عجیب ملک ہے یہ ہندوستان ایک ساتھ آزاد ہوئے لیکن اتنے غریب کہ کنٹینر تک نہیں ہیں عوام کو روکنے کے لیے سارے ایکسپورٹ میں استمعال کردیے، فوج پولیس اتنی نکمی نکھٹو نہ گولیاں مارنے کے قابل، نہ روکنےکے، اور ان کا چیف اتنا بزدل کہ ایمرجنسی، گورنر راج تک نہیں لگا سکتا، شرم سے ڈوب مریں ان کی فوج جو سیاست میں مداخلت کرتی ہے
پنجاب کے لوگوں یاد رکھیں، جب پنجاب سڑکوں پر نکلے گا تب ہی عمران خان جیل سے نکلے گا کیونکہ پنجاب پاکستان کی آبادی کا 60% ہیں۔
یہ عمران خان کی زندگی کا سوال ہے، آپ سب بہادر لوگ ہو پلیز نکلیں عمران خان کی خاطر 🙏
چن صاحب صدر آپکا۔۔۔۔چئیرمین سینیٹ آپکا،۔۔۔اب تو بلاول صاحب کمیٹی کے ممبر بھی بن گئے ہیں۔۔۔۔ آپ لوگ برابر کے شریک ہیں۔۔۔۔ آپ نے ہی تو سیاست قربان کی ان چیزوں کو پروان چڑھانے کے لیے۔۔۔
شہبازشریف پر لعنتیں بیجھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں پوری دُنیا سے کروڑوں لعنتیں بیجھی جا چکی ہیں۔
اردلی نے 2 ٹویٹس سے پاکستان پر مسلط کیا گیا سارا نظام دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔
امید کا دامن تھامے رکھنا ضروری تو ہے مگر حالات کا سخت تنقیدی جائزہ لینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ عملی حقائق یہ ہیں کہ پنجاب کو لانگ مارچ سے دور رکھنے میں بڑا ہاتھ مرکزی اور پنجاب کی قیادت کا ہے۔ سہیل آفریدی تو دو دفعہ پنجاب آ کر سٹریٹ موومنٹ کر چکے ۔ اس میں پنجاب کی لیڈر شپ نے کتنا کردار ادا کیا یہ سب کے سامنے ہے۔
مرکزی قیادت میں سے کوئی ایک بھی لانگ مارچ میں نظر نہیں آ رہا حتی کہ شیخ وقاص اکرم پشاور میں موجود ہو کر بھی اس میں شامل نہیں۔
بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر' محمود اچکزئی اور علامہ ناصر سے دوری اختیار کر کے مولانا فضل الرحمان کا کردار جاننے کے باوجود پھر ان کی طرف جھک رہے ہیں۔
گنڈاپور نے تو اپنا کردار واضح کر دیا ۔ مگر کچھ اور لوگوں کے بھی دوسری طرف رابطوں کی اطلاعات ہیں۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ صوبائی حکومت کی مرضی کے خلاف 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی تیاری میں ہیں اور ساتھ ساتھ وہ پی ٹی آئی میں بھی نقب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس چکر میں اب تک 6 ممبران اسمبلی اغوا ہو چکے ہیں مگر صوبائی حکومت کا اس پر شدید عملی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سہیل آفریدی کے لانگ مارچ میں تاخیر کی وجہ بھی ان کا اکیلے ہونا ہے۔ یوں لگتا ہے وہ مرکز اور دیگر طرف سے مطمئن نہیں اور انتظار میں ہیں کہ باقی بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ مگر پوزیشن یہ ہے کہ خود خیبر پختونخواہ کے اکثر ایم پی اے بھی ان کے ساتھ کنٹینر پر موجود نہیں۔
ایسے حالات میں عوام کو اپنے طور پر اس شدت سے سہیل آفریدی کا پشت پناہ بننا ہو گا کہ انہیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اس وقت سہیل آفریدی کو اکیلے چھوڑنا وہ جرم ہے جو کیا گیا تو اس کا انجام ہم ہمیشہ بھگتتے رہیں گے ۔
ترجمان بنوں پولیس آمن کمیٹی نے ایک اہم ترین کمانڈر ذین اللہ عرف سالار کو ہلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔
کوئی جانی نہیں ہوا، کسی کے گھر کو نقصان نہیں پہنچا، عوام کے جان و مال محفوظ رہے، جیٹ طیاروں اور ڈرون بے بغیر یہ آپریشن ہوگیا، یہی وہ پالیسی ہے جس کا سہیل آفریدی بار بار ذکر رہا یے۔
لانگ مارچ کامیابی سے جاری ہے۔ سہیل آفریدی کی حالیہ تقاریر متاثر کن ہیں۔ بات میں وضاحت ہے، جملے مختصر اور انداز سیدھا عوام کے دل میں اترتا ہے۔ اردو اور پشتو کا مکس استعمال بہترین چوائس ہے۔ اپنی تقاریر میں وہ بالکل وہی مسائل اٹھا رہے ہیں جو آج عوام اور پاکستان کو درپیش ہیں۔ دعا ہے کہ وہ کامیاب ہوں اور لانگ مارچ سے نتیجہ خیز صورتحال برپا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اور عمران خان اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ باقی دل کے بھید رب جانتا ہے۔ میری دعائیں انکے ساتھ ہیں۔ اللہ کامیاب فرمائے۔
خیبرپختونخواہ میں جب گھروں کو ڈالے اور نامعلوم افراد گھیرتے ہیں تو کیا وہ 15 پر پولیس کو کال نہیں کرتے ؟ یا پولیس پہنچتی نہیں؟
جہاں پولیس کا فرض ہے کہ بغیر وارنٹ کسی کے گھر کے گھیراؤ کی شدت سے مزاحمت کریں اور روکیں ۔ وہیں 15 کی یہ کال وہ ریکارڈ ہے جو صحیح وقت آنے پر کاروائی میں ٹھوس ثبوت ہو گا