تمام انصافینز یہ ٹرینڈ #سڑکوں_پہ_آؤ_ورنہ_دفع_ہوجاؤ شروع کریں۔ اس وقت عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا قیادت فوری طور پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کرے۔
اگر قیادت اب بھی کال نہیں دیتی، تو بہتر ہے کہ سب استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں
سب جوائن کریں 👏
Breaking News 🚨
راجن پور میں قومی شاہراھ کو بند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں
انشاللہ ہم اس شاہراھ کو بند کر دیں گے رابطہ نمبر
03371649898
اس طرح کی نیوز کو لازمی ہر طرف شئیر کریں 👆🏻
اور چھری پھیر دی۔۔
ڈراپ سائٹ نے تو اب انکشاف کیا لیکن میں نے سعد رضوی کی چند تقریریں اور باڈی لینگویج دیکھ کر ہی محسوس کر لیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف احتجاج میں اسے دھکا دیا جا رہا اور اسے بھی پتہ ہے کہ دھکا دیا جا رہا ہے۔
اور اسے شاید یہ بھی خدشہ تھا کہ احتجاج شروع کروا کر یہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو مروا دیں گے۔ یہ 9 مئی اور 26 نومبر جیسا آپریشن shock and awe ہے۔ لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھانے کے لئے اسٹیج کیا گیا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پہلے یہ ضروری تھا۔
لیکن سعد رضوی کے لئے مسئلہ یہ تھا کہ وہ انکار نہيں کرسکتا تھا۔ اسے تین چار سال سے کھلا پلا ریے تھے۔ اب قربانی دینے کا وقت تھا۔ قصائی چھریاں لے کر پہنچ چکے تھے۔ مریدکے میں اس نے جب قصائیوں کے ہاتھوں میں چمکتی چھریاں دیکھیں تو بہت رویا پیٹا کہ خدا کے لئے مجھے واپس جانے دو۔ تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ۔ تمہیں تمہاری ہلالی ماؤں کے دودھ کا واسطہ۔
بیچارہ کیا جانے کہ قصائی جب چھریاں نکال لیں تو ایسی بچگانہ التجائیں نہيں سنتے۔ وہ پھر چھری پھیرتے ہیں۔ اور انہوں نے چھری پھیر دی۔
ان سب لوگوں کے لئے جو ریاست کے تخلیق کردہ ایسی شدت پسند مذہبی گروہوں میں شامل ہیں یا شامل ہونا چاہتے ہیں یہ سانحہ ایک درس عبرت ہونا چاہیے کہ ان کے مقدر میں قصائیوں کی چھریاں ہیں۔ لبیک کو بین کرکے جو گروہ اس کی جگہ بنائے جائیں گے ان کا انجام بھی یہی ہوگا۔
یہ ویڈیو کلپ ان سب کے لیے ایک سبق ہے جن کو لگتا ہے کہ جتنا زیادہ پیسہ ہوگا اتنا ہی وہ سکون سے رہیں گے
ان کے لیے بھی ایک سبق ہے جو اپنے اصل رشتوں کو چھوڑ کر بناوٹی رشتوں اور خوشیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں
زندگی کو گزارنے کی بجائے جینا شروع کریں اپنوں کے ساتھ اپنے پیاروں کے ساتھ !!
ڈی جی آئی ایس پی آ�� کو کروڑوں روپے لگا کر ترانے بنانے پڑتے ہیں اور سوشل میڈیا وارئیرز یہ کام مفت میں کر کے ڈی جے کے جھوٹے بیانیے پر پانی پھیر دیتا ہے 🔥
انڈیا میں پابندی کے باوجود
نامِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کا سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والا نام بن گیا۔
ساڑھے 13 کروڑ ٹویٹس
ہم سب کی آواز ایک ہے، آئیے اس ٹرینڈ کو مزید آگے بڑھائیں۔
کیا آپ بھی ری ٹویٹس کریں گے؟
#iLoveMuhammadﷺ#ILoveMuhammad
علی محمد خان صاحب توجہ :
ہمارے لیڈر کا یہ ٹوئیٹ صرف ٹوئیٹ نہیں بلکہ معصوم انسانوں مسلمانوں پختونوں کی جان کا محافظ پلان ہے۔ آپ یقیننا درد دل رکھتے ہیں۔ انسانیت کے لئے آپکو انکے اس بیانئیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ براہ مہربانی اس ٹوئیٹ کو ریٹوئیٹ کریں۔
@Ali_MuhammadPTI
جس جس کے سامنے میری یہ پوسٹ آرہی ہے آپ سے گزارش ہے #مشن_نور پے ٹویٹس کریں ، کل رات تک کرتے رہیں🔥
دنیا کی تاریخ میں یہ ایک رکارڈ بننے جا رہا ہے کہ جب پورے ملک کی عوام اپنے ظالم حکمرانوں ��ے نجات کے لیے ایک زبان ہو کر خدا کو پکارے گی اور مجھے اس ذات پے یقین ہے کہ وہ ہماری فریاد سنے گا اور ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا ❤️🩹
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں می�� دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2