اگر سلیم صافی کے گھر کے ملازم کو اُٹھا کر اس کی بیوی کے شب و روز پر سوالات کیے جائیں تو سلیم صافی کو کیسا محسوس ہوگا ۔۔ ؟؟
کیا سیاہ صحافت کے اس سیاہ کردار کے پاس ان تمام سوالات کا کوئ جواب ہے ۔۔ 👇؟؟
مجھے کیوں نکالا نے آج نہیں نام لیا کہ انہیں کس نے نکالا 😂
سمدھی اور بھائی کی حکومت کی بربادی عمران خان پر ڈالنے کی کوشش کی اور فرمایا
ساری خرابی عمران خان کی پیدا کردہ ہے
عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد شہباز شریف حکومت کی شائع کردہ اکنامک سروے رپورٹ
جاوید چودھری کی زبانی
لہو میں بھیگے تمام موسم گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے
وفا کے رستے کے سب مسافر گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے
سحر کا سورج گواہی دے گا کہ جب اندھیروں کی کوکھ سے
نکلنے والے یہ سوچتے تھے
کہ سب مسیحا مر چکے ہیں
تو تم کھڑے تھے
#تسبیح_والا_خان#چور_پھر_آرہا_ہے
وفات سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،
ارشاد فرمایا
کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا
تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔
پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی
کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،
اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے
جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟
اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا
اس کا بدلہ👇
"اس معصوم بچی کی آنکھیں غزہ کی کہانی سنارہی ہیں"
فلسطین میں ملبے سے ریسکیو کی گئی معصوم بچی کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
#PalestineGenocide#GTVDigital
یہ نسل پاکستان کی ہے اور عمران خان پاکستان کے قومی لیڈر ہیں بچے کبھی جھوٹ نہیں بولتے بچے تو بچے ہوتے ہیں ۔اس لیے ہم کھڑے ہیں
خان کے ساتھ
پاکستان کے ساتھ
#ImranKhanNeedsJustice
@POTUS Yes history are repeated, Hitler's also had his history. Nazi German was a history. Hazarat Essa A.S was his own history. We know all about this Islam has its own status.
آپ بہت کمزور ہو گئے ہو آج بھی لوگ ملے یہی کہتے ہیں ۔ ابن الوقت کا مارا ہوا شخص عمران ریاض خان
دیکھتے ہوئے قوم شرمندہ ہوتی ہے ایسے حیوان پالے ہم نے جو اپنے محسنوں کے گلے کاٹنے پر تلے ہیں ۔
خدا کی لاٹھی بے آواز ہے
@sherafzalmarwat@HamidMirPAK @ARYSabiirShakir @everyone
حماس رہنماوں کی انتہائی اہم پریس اسرائیلی کے تمام مظالم کو بے نقاب کردیا
مغربی میڈیا نے اس پریس کانفرنس کو کوریج نہیں دی اس لئےہم سب کا فرض ہے کہ اس پریس کانفرنس کو جتنا ریٹویٹ کر سکتے ہیں
ریٹویٹ کرے تاکہ پورے دنیا میں پھیلایا جاۓ
https://t.co/gmDW1bWtEu
نواز شریف کو جیسے لندن سے ہائی کمشنر نے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کروایا ہے ن لیگ کے عہدہ دران خود پریشان ہے ایسی کونسی طاقت ہے جو سب کچھ کروانے پر مجبور کر رہی ہے ۔ وہ کون سا سسٹم ہے جو نواز شریف کو پاکستان کے قوانین پاؤں کے تلے روند کر واپس لانے اور وزیراعظم بننے کی ہامی بھری
نواز شریف کو جیسے لندن سے ہائی کمشنر نے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کروایا ہے ن لیگ کے عہدہ دران خود پریشان ہے ایسی کونسی طاقت ہے جو سب کچھ کروانے پر مجبور کر رہی ہے ۔ وہ کون سا سسٹم ہے جو نواز شریف کو پاکستان کے قوانین پاؤں کے تلے روند کر واپس لانے اور وزیراعظم بننے کی ہامی بھری