بیٹی درماں خان یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کی 4رکنی ٹیم کا حصہ ہیں جس نے ریاست الینوائے میں پہلی بار آئن کو ٹریپ کیا ہے وہ کوانٹم فزکس میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں،صرف 25 برس پہلے تک تصور تھا کہ انسان ایٹم کو کبھی نہیں دیکھ سکے گا لیکن اب وہ ٹریپ بھی ہو گیا، پاکستانی ہاتھوں سے
تجزیہ کار دور کی کوڑی لانے میں بہت دور نکل جاتے ہیں کہ حقائق سے تعلق نہیں رہتا
گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک تھا اور ہے
پہلے اسٹیبلشمنٹ ڈاکا مارتی تھی
ابھی وہ زمینی حقائق کے تحت اس معاملے میں نیوٹرل ہے
ن لیگ کی حکومت پیپلزپارٹی کے دم سے ہے
بس اتنی سی بات نتیجہ سامنے
بیٹی درماں خان اپنے آئن ٹریپنگ کے پوسٹر اور ٹیم کے ساتھ، وہ امریکن فزکس سوسائٹی کے ایٹمک، مالیکیولر اور آپٹیکل فزکس ڈویژن کے سالانہ عالمی اجلاس میں شریک تھیں 5 روزہ اجلاس امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں منعقد ہوا
وہ یونیورسٹی آف الی نوائے UC سے کوانٹم کمپیوٹنگ میں PhD کر رہی ہیں
@asmashirazi پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے حکومت صرف وزیراعظم اور اس کی کابینہ ہوتی ہے، ہاں
پیپلزپارٹی کی سپورٹ سے حکومت قائم ضرور ہے اس کا اسے جو بھی فائدہ ملے، ظاہر ہے حکومت خیال تو کرے گی جس کے دم سے وہ قائم ہے
پیپلز پارٹی نے تاریخی طور پر گلگت بلتستان کے سیاسی اور انتظامی حقوق کو وسعت دینے کے لیے کسی بھی دوسری مرکزی قومی جماعت سے زیادہ کردار ادا کیا ہے، اور یہی میراث آج بھی خطے میں اس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ ہے۔
· ذوالفقار علی بھٹو کی نے ایف سی آر طرز کا انتظامی ڈھانچا اور راجگی.جاگیردارانہ نوآبادیاتی نظام کو ختم کیا.
· بینظیر بھٹو کی حکومت نے 1990 کی دہائی میں مزید نمائندہ اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں جماعتی بنیادوں پر سیاسی شرکت اور ایک زیادہ باقاعدہ منتخب نظام شامل تھا۔
· پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر متعارف کرایا، جس کے تحت خطے کو اس کا سرکاری نام، منتخب اسمبلی، وزیر اعلیٰ، گورنر، اور صوبے جیسا انتظامی ڈھانچا ملا۔
ان اصلاحات کی وجہ سے گلگت بلتستان کے بہت سے لوگ پیپلز پارٹی کو سیاسی حقوق، شناخت کے اعتراف، اور خود حکمرانی سے جوڑتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے جب حقوق کے نیریٹو کو استعمال کیا تو تو لوگوں کو اعتماد کرنے کی وجہ موجود تھی۔
@nizshaz29@askw65 سمندر میں تیر
دریا میں تیر
کھیتوں میں تیر
صحرا میں تیر
شہروں میں تیر
دیہات میں تیر
پہاڑوں میں تیر
ذہنوں میں تیر
ماضی میں تیر
حال میں تیر
مستقبل میں تیر
گلگت بلتستان نے پیپلزپارٹی کے تاریخی فٹ پرنٹ پر اعتبار قائم رکھا، احسان سمجھا احترام دیا، آئینی جمہوری راہ کو وقعت دی، انسانی وسائل پر اخراجات اور صحت پالیسی کی اہمیت کا ادراک کیا، نفرت تعصب سے دوری رکھی، لاعلم بھیڑ چال کی بجائے شعور کا مظاہرہ کیا
یہ سب ہو تو پھر تیر ہی برستا ہے
صاحب زادے روشان خان نے حبیب یونی ورسٹی کراچی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر لی
ماسٹرز کے لئے امریکا کی یونی ورسٹی آف روچسٹر نیویارک میں ان کا داخلہ ہو گیا ہے، مشکل صورت حال کے سبب ایک برس کے لئے ہولڈ کرا لیا ہے
آخری خبریں ملنے تک
گلگت بلتستان کے عوام نے
شعور کا مظاہرہ کیا اور
لاہور کی ترقی کی ہنڈیا چوراہے پر پھوڑ دی اور کراچی کی منفی ذہنیت کو بھی مسترد کر دیا
بتا دیا کہ کراچی جیسی صحت تعلیم اور ترقی چاہئے تاکہ کہ اپنے شہر میں رہ سکیں
@letsdiscuss_39 شکریہ، ہماری بیٹی درماں خان یونی ورسٹی آف الی نوائے اربانا شیمپین سے کوانٹم کمپیوٹنگ میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں جو اس ملک میں تو کیا خطے میں بھی شاید ہی کوئی ہو، انہوں نے 100%اسکالرشپ پر
روچسٹر یونیورسٹی نیویارک سے فزکس میں امتیازی پوزیشن سے گریجویشن کی تھی