عوامی نیشنل پارٹی؛ سوشل میڈیا ٹیموں کے لیے مزید اراکین سے درخواستیں مطلوب ہیں
اگر آپ عوامی نیشنل پارٹی کے متحرک اور نظریاتی کارکن ہیں، سوشل میڈیا کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل، ذمہ دار، باصلاحیت اور پرعزم ہیں، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پارٹی کے مؤقف، 1/3
موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد منتخب امیدواروں سے اگلے مرحلے کے لیے رابطہ کیا جائے گا۔
#ANP | #AwamiNationalParty
فارم لنک اگلے کمنٹ میں:
عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت، کارکنان اور نظریات کے خلاف حالیہ مذموم پراپیگنڈا مہم کے دوران پارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، کارکنان اور نظریاتی ساتھیوں نے جس ذمہ داری، سنجیدگی اور فکری پختگی کا مظاہرہ کیا، اس پر ہم سب ان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔
قومی تحریک کو بدنام کرنے، قائدین کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کی یہ کوئی پہلی کوشش نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں ایسی سازشوں کے ذریعے ہماری جدوجہد کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، مگر ہر بار سچ، دلیل اور حقائق نے ان منفی ہتھکنڈوں کو ناکام بنایا۔
یہ ہمارے اکابرین کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ گالم گلوچ، بدتہذیبی، بہتان تراشی اور نفرت انگیز مہمات کا جواب برداشت، اخلاق، حقائق اور مضبوط دلائل کے ساتھ دیا ہے۔ ہمارے نظریات، فکری استقامت اور قومی شعور ہی ہماری اصل طاقت ہیں، جنہیں کسی بھی پراپیگنڈے کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، کارکنان، ذمہ داران اور ہمدردوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں پارٹی کا مؤقف مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا اور جھوٹ و نفرت کے مقابلے میں سچ اور دلیل کا علم بلند رکھا۔ عوامی نیشنل پارٹی اس سرزمین کی وارث اور قوم کی حقیقی ترجمان ہے، اپنے قوم کے حقوق اور اختیار کے لئے باچا خان کے پیروکاروں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
وخته ته ښه وس وکه چې ورک مې کړې
زه به ځان پیدا کړمه پښتون به شم
زه د محبت د ګلو تخم یم
دا خاوره ما نه خوري را زرغون به شم
سیف اللہ فضل
مرکزی سیکرٹری - سوشل میڈیا
State & its agencies have shown criminal abdication of responsibility in controlling hate speech & cyber bullying triggered by few individuals past few days in Pakhtunkhwa targeting ANP. PECA law is dead for its actual purpose & conveniently abused to harass political dissidents
This impunity for politically motivated actors to malign political parties and endanger lives of people is absolutely unacceptable. If things are allowed to go like this, then we reserve the right to defend our party leadership and workers.
ابھی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو نظر سے گزری، جس میں ایک بے بس ماں آہ و پکار کے ساتھ یہ فریاد کررہی تھی کہ اُس کی معصوم بیٹی کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ ایک ماں کی بے بسی، اُس کی چیخیں اور اپنی بچی کیلئے تڑپ شاید کسی بھی انسان کے دل کو ہلا دینے کیلئے کافی ہیں۔
انشاء اللہ، ہم سے جتنا ممکن ہوسکا اس معصوم بچی کو اُس کی ماں سے ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
سندھ حکومت اور بالخصوص بلاول بھٹو زرداری سے اپیل ہے کہ اس ماں کی فریاد سنی جائے اور فوری طور پر اس بچی کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
اللہ تعالیٰ اس بچی کو جلد اور خیریت کے ساتھ اُس کی ماں سے ملائے۔ آمین۔@CMSindh@BBhuttoZardari
صدر محترم نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بنیادی اصول سے کیا کہ صوبائی خودمختاری، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی و انتظامی حقوق محض قانونی دفعات نہیں، بلکہ قومی انصاف، مساوات اور وفاقی وحدت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا سمجھوتہ وفاقی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔
27ویں ترمیم اور ایمل ولی خان کا سینیٹ سے خطاب پر ترجمان اے این پی انجینئر احسان اللہ خان کا ردعمل
#ANP #ANPSpox #AimalWaliKhan
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر کی حالیہ سینیٹ تقریر محض ایک پارلیمانی خطاب سے کہیں بڑھ کر تھی؛ یہ ایک جامع فکری و سیاسی اعلامیہ تھا جس نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں آئین، جمہوریت اور وفاقی توازن کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھائے۔ اس تقریر نے اصولی سیاست، جمہوری اخلاقیات اور عوامی شعور کے درمیان وہ ربط بحال کیا جو طویل عرصے سے قومی مکالمے سے غائب رہا ہے۔
#ANP #ANPSpox #AimalWaliKhan
27ویں ترمیم اور ایمل ولی خان کا سینیٹ سے خطاب
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر کی حالیہ سینیٹ تقریر محض ایک پارلیمانی خطاب سے کہیں بڑھ کر تھی؛ یہ ایک جامع فکری و سیاسی اعلامیہ تھا جس نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں آئین، جمہوریت اور وفاقی توازن کے حوالے سے بنیادی سوالات اٹھائے۔ اس تقریر نے اصولی سیاست، جمہوری اخلاقیات اور عوامی شعور کے درمیان وہ ربط بحال کیا جو طویل عرصے سے قومی مکالمے سے غائب رہا ہے۔
صدر محترم نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بنیادی اصول سے کیا کہ صوبائی خودمختاری، اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی و انتظامی حقوق محض قانونی دفعات نہیں، بلکہ قومی انصاف، مساوات اور وفاقی وحدت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ بارہ برس میں اکثریت کی بنیاد پر آئین کے ساتھ سمجھوتوں کی روش وفاقی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔
تقریر کا ایک اہم پہلو تینوں بڑی حکمران جماعتوں—مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی پر نرم مگر مدلل تنقید تھا۔ صدر محترم کا موقف تھا کہ آئین و جمہوریت سے سمجھوتوں کی اصل ذمہ داری انہی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو اقتدار میں رہتے ہوئے آئینی اداروں کی خودمختاری کو کمزور کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی “کھڑوا گھونٹ” پیا تو وہ اقتدار کی خاطر نہیں، بلکہ اپنے عوام کی بھلائی اور تحفظ کے لیے تھا۔ اس بیان سے عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سیاسی کردار کو واضح کیا کہ پارٹی کے تمام فیصلے اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں، ان میں عملیت پسندی تو ہوسکتی ہے مگر ذاتی مفادات کے لیے کوئی مصلحت نہیں۔
صدر محترم نے مزید کہا: “ہم اپنی بساط میں جن خرابیوں کو روک سکتے تھے، روکا ہے۔” یہ جملہ پارٹی کی سیاسی حقیقت پسندی اور پارلیمانی مزاحمت کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کے اندر رہتے ہوئے تنقید، مزاحمت اور اصلاح کی سیاست کی، کمپرومائزڈ لیڈران کی طرح عوام کے سامنے محض نعرے اور درپردہ مقتدرہ کی نوکری نہیں کی ۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ آئینی جمہوری جدوجہد پارلیمان کے فلور پر ہوتی ہے۔
یہاں میں ایک اور صورتحال بھی سامنے رکھنا چاہوں گا کہ تمام توقعات عوامی نیشنل پارٹی سے رکھنا اور ووٹ آئین شکن قوتوں کے حامیوں کو دینا منطقی تضاد ہے۔ پختونخوا کے عوام کو مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی پر غور کرنا ضروری ہے۔ اگر جمہوریت، آئین اور سویلین بالادستی واقعی ہماری ترجیحات ہیں تو ووٹ کا فیصلہ بھی انہی اصولوں پر ہونا چاہیے۔
تاریخ میں ایک دن بتادیں جب عوامی نیشنل پارٹی آمریت کا ساتھ دیا ، کسی غیر آئینی عمل کی حمایت کی ہو ، مگر وہ جماعتیں جو اقتدار سے باہر نہیں رہنا چاہتی جمہوریت کے علمبردار بھی بنتے ہیں، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی لگاتے ہیں اور ایک نوخیز جماعت تو ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سیاست کی تاریخ شروع ہی عمران خان سے ہورہی ہے ۔
تقریر کا ایک گہرا نکتہ موجودہ سیاسی بیانیے پر تنقید تھا جہاں انہوں نے کہا کہ آج “آئین کی بات صرف ایک فرد کے اختیار اور ایک صاحب کی رہائی تک محدود کر دی گئی ہے”۔ یہ جملہ اس سوچ کی نشاندہی کرتا ہے جو آئینی جدوجہد کو کسی ایک شخصیت کے اختیار یا کسی مخصوص جماعت کی نجات سے جوڑ دیتی ہے۔ صدر محترم کے نزدیک آئین کسی فرد کا نہیں، پوری قوم کی اجتماعی آزادی، مساوات اور خودمختاری کا معاہدہ ہے۔
ان کا لہجہ تصادم آمیز نہ تھا، مگر پیغام نہایت دوٹوک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پارٹی نے آج کسی بل کی حمایت کی تو وہ سیاسی مصلحت کی بجائے اس لیے کہ حکومت نے صوبائی خودمختاری، اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی میں صوبائی حصص سے متعلق ANP کے مطالبات تسلیم کیے۔ یہ فیصلہ اصولی، آئینی اور وفاقی توازن کے تحفظ کے لیے کیا گیا، نہ کہ کسی فرد یا جماعت کی خوشنودی کے لیے۔
یہ تقریر درحقیقت ایک جمہوری یاددہانی ہے کہ آئین کا تحفظ، وفاقی مساوات اور سویلین بالادستی کی جنگ وقتی مصلحتوں یا نعروں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے عوام کو بھی ووٹ اور سیاسی فیصلوں میں وہی اصولی پختگی دکھانی ہوگی جو عوامی نیشنل پارٹی اپنی سیاست میں دکھا رہی ہے۔
“ہم اصولوں پر کھڑے ہیں، چاہے وقتی نقصان ہو؛ مگر قوم کے نقصان پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے۔”
یہ پیغام نہ صرف حکومت بلکہ عوام کے لیے بھی ہے کہ اگر جمہوریت، آئین اور صوبائی خودمختاری واقعی عزیز ہیں تو ووٹ ان قوتوں کو ملنا چاہیے جو ان اصولوں پر عملی طور پر کھڑی ہیں، نہ کہ ان جماعتوں کو جو اقتدار کے لیے ہر آئینی حد پار کرنے کو تیار رہتی ہیں۔
یہ تقریر محض ایک سیاسی موقف نہیں، بلکہ ایک فکری منشور ہے، وہ آواز جو آج کے شورِ سیاسی میں سننے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
انجینئر احسان اللہ خان
#AWKTheOnlyHope
جمہوریت کے ایک طالبِ علم ہونے کے ناطے، وزیراعظم شہباز شریف نے جس طرح استثنیٰ سے انکار کیا ہے، عوام اس فیصلے کی ضرور قدر کریں گے۔ پختونخوا کے نام کے حوالے سے ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ آنے والی آئینی ترمیم میں یہ شامل ہوگا۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#AimaWaliKhan | #AwamiNationalParty | #ANP
جو ترامیم ہم نظریاتی طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، انہیں ہم نے نکال دیا۔ 18ویں آئینی ترمیم کو جو خطرہ تھا، اسے ہم نے ختم کیا۔ جہاں تک پختونخوا کے نام کی بات ہے، ہم نے 70 سال کی جدوجہد کے بعد خیبر پختونخوا حاصل کیا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ میرا ماننا ہے کہ کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے، قانون اور آئین سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ میں وزیراعظم شہباز شریف کو خود احتسابی کے جذبے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#AimaWaliKhan | #AwamiNationalParty | #ANP
میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ تاحیات ہونے کی جو بات کی جا رہی ہے، وہ تاحیات آفس کے بارے میں نہیں بلکہ تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے سے متعلق ہے۔ البتہ میں چیف آف آرمی اسٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا بھی مخالف ہوں۔ جب ان کا مقررہ ٹینیور مکمل ہو جائے گا تو ایک نیا چیف مقرر کیا جائے گا۔
سینیٹر ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی
#AimaWaliKhan | #AwamiNationalParty | #ANP