The penthouses aka. Death houses that Gwyneth Paltrow is promoting are built on Palestinian Arab village of Al-Haram also known as Sayyidna Ali. Palestinian blood paid for them. 🇵🇸
Every single thing and assault has been documented, the inhumane and brutality Palestinians have gone through at the hands of Jews. Every single thing is there, yet this world and each one of us remain as if nothing has happened. The documentary was extremely hard to watch.
Just finished watching this and from the bottom of my heart I pray every American, every German, every French, every single person in entire world who supports Israel and its existence, I hope you get to feel the same pain, same humiliation and same wrath.
Dr. Hussam Abu Safiya, held indefinitely without charge since December 2024, and now in solitary confinement. If they’re doing this to the Director of Kamal Adwan Hospital, you know how they’re treating everyone else. Just as he didn’t abandon his patients, we can’t abandon him.
@farii_022 Jab larkiyan apny husan ki namizsh krti hein to gandy log peechy per jaty hein..... Qasoor dono tarf hota h..... Kabi ksisi ugly face girl ke saat bi rape howa h?
Congratulations to the people who trolled this man for 370 Rs, even the show ticket costs more than this amount-
He got fired for a Joke, imagine he is dating a beautiful girl, caring for his family, living alone far from his home city. Trolling becomes a masterstroke in the world of fragile male ego and fake feminism.
A 17-year-old student was raped and left to die at a hospital. A girl was killed by her cousin for using a mobile phone. A woman was killed by her own husband for denying him sex. A doctor had acid thrown on her by a lift operator. All of this happened within a single week.
جھنگ میں دل دہلا دینے والا واقعہ🚨
17 سالہ لڑکی کی اجتماعی زیادتی کے بعد موت
جھنگ میں ایک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ گھر سے اپنی رول نمبر سلپ لینے نکلی تھی۔ راستے میں ملزمان نے اسے اغوا کر لیا۔
چار ملزمان نے اسے تین دن تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تو اسے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ ریفر کر دیا گیا۔ وہاں وہ جانبر نہ ہو سکی اور گزشتہ رات ہسپتال میں انتقال کر گئی۔
میں پولیس ڈیپارٹمنٹ، قانونی اداروں، حکام بالا، مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے اپیل کرتا ہوں کہ ان درندوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور جھنگ چوک میں سر عام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنے۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں بنتِ حوا کہیں بھی محفوظ نہیں؟
والدین اور بچیوں کے لیے گزارش:
اپنی 3 سالہ بچی سے لے کر 50 سالہ ماں تک — کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑیں۔
بیٹیوں کو مارشل آرٹ اور سیلف ڈیفنس ضرور سکھائیں۔
بچیوں! گھر سے نکلتے وقت اپنے پاس چاقو ضرور رکھیں۔ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کے ہاتھ کاٹنے سے بھی نہ ہچکیں۔
ایسے معاشرے میں اپنا دفاع خود کریں۔
والدین سے خاص گزارش ہے: خدارا بیٹیوں کو کبھی اکیلا گھر سے نہ نکلنے دیں۔
اللہ پاک اس معصوم طالبہ کی مغفرت فرمائے، اس کے لواحقین کو صبر دے اور ان درندوں کو دنیا و آخرت میں شدید سزا دے، انہیں نشانِ عبرت بنائے۔ آمین
Horrible part is that men are defending this by saying “biwi ki ghalti hai ais ne mana kyun kiya”. You cannot force your wife to have intimacy with you.
یہ بزرگوں کا حال ھے🤦
"مجسٹریٹ صاحب!
مجھے اپنی بیوی کو قتل کرنے پر ذرہ برابر بھی شرمندگی نہیں ہے۔" 65 سالہ بابا مجبور دین کے اس سفاک اعتراف نے پورے کمرہِ عدالت میں سناٹا چھا دیا۔
یہ کوئی عام قتل نہیں تھا۔ بابا مجبور اور اس کی 58 سالہ بیوی کی بظاہر پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے پیچھے پچھلے 5 سالوں سے ایک آگ سلگ رہی تھی۔ بابے کے مطابق، اس کی بیوی نے اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات بالکل ختم کر دیے تھے۔ وقوعہ کی رات جب بابے نے اسے قریب بلایا تو اس نے نہ صرف صاف انکار کیا، بلکہ پاس پڑی قینچی اٹھا کر دھمکی دی: "اگر اب تم نے مجھے مجبور کیا تو میں اسی قینچی سے تمہارا نفس کاٹ دوں گی!"
اس ایک جملے نے 65 سالہ بابے کے سر پر خون سوار کر دیا۔ اس نے پاس پڑا لوہے کا بھاری راڈ اٹھایا اور اپنی بیوی کے سر پر اتنے وار کیے کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ لیکن اصل لرزہ خیز بات اس کے بعد ہوئی۔ بابا لاش کے پاس سے اٹھا، اطمینان سے خون دھویا، وضو کر کے نماز ادا کی اور پھر وہ خون آلود راڈ لے کر سیدھا تھانے جا کر گرفتاری دے دی۔
عدالت میں اس نے سینہ تان کر کہا: "میرا مذہب مجھے اس کا حق دیتا ہے۔ میرے بچے دودھ پیتے نہیں، انہیں سب پتا ہے۔ میں اپنی قانونی جنگ خود لڑوں گا!"
قانون اور معاشرہ اس وقت مزید بے بس ہو گیا جب بابے کے سگے بیٹوں نے بھی اپنی سگی ماں کے قتل کی ایف آئی آر اپنے باپ کے خلاف کٹوانے سے صاف انکار کر دیا۔ بالآخر بیٹوں کے مکر جانے پر، پولیس کو خود مدعی بن کر اس قاتل کے خلاف مقدمہ درج کرنا پڑا۔ ایک بند کمرے کی ضد نے پورے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا!
#CrimeStory #ShockingNews