اجتماعی دانش، افہام و تفہیم، اتفاق اور سیاسی ہم آہنگی سے ملک کے معاشی و دیگر مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے مسائل کے حل کیلئے پہل کرنا مثبت اقدام ہے۔گرینڈڈائیلاگ میں آئین پاکستان کی روشنی میں روڈمیپ بنانا چاہئیے جو عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں
@AsfandyarKWali
حالات جس نہج پر ہیں اسے حل کرنا ایک فرد،سیاسی جماعت یا ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔سیاسی ہم آہنگی،باہمی اعتماد بحال نہ کیا گیا تو خدانخواستہ حالات بدتری کی جانب جاسکتے ہیں۔ملک ہوگا تو سیاسی جماعتیں یا ادارے ہوں گے،اقتصادی اعتبار سے ملک کی بقا کا مسئلہ بن چکاہے۔
8/8
معاہدے کرتے وقت یاد رکھیں کہ مستقبل میں اس کے مثبت یا منفی اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے۔ گرینڈ ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر سٹیک ہولڈرز بھی شامل ہو۔ تمام سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر ہی پاکستان کے ہر مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں
7/8
عالمی اداروں کے ساتھ معاہدوں میں ترجیحات عوامی رکھنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں مشکلات نہ ہو۔ گرینڈ ڈائیلاگ کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھی۔ سیاسی جماعتوں کو معاہدوں کے وقت اقتدار کی بجائے ملکی و عوامی مفادات کو مدنظر رکھنا ہوگا
6/8
عوام مہنگائی، بدامنی اور لاقانونیت کے شکار ہیں اور دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔حکمرانوں کو احساس ہونا چاہئیے کہ مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ فوری اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو پاکستان کے عوام زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہیں گے
5/8
حکومتوں کو سنجیدہ عملی اور عوامی مفادات کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ملک میں جاری بدترین مہنگائی، ناروا لوڈشیڈنگ اور معاشی صورتحال کو قابو نہ کیا گیا تو عوام معاف نہیں کرے گی۔گذشتہ چار سالوں میں سیاست نہیں دشمنی کی گئی، گرینڈ ڈائیلاگ پہلے ہوتی تو ملک اس صورتحال سے دوچار نہ ہوتا
4/8
اس وقت سیاسی فائدے و نقصان کی بجائے غریب عوام کا سوچا جائے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہوچکے ہیں، بے روزگاری تباہ کن صورتحال اختیار کرچکی ہے، پاکستانی شہری باہر ممالک میں روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔روزمرہ اشیاء کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں
3/8
ایسا روڈمیپ جو خواتین،نوجوانوں سمیت تمام انسانی حقوق کا محافظ ہو اور آنیوالی تمام حکومتوں کیلئے گائیڈلائنز مہیا کریں۔ملک اور عوام کے بہترین مفاد میں مقبول عوامی نکات پر اتفاق ناگزیر ہوچکا ہے۔ عوام جینے کے قابل نہیں رہے۔مہنگائی ایک مرض بن چکی ہے
2/8
اجتماعی دانش، افہام و تفہیم، اتفاق اور سیاسی ہم آہنگی سے ملک کے معاشی و دیگر مسائل حل کئے جاسکتے ہیں، وزیراعظم کی جانب سے مسائل کے حل کیلئے پہل کرنا مثبت اقدام ہے۔گرینڈڈائیلاگ میں آئین پاکستان کی روشنی میں روڈمیپ بنانا چاہئیے۔جو عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں
1/8
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدرخان ہوتی آج رات 8 بجے خیبرنیوز کے پروگرام 'پاکستان لاؤنج' میں میزبان رفعت اللہ اورکزئی کے ساتھ مہمان ہوں گے۔
#ANP | #AmeerHaiderKhanHoti
پشتون ایم این اے علی وزیر نے اسمبلی سے زیادہ وقت جیل میں گزارا لیکن اگر عمران خان ملک کی تقسیم کی بات کرتا ہے تو انہیں کچھ نہیں کہا جارہا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران نیازی کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ عدلیہ انہیں بلائے اور پوچھا جائے کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے
@AimalWali
سوشل ویلفیئر ایک اہم محکمہ ہے لیکن بدقسمتی سے سیکرٹری سے لے کر وزیر (جو ہر 3 مہینے بعد بدل جاتے ہیں) کو سٹینڈنگ کمیٹی بلایا جاتا ہے لیکن ابھی تک ایک فیصد کام نہیں ہوا۔ یہ محکمہ خصوصی افراد کے کوٹے کی بات کرتا ہے لیکن یہاں بھی اپنی مرضی کے لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں
@ShaguftaMalik12
مستقبل میں بھی مشترکہ طور پر کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان، پختونخوا میں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی، پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نجم الدین خان، شیراعظم وزیر اور ن لیگ کے مرتضیٰ جاویدعباسی شامل تھے۔
#ANP | #AimalWaliKhan
عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کی اسلام آباد میں جے یو آئی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی رہنماؤں سے ملاقات۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال بالخصوص خیبرپختونخوا کے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور تمام سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تجاویز دی گئیں۔
پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں 17 ملازمین دیگر صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں،یہ بھرتیاں کس قانون کے تحت ہوئی ہیں۔کیا دیگر صوبوں میں بھی پختونخوا سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا گیا ہے؟ یہ غیرقانونی بھرتیاں جس کا کوئی حق نہیں بنتا
خوشدل خان ایڈوکیٹ
سینئر نائب صدر اے این پی پختونخوا
پشاور میں بیٹھ کر پختونخوا کی سرزمین کو استعمال کررہا ہے اور عوام میں نفرتیں پھیلارہا ہے۔انہیں سیاسی جماعتوں کا شکرگزار ہونا چاہئیے کہ چوری کے مینڈیٹ سے بنے وزیراعظم کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا۔وزیراعلیٰ اور عمران خان کے مشاورین کے بیانات خطرناک ہیں، سیاست کریں دشمنی نہیں
5/5
جمہوری نظام میں ہر ادارے کا آئینی اختیار درج ہے، تجاوز اس ملک کے پورے نظام کیلئے مہلک ہوگا۔ملک کسی فرد نہیں بلکہ نظام کے تحت چلایا جاتا ہے، ایک فرد کی مرضی کسی پر بھی مسلط نہیں کی جاسکتی۔ اقتدار کیلئے عوامی پیسہ استعمال کیا جارہا ہے لیکن احتسابی اداروں کو شاید نظر نہیں آرہا
4/5
آج جو باتیں عمران خان کررہا ہے، کوئی اور ہوتا تو ان پر بغاوت اور غداری کے فتوے لگ چکے ہوتے۔ سیاست شائستگی کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی کے بعد سیاسی مخالفت ذاتی دشمنی میں بدلا ہے۔ آج عمران خان اداروں کو سیاست میں کھلی مداخلت کی دعوت نہیں بلکہ بھیک مانگ رہا ہے
3/5