کردیا گیا۔
#مسجد_رحمۃللعالمین_کھولو
سانحہ مریدکے: اس سانحہ کو 100 دن مکمل ہو گئے مگر تاحال رضوری برادران کا کچھ پتہ نہیں لگ سکا کہ وہ کہاں ہیں ؛ کرین پارٹی کے لوگ آج بھی مقدمات بھگت رہے ہیں اور جیلوں میں قید ہیں. اگر سماء ٹی وی پر چلنے والی رپورٹ پر ہی بات کر لی جائے تو ظلم کی انتہاء کی گئی۔
سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے ایک معروف قادیانی مبارک ثانی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں قرآن کی معنوی تحریف کی تھی جس پرپورے ملک میں سخت رد عمل آیا تھا۔
ناموس رسالت کے تحفظ کی شہرت رکھنےو الے ایک معروف عالم دین پیر سید ظہیر الحسن شاہ نے چیف جسٹس کے عمل پر ایک عوامی جلسے میں سخت ردعمل دیا ۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے رجوع کرلیا تھا۔ اور معاملہ مسلمانوں کے اجتماعی ردعمل کے نتیجے میں ختم ہو گیا۔
ایک جانب اس طرح کے مقدمات اور فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے ، دوسری جانب گستاخی کے وہ مجرم جو کورٹوں سے سزا ئے موت بھی پا چکے ہیں اُن کو بغیر سماعت کے رہائی کے پروانے بانٹے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں عوام کا اعتماد انگریز دور کے بنائے گئے نظام کورٹ کی حقیقت پر بڑھتے جا رہے ہیں ۔
مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمنٹ میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں
https://t.co/uW5ipc22VZ
#shaoorfeed #BlasphemyLaw #QadianiIssue #shaoornews