2011میں پشاورہائی کورٹ میں ایک کیس سناگیا
جسٹس اعجازافضل جج تھےایک ملزم نےجوکه ٹیچرتھا
اورجعلی ڈاکومنٹس پربھرتی ہواتھااور وہی جعلی دستاویزات کورٹ میں جمع کروادی تھیں جج صاحب نے10منٹ تک تواسےعدالت میں مرغابنائےرکھاپھر7سال قیدسنائی
فرق صرف یہ تھاکہ وہ غریب کا بچہ تھا
اب جس دن جہانگیر ترین صاحب کی نا اہلی کا فیصلہ واپس ہوا تو اس دن مخالفین نے کچھ ایسا کہنا ہے۔۔
یہ جج بک گئے ہیں
یہ فیصلے کہیں اور سے ہو رہے ہیں
یہ سب خلائی مخلوق کروا رہی ہے
ہم ایسے فیصلوں کو نہیں مانتے