ہم شدید تشویش اور غم و غصے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لکپاس ٹنل پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں پر ریاستی فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی، اور 250 سے زائد کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ریاستی جبر پُرامن اور آئینی احتجاج کو کچلنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک مکمل طور پر پُرامن ہے، اور ہمارے مطالبات نہایت جائز اور انسانی بنیادوں پر ہیں۔ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو، جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، فی الفور رہا کیا جائے۔ ان کی رہائی کے بغیر کوئی مذاکرات، کوئی یقین دہانی، اور کوئی وعدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
کارکنوں پر حملے، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم ظلم کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ ہمارا اتحاد، ہمارا عزم، اور ہماری قربانیاں اس جدوجہد کو اس کی منزل تک ضرور پہنچائیں گی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔
یہ مولوی فضل وہاب ہیں، جو مینگورہ سوات کے ایک دینی مدرسے کے معلم ہیں۔ مولوی فضل وہاب اپنے شاگردوں کو دینی علوم کے ساتھ دنیاوی علوم بھی سکھاتے ہیں۔ ساتھ میں ان طلبہ کو کلائمنٹ چینچ کے بارے میں وقتا فوقتاً آگاہی بھی دیتے ہیں۔ مولوی صاحب نے حالیہ موسم میں اپنے شاگردوں کے ساتھ دس ہزار سے زائد درخت لگائے اور ان کی نگہبانی عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ مینگورہ بائی پاس ٹریک پر ان کے لگائے ہوئے درختوں کو بائی پاس کے ٹھیکدار کے بندوں نے کاٹ لیا۔ مولوی صاحب نے جب پوچھا، تو انہوں نے مولوی صاحب کو مار مار کر کپڑے تک پھاڑ دیے اور پھر شہر کے ایم پی اے کے ایما پر ان کے خلاف ایف آئی ار درج کرکے ماحول دوست مولوی کو حوالات میں بند کرا دیا۔
اس موقع پر مجھے پی ٹی وی کے ایک ڈرامے کے مزاحیہ کردار کے منھ سے ادا کیا ہوا شہرہ آفاق ڈائیلاگ یاد آیا کہ ‘‘انصاف ہوگا....... ضرور ہوگا."
کیا کوئی ہے مولوی صاحب کی داد رسی کرنے والا؟
’جب تمہاری نبی ﷺ سے ملاقات ہو شکایت کرنا، ہمارے ٹکڑے ہوتے رہے، آپ ﷺ کی امت تماشہ دیکھتی رہی‘: فلسطینی بزرگ کی پوتوں کی میت پر دہائی
https://t.co/8X9iiGuL1D
اچھا کل دن میں ایک بات سوچ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بینک الفلاح والے اپنے تمام سٹاف والوں کو کہیں کہ آپ جا کے اپناکمنٹ کریں کہیں کہ ایسا نہیں ہے ۔۔۔!
یہ ہے وہ ہے اور یقین کریں کل رات سے ہی ایسا ہو رہا ہے کہ آکر وہ مجھے ان باکس کر رہے ہیں بار بار اور حتی کہ بینک الفلاح والوں نے مجھے اس طرح کے میسج کیا ہیں ۔۔!
تو اور میں جو سوچ رہا تھا دن میں اپنے دوست کا تذکرہ بھی کر رہا تھا اور وہی بات ہوئی کہ بینک الفلاح اپنے سٹاف کو کہا مجھے میسج کرنے کا کہا ۔۔۔!
خدا کے بندو کم سے کم اپنے وال سے یہ تو اٹھا دو کہ بینکرز لکھا ہوا آپ نے۔۔!
#BoycotteBankAlFalah
🔴 یہ تصویر لگ بھگ دو ماہ قبل کی ہے، صدر ایردوان کوئی جنگی کمانڈر یا مسلمانوں کے خلفیہ نہیں ہیں، دنیا بھر کے مظلوموں کا ساتھ دینے والا دل رکھتے ہیں البتہ ایک تجربہ کار، جہاندیدہ سیاستدان اور جمہوریہ ترکیے کے صدر ہیں، انہوں نے اس ملاقات میں فلسطین کی دونوں بڑی سیاسی اکائیوں کو اتحاد کا درس دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ مغربی کنارے اور غزہ میں برابری کی بنیاد پر شراکت اقتدار کر لیں تو ترکیے ان کے ساتھ ریاستی سطح پر کچھ معاہدے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا جس میں غزہ کے یاسر عرفات ائیرپورٹ کی بحالی اور بحرہ روم میں لیبیا کی طرح کا سمندری کویڈور معاہدہ شامل تھا۔
یہ وہ نامور برانڈز ہیں جو اپنا پراڈکٹ بیچنے کیلئے کسٹمر کو اپنی تمام شرائط منواتے تھے اور آج محض ایک مہینے کے بائیکاٹ سے نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ فری پروموشن شروع کر دی ہے حالانکہ اب بھی یہ بائیکاٹ ۵۰ فیصد بھی نہیں ہے۔۔
انہوں نے ہمیں اتنا گرا سمجھا ہوا کہ چند روپوں کا لالچ ہمارا بائیکاٹ مہم فیل کریگا،لہذا بائیکاٹ کو جاری رکھتے ہوئے تمام لوگ اس بات کا ثبوت دیں کہ ان کے دئیے گئے لالچ یعنی فری پروموشن آئٹمز کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں
اور ہمارے کچھ معصوم لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے بائیکاٹ کرنے سے کیا ہوتا ہے۔۔
بہت کچھ ہوتا ہے۔۔
جاری رکھیں بائیکاٹ اتنا تو کر ہی سکتے ہیں یہ صیہونی صرف مال ودولت کے
گھمنڈ میں اتنے سرکش ہوئے ہیں۔
#Boycott #BoycottIsrealProducts
#GazaGenocide #GazaUnderAttack
کیا آپ یہ ٹویٹ دیکھ پا رہے ہیں؟ ہماری پوسٹس آپ تک پہنچ رہی ہیں؟
فلسطین اردو کے اکاؤنٹ سے 10 گھنٹے تک پوسٹنگ میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ فلسطین اردو غزہ جنگ کی مسلسل کوریج جاری رکھے گا
اگر آپ موبائل میں اردو ٹائپ کرنا مشکل لگتا ہے تو آپ بول کر بھی ٹائپ کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی لمبی تحریر لکھ رہے ہیں تو ٹائپ کرنے کی نسبت بول کر زیادہ جلدی لکھ سکتے ہیں اور بول کر لکھنے میں سپیلنگ کی غلطیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار کوئی لفظ غلط ٹائپ ہو جاتا ہے جب موبائل بولا ہوا لفظ سہی سمجھ نہیں پاتا اسے پھر مینیول ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ درست اور صاف اور خاموش جگہ پر بول کر ٹائپ کر رہے ہیں تو پھر تمام لفظ درست ہوتے ہیں
بول کر آپ اردو انگلش رومن تینوں ذبان میں لکھ سکتے ہیں۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آپ نے کی بورڈ کون سا سلیکٹ کیا ہوا ہے اگر کی بورڈ انگلش سلیکٹ ہے اور آپ انگلش ہی بول رہے ہیں تو انگلش لکھی جائے گی لیکن اگر کی بورڈ انگلش سلیکٹ ہے اور آپ اردو بول رہے ہیں تو رومن لکھی جائے گی۔ اور اگر کی بورڈ اردو سلیکٹ ہے اور آپ بول بھی اردو رہے ہیں تو پھر اردو ہی لکھی جائے گی۔
اس طرح کی مزید پوسٹ پڑھنے کے لیے میرے پیج کیا کیوں اور کیسے۔؟پیج کو فالو کر سکتے ہیں اور میرے سے سوالات کے لیے میرا گروپ کیا کیوں اور کیسے۔؟گروپ جوائن کر سکتے ہیں۔
اس پوسٹ میں میں Gboard سے ٹائپنگ کا طریقہ بتا رہا ہوں کیوں کہ آجکل تقریباً ہر موبائل میں یہ ہی کی بورڈ ہوتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل کوئی مختلف کی بورڈ ہے اور اس میں بھی وائس ٹائپنگ کا آپشن موجود ہے تو آپ بھی ٹائپ کر سکتے ہیں۔
وائس ٹائپنگ بہت آسان ہے اس کے لیے کی بورڈ میں مائک کا نشان بنا ہوتا ہے جیسا کہ تصویر میں دیکھایا گیا ہے اس پر کلک کریں اور بولنا سٹارٹ کریں آپکا موبائل لکھتا جائے گا۔
امید ہے یہ معلومات پسند آئی ہونگی اور کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہوگا۔
ثناء داؤد۔۔۔ایک سچے عشق کی لازوال کہانی!
دنگ رہ جانے کے لئے ضروری نہیں کہ بندہ کوئی عجوبہ ہی دیکھ لے متاثر ہونے کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ تأثر چھوڑنے والا انسان عہدے یا نام سے بڑا ہو بلکہ ایک عام بندہ بھی کوئی ایسا بڑا بلکہ بہت بڑا کام کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کام اور طرز عمل سے منفرد بن جاتا ہے اور اس کا یہ کام اور طرز عمل دیکھ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے اور وہ شخص اس کے لئے موٹیویشن کا باعث بن جاتا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی اور میرے نظروں سے گزری، میں نے وہ ویڈیو ایسے گزرنے نہیں دی اتنی کشش یا زور اس ویڈیو میں تھا کہ وہ مجھے پوری دیکھنی پڑی،
ثناء اس ویڈیو میں رپورٹر سے بات بھی کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ اس کی وہ ویڈیو بھی چل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک عجوبہ ایک بہت بڑا انسان، ایک بہت بڑا وسیلہ، ایک بہت بڑی انسپائریشن اور ایک بہت بڑی موٹیویٹر اور اس دور کی سچا پیار کرنی والے افسانوی کردار کی صورت میں سامنے آئی، جس کے سامنے کلاسک دور کی تمام محبوبائیں بہت پستہ قامت رہ گئی ہیں،
جس ویڈیو کا میں نے ذکر کیا، اس ویڈیو میں ثناء نام کی کوئی بیس سال کے لگ بھگ عمر کی لڑکی پنجابی لہجے میں رپورٹر کو انٹرویو کی صورت میں اپنی روداد سنا رہی تھی کہ وہ داؤد نام کے ایک لڑکے سے پیار کرتی تھی، دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے، دونوں کبھی کبھار داؤد کے موٹر سائیکل پر گھومنے پھرنے بھی جاتے تھے، لیکن ایک حادثے میں داؤد شدید زخمی ہو جاتا ہے اور پھر ڈاکٹر ان کے دونوں بازوں کندھوں تک اور ایک پاؤں کولہے تک کاٹ دیتے ہیں اور بقیہ جسم ان کا سن ہو جاتا ہے اور اس حادثے کے بعد ثناء کے والدین ثناء کا رشتہ کسی اور لڑکے سے طے کرتے ہیں لیکن ثناء گھر چھوڑ جاتی ہے اور بضد ہوتی ہے کہ مجھے داؤد کو اس حال میں نہیں چھوڑنا اور بالآخر اس کی شادی داؤد سے ہو جاتی ہے، لیکن ثناء کے والدین اس پر راضی نہیں ہوتے حتیٰ کہ ثناء کا والد داؤد سے بات کرنے کا روادار نہیں بھی نہیں ہوتا،
جب ثناء یہ سب کچھ بول رہی ہوتی ہے تو ساتھ ساتھ وہ کلپ بھی چلتے ہیں جس میں ثناء، داؤد کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی ہے داؤد کے شرٹ اور ٹی شرٹ تبدیل کرواتی ہے داؤد کے دانت ٹوتھ برش سے صاف کراتی ہے داؤد کے منہ کو دھوتی ہے اور اس کی داڑھی کو کنگھی کرتی ہے اور داؤد کے مونچھوں کو صاف کرنے کے بعد تاؤ دے کر برابر کرتی ہے ثناء کسی بھی لمحے اس کو اداس نہیں رہنے دیتی لیکن بار بار یہ بولتی ہے کہ بس میں داؤد کو پھر سے اسی طرح دیکھنا چاہتی ہوں کہ میرے ساتھ بس اپنے پاؤں سے گھومے پھرے اور اپنے ہاتھوں سے کھائے اور پیے،
وہ تمام انٹرویو میں ہمت، عزم اور حوصلے کی پیکر ہوتی ہے لیکن اس وقت آب دیدہ ہو جاتی ہے جب وہ بولتی ہے کہ ابو کا اب بھی مجھے فون آتا ہے لیکن جب میں ان سے بولتی ہوں کہ داؤد سے بات کریں تو وہ فون کاٹ دیتے ہیں اور وہ مزید بات والد سے گلے شکوے کی انداز میں کرتی ہے کہ مجھے اس اچھے کام پر گھر والوں نے سراہنا چاہیے تھا کہ یہ میرا فیصلہ ہے، جب میں اس حال اور اس کام پر خوش ہوں تو ان کو بھی خوش ہونا چاہیے تھا،
دوسری جانب جب داؤد کی کلپ دکھائی دی جاتی ہے تو وہ ہر لحاظ سے ثناء پر انحصار کر رہا ہوتا ہے وہ ثناء کی اس قربانی کا بار بار ذکر کرتا ہے اور وہ ثناء کے اس فیصلے، ہمت جرأت اور عزم کا احسان مند ہوتا ہے وہ مخیر حضرات سے یہ بھی التجا کرتا ہے کہ وہ ان کے مصنوعی ہاتھوں اور پیروں کا بندوبست اور ساتھ ساتھ اگر ہو سکے تو کسی کاروبار کا بندوبست بھی کریں تاکہ وہ ثناء کو گھر بٹھا سکے اور وہ خود عام مردوں کی طرح بیوی کو کھلائے اور پلائے کیونکہ اس کو یہ بھی نہیں پسند کہ ثناء دیگر رشتہ داروں کے سہارے بازار سے سودا سلف لائے،
ہمت، حوصلے اور عزم کا پیکر داؤد یہ بھی بولتا ہے کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا بھی ہو گا لیکن آخر میں وہ اس بات پر آب دیدہ ہو جاتا ہے کہ باقی سب تو چلو ثناء کرتی ہے لیکن جب رفع حاجت کی بات آتی ہے تو پھر دوسروں پر انحصار کرتے وقت سوچتا ہوں کہ یہ دن بھی میں نے دیکھنے تھے لیکن اللہ کی مرضی،۔