شاہ محمود قریشی بغیر کسی سزا کے صرف ضمانت نہ ہونے پر اڑھائی سال سے جیل میں
فلک جاوید بغیر کسی سزا کے صرف صرف ضمانت نہ ہونے پر چھ ماہ سے جیل میں
دونوں کیسز میں ریکارڈ پیش نہیں ہو رہا۔
دونوں مقدمات کی آج سماعت ہوئی دونوں مقدمات میں آج پھر ریکارڈ پیش نہیں ہوا
عدالتیں اپنے مرنے اور تدفین کا اعلان کیوں نہیں کرتیں؟
ضلع مہمند میں انٹیلی جنس اہلکاروں کے بھیس بدل کر گشت کرنے کا طریقہ کار مکمل طور پر ایک تسلیم شدہ عسکری اور سیکیورٹی اصول ہے، کیونکہ شورش زدہ اور حساس علاقوں میں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار عام شہریوں کا روپ دھار کر رہتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے صرف رسمی وردی میں گشت کر کے خفیہ معلومات اکٹھی نہیں کر سکتے، اس لیے اہلکار عام لباس، کے ساتھ دشمن کے نیٹ ورک کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ میمند میں ایف سی نارتھ ہیں تمام افسران اور سپاہی پختون ہیں ، اس موقع پر پختون کیپٹن کا بروقت پہنچ کر اپنے اہلکاروں کی ذمہ داری لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ پورا سیکیورٹی نیٹ ورک باہم مربوط ہے اور سیکیورٹی فورسز میں مقامی قبائل کے اپنے بیٹے ہی شامل ہیں جو اپنے لوگوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ملک دشمن کالعدم پی ٹی ایم اور فارن فنڈڈ فتنہ پی ٹی ائی کا ایسے پیشہ ورانہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو متنازع بنا کر پیش کرنے کا بنیادی مقصد عوام اور فورسز کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہے، حالانکہ یہی گمنام اہلکار اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر عام شہریوں کو بم دھماکوں سے بچاتے ہیں۔
عمر خالد خراسانی، قاری شکیل حقانی، سربکف مہمند، عمر مکرم خراسانی، مفتی حسن اور حافظ دولت خان جیسے انتہائی خطرناک دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ کرنے کے لیے پاک فوج نے مہمند کی دھرتی پر اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ صرف 2011 تک کے آپریشنز میں 69 افسران و جوان شہید اور 231 زخمی ہوئے۔ فیچر زاری سر میں شہید ہونے والے میجر ضیاء الحق، دویزئی کے شہید کیپٹن جہان زیب، سوران ویلی کے شہید کیپٹن علی محمود خان، کیپٹن عابد نوید، کیپٹن خزر محمود، سلالہ کے شہداء میجر مجاہد علی اور کیپٹن محمد عثمان علی، 2017 کے شنکرئی فائرنگ کے شہداء حوالدار منیر، لانس نائیک ارشاد، سپاہی حق نواز اور 2025 کے مہمند آپریشن کے شہداء حوالدار محمد زاہد اور سپاہی آفتاب علی شاہ کی قربانیوں نے اس علاقے میں امن کی بنیاد رکھی۔
اس امن کی بحالی کے بعد پاک فوج نے خطے میں عظیم الشان فلاحی و عمرانی کام سرانجام دیے، جن میں FWO کی شاہکار نحقی ٹنل شامل ہے جس نے خطرناک درے کا طویل سفر منٹوں میں بدل کر مہمند کو پشاور اور باجوڑ سے جوڑ دیا۔ تعلیم کے شعبے میں کیڈٹ کالج مہمند کا قیام، تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی، اے پی ایس اور ووکیشنل سینٹرز کا قیام ممکن بنایا گیا، جبکہ صحت کے میدان میں ہسپتال اور فری میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے۔ علاقے میں پانی کی شدید قلت دور کرنے کے لیے سولر واٹر اسکیمیں اور چیک ڈیم بنائے گئے، اور سب سے بڑھ کر سیکیورٹی فراہم کر کے زیارت ماربل کی انڈسٹری کو دوبارہ فعال کیا گیا جس سے ہزاروں مقامی لوگوں کا روزگار بحال ہوا۔
مہمند اور صافی قوم کی تاریخ غیرت، خود داری، وطن پرستی اور ان تھک محنت سے عبارت ہے۔ سخت حالات اور ہجرت کے باوجود اس غیور قوم نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اپنی دن رات کی محنت کے بل بوتے پر صفر سے شروعات کر کے آج پشاور کی کارخانو اور قصہ خوانی مارکیٹوں، مردان کی تجارتی منڈیوں اور راولپنڈی کے راجہ بازار، رحمان آباد اور صدر کی مارکیٹوں میں تجارتی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔ 1947 کی جنگِ کشمیر سے لے کر اب تک اس قوم کے جلیان اور بابران نے پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے پی ٹی ایم اور پی ٹی ائی کے چند عناصر کا منفی بیانیہ یا پروپیگنڈا اس وطن پرست، محنتی اور باصلاحیت قوم کو ہرگز گمراہ نہیں کر سکتا۔
اپر مہمند:
مقامی قبائل نے سادہ کپڑوں میں ملبوس مشکوک افراد کو پکڑ لیا
اپر مہمند اپنی مدد آپ کے تحت علاقے کی حفاظت کے لیے رات کو گشت کر رہے تھے کہ انہوں نے چند مشکوک افراد کو روکا۔
سادہ کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں نے بھیس بدلنے کے لیے نقلی بال (وگ) لگا رکھے تھے۔
مقامی لوگوں کے قابو کرنے پر ان افراد نے خود کو فوجی ظاہر کیا۔
کچھ ہی دیر میں قریبی کیمپ سے ایک فوجی افسر موقع پر پہنچ گیا اور کہتا ہے "یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، انہیں ہم اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔" اس بات پر قبائل شدید غصے میں آ گئے اور مطالبہ کررہے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والے یہ لوگ ہمارے حوالے کیے جائیں تاکہ ہم انہیں سزا دیں۔
تاہم، فوجی افسر نے قبائلی غیرت اور روایت کا واسطہ دیتے ہوئے کہہ رہا ہے، "انہیں مہمان سمجھ کر معاف کر دیں اور میری عزت رکھیں۔
جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگوں کے اندر ایسی دوائی لگائی گئی جس سے میر رضا کا جسم تو بالکل ساکت ہوگیا لیکن وہ محسوس سب کچھ کر سکتا تھا۔ اس کے بعد اس بے بس زندہ جسم پر تیزاب ڈالا گیا یعنی کے وہ درد تو محسوس کر سکتا تھا لیکن نا تو بول سکتا تھا اور نا ہی ہاتھ تک ہلا سکتا تھا۔ پھر پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور دل کے اندر تک سوراخ موجود تھے۔
آخر ظالم لوگوں کو اس خدا کا بھی خوف تک نا آیا جو اس بے دردی سے ق ت ل کیا۔ پھر اگلا ظلم تو ان لوگوں نے کیا جنھوں نے میر رضا کے گھر والوں کا ساتھ دینے اور قاتل ڈھونڈتے کی بجائے گھنٹوں بٹھا کر ان کو زبردستی یہ چیز منوانے کی کوشش کی کہ تمھارے بیٹے نے خود۔کشی کی۔ لیکن وہ بے چارہ باپ اور سسکتی ماں چیختے رہے ان کا بیٹا خود۔ کشی کر ہی نہیں سکتا اس کا ق۔تل کیا گیا ہے۔ پھر ایک جھوٹی رپورٹ بنا کر کیس کو بند کردیا گیا۔ لیکن باپ کی ان گنت محنت کے بعد جب قبر کشائی کی گئی اور نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو سارا سچ سامنے آگیا۔
یااللہ! یہ کیسا ملک ہے اور کیسا نظام ہے جہاں انصاف ملنے کی امید ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بس اللہ پاک میر رضا کو جنت الفردوس میں ایک باغ دے اور گھر والوں کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرما۔ آمین
انتہائی تشویشناک صورتحال!!
قبائلی علاقے کے غیور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ مشکوک افراد کو گھیرے میں لے کر پکڑ لیا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں نے بھیس بدلنے کے لیے جعلی داڑھی اور مونچھیں لگا رکھی تھیں۔
لوگ ان کو سزا دینے ہی والے تھے کہ فوج کے ایک کیپٹن نے آ کر انہیں روکا۔
کیپٹن کا کہنا ہے, یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور فوجی اہلکار ہیں۔
اس بات پر عوام نے سیدھا مطالبہ کیا کہ اگر یہ ہمارے اپنے محافظ ہیں، تو پھر وردی کے بغیر یہاں بھیس بدل کر کیوں گھوم رہے ہیں
ایک طرف خیر سے پاکستان ہاکی ٹیم ہاکی ورلڈکپ میں ہار ہار کر گیارہویں نمبر پر آئی ہےاور دوسری طرف خیر سے پاکستان کرکٹ ٹیم لارڈز ٹیسٹ بھی ہار گئی اور انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز بھی ہار گئی،ہاکی کو تو ایک طرف رکھیں،اس نے تو گیارہویں نمبر پر آنا ہی تھا کیونکہ ہاکی میں فارم 47 نہیں ہوتا،لیکن لارڈز ٹیسٹ میچ ہم نے جیت جانا تھا اگر عمران خان کے بیٹے انٹرویو نہ دیتے،لہذا ہمیں چاہیئے کہ یا تو مائیکل اتھرٹن،قاسم خان اور سلیمان خان کو NCCIA کا نوٹس بھجوائیں،پیکا ایکٹ کے تحت پرچہ کٹوائیں یا پھر اس ہار کا مقدمہ عمران خان پر کریں،اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ہمیں چاہیئے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی فارمولا اپنائیں،اس سے ہم بڑی آسانی سے اپنی ہار کو جیت میں بدل سکتے ہیں،کیونکہ اگر بیرسٹر صاحب اپنی سیٹ ہار کر وزیراعظم بن سکتے ہیں تو ہم لارڈز ٹیسٹ کیوں نہیں جیت سکتے،لیکن اس کام کیلئے ہمیں نوازشریف صاحب کی خدمات لینا پڑیں گی،کیونکہ میاں صاحب جس طرح ملک کے وسیع تر مفاد میں خود MNA بنے اور جس طرح انہوں نے افتخارگیلانی صاحب کو وزیراعظم بنایا اسی طرح وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ایون فیلڈ جا کر اوہ سوری برطانیہ جا کر لارڈز ٹیسٹ ہار کو جیت میں بدل سکتے ہیں۔۔
💔Gazze'de az sonra terörist İsrail bombası ile öleceğini bilmeden sohbet eden siviller. Gazze savunmasız, dünya dilsiz, kör, sağır. Filistin'i yok sayma ey insanlık.
Gazzeye Adım Atın
#StepInToGaza
ہیلتھ کارڈ:
خیبرپختونخوا میں حکومت 2890 روپے فی خاندان انشورنس کمپنی کو ادا کرتی ہے
ہرشادی شدہ فرد کا الگ خاندان تصور ہوتا ہے
یعنی چھ بھائی ہے ہیں اور سارے شادی شدہ ہیں تو انہیں ساٹھ لاکھ کی ہیلتھ کوریج ملتی ہے
یعنی حکومت کی جانب سے دیے گئے 2890 روپے کے عوض ہر خاندان کو انشورنس کمپنی سے ایک ملین تک کی کوریج ملتی ہے
خیبر پختنواہ میں چورانوے لاکھ فیملیز رجسٹر ہیں جس کا سالانہ بجٹ 25 ارب بنتا ہے
پہلے او پی ڈی شامل نہیں تھی اب اوپی ڈی بھی شامل کی گئی ہے ، کئی بیماریاں پہلے شامل نہیں تھیں اب شامل ہیں جیسے شوگر کا علاج بھی اب ہیلتھ کارڈ پہ ہوتا ہے
جب آپ داخل ہوتے ہیں تو ڈسچارج کے وقت پندرہ دن کی ادویات بھی ہیلتھ کارڈ پہ ملتی ہیں
ٹیکسی کے پیسے بھی انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے
اگر اسپتال کی فارمیسی میں کوئی دوائی موجود نہیں ہے تو باہر سے دوائی لانے کے لیے مریض کے اٹینڈنٹ کو کیش دیتے ہیں کہ باہر سے میڈیسن لے آئیں
سوچیں کہ خیبرپختونخواہ کے چورانوے لاکھ خاندانوں کو سرکار کے 25 ارب روپے سے صحت کی مفت سہولیات مل رہی ہیں
جکہ صرف پمز کو سرکار نے 22 ارب روپے ادا کیے ہیں
تو کیا ہیلتھ کارڈ اتنا برا ہے ؟؟
اب رہا سوال کرپشن کا تو اگر کوئی کرپشن کرے بھی تو حکومت کا نقصان نہیں ہوتا، انشورنس کمپنی کا ہوتا ہے اور انشورنس کمپنی اتنی آسانی سے اپنا نقصان ہونے نہیں دیتی
نوٹ: یہ کچھ عرصہ پہلے تک کا ڈیٹا ہے ہو سکتا ہے اب اس میں اگر کچھ ردوبدل یا اضافہ ہو گیا ہو۔ لیکن ہیلتھ کارڈ کی افادیت بڑھی ہے کم نہیں ہوئی
ٹاؤٹی سے پہلے یہ بچہ ، ختنہ استاد نائی ظہور صاحب کا شاگرد تھا۔ فروانی ختنہ اس کا کام آپریشن کے لئے صورتحال کو کنٹرول میں رکھنا ہوتا تھا۔ تبھی سے اس کی آنکھیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ ختنے کے بعد پٹی باندھنے اور تبدیل کرنے کی زمہ داری بھی اسی کی ہوتی تھی۔
پاکستان نے دیامیر بھاشا ڈیم سے پاور جنریشن ٹنلز ، یعنی بجلی پیدا کرنے کا آپشن ختم کردیا ہے۔ تاکہ آپ شریف ، زرداری و دیگر مافیا کے آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدتے رہیں اور انکی دیہاڑیاں چالو رہیں۔
دنیا میں اس لاچارگی سے کبھی کوئی نہیں لٹا جیسے پاکستانی لٹے ہیں۔