نیا جال لائے پرانے شکاری۔۔۔ 72 سال پہلے مشرقی پاکستان میں پہلا گورنر راج لگایا گیا تھا۔ دو تہائی اکثریت والی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔ آقاؤں کے پیٹ میں مروڑ اس لئے اٹھا کہ مرکزی حکومت کو صوبائی انتخابات میں ذلت آمیز شکست ہو گئی تھی۔ وزیراعلی مشرقی پاکستان شیرِ بنگال مولوی فضل الحق کو گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا، ہزاروں سیاسی کارکنوں کو جیل میں ڈالا گیا۔ وفاقی دارلحکومت سے سبق سیکھانے کے لیے میجر جنرل سکندر مرزا کو ڈھاکہ بھجوایا گیا۔ الزامات وہی گھسے پٹے جو آج بھی ہیں: ملک دشمنی، غداری، انتظامی نااہلی اور امن و امان۔۔۔
یہ شخص مسکرا کر اسے ویلکم کرتے ہوئے ہاتھ سے بھی اس کا رخ موڑ سکتا تھا
لیکن نہیں اس نے ایک پردیسی کو ٹھڈے مار کر بتایا کہ تمھاری کیا اوقات ہے
بہت افسوس ہے یار اس قسم کے روئیے پر یہ وہ لوگ جو اپنوں سے دور روزی روٹی کماتے ہیں گھر کے ساتھ اپنے ملک کو چلانے میں بھی مدد کرتے ہیں
ایسا سلوک قابل مذمت ہے
ایک ضروری اعلان سنئیے۔۔
آج بشرٰی بی بی،یاسمین راشد،عالیہ حمزہ،فلک جاوید،صنم جاوید سمیت PTI کی کئی خواتین جیلوں میں ہیں،ان کو سینکڑوں سالوں کی سزائیں سنائی جا چکیں ہیں،کئی PTI کی خواتین جیلیں بھگت چکی ہیں،کئی PTI کی خواتین پیشیاں بھگت رہی ہیں اور اب علیمہ خان دوسری بار جیل پہنچ چکی ہیں اور حکومت ان کی ہےگزشتہ کل جن کی جمہوریت صرف مریم نواز اور فریال تالپور کی گرفتاری پر خطرے میں پڑ گئی تھی،پتا نہیں وہ نوازشریف صاحب کہاں ہیں،جنہوں نے مریم نواز پر مقدمہ بننے پر کہا تھا،دکھی ہوں کہ بہنوں،بیٹیوں پر مقدمے بنائے جا رہے،پتا نہیں وہ بلاول بھٹو کہاں ہیں،جنہوں نے مریم نواز گرفتاری پر عمران خان کو بےغیرت اور بزدل کہہ دیا تھا اور پتا نہیں وہ سب کہاں ہیں کہ جنہوں نے فریال تالپور گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا،اب نوازشریف صاحب کو کون بتائے کہ صرف ایک بہن،ایک ماں یاسمین راشد کو اتنے سالوں کی سزا سنائی جا چکی ہےکہ جتنے سالوں کی سزا 79 سالوں میں آج تک کسی خاتون کو نہیں سنائی گئی،اب بلاول بھٹو سے کون ہوچھےکہ آج علیمہ خان کو جیل پہنچا کر آپ سب نےغیرت کا مظاہرہ کیا ہے یا۔۔۔
اعلان ختم ہوا۔۔
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
🔴🔴🔴 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد معرض وجود میں آنے والی پاکستان کی سب سے بڑی طاقتور عدالت وفاقی آئینی عدالت 14 ستمبر کو بتائے گی کہ اس کا قیام کس لیے ضروری تھا.....
The PCB made a formal complaint to Sky Sports after the broadcaster aired an interview with the sons of former prime minister and captain Imran Khan during the lunch interval on the first day at Lord's
Cricinfo understands the PCB considered the option of Pakistan not taking the field after the break in protest
Details: https://t.co/CpGg7lzXh7
Imran Khan’s sons have accused the Pakistani government of “blatantly trying to kill” the jailed former prime minister and cricket captain.
Khan, 73, has been in jail in Pakistan for the past three years because of a string of allegations that followed his ousting as prime minister in August 2022 ⤵️
https://t.co/H2VqDtskAH
پاکستانی قوم گجنی نہیں ہے۔ نہ ہی نواز شریف کی چار سالہ مفروری کو بھولی ہے نہ ہی فیملی اسپتال کے اس اسپتال نما سیٹ کو ۔ زیر نظر تصویر نواز شریف کا کمرہ ہے جسے عدالت کو چکمہ دینے کے لئے شریف میڈیکل سٹی اسپتال کا سیٹ لگایا گیا ۔ قائد سروسز کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے اپنے گھریلو اسپتال شریف میڈیکل سٹی پہنچے اور وہاں سے گھر جا کر یہ تصویریں میڈیا کو ریلیز کر دیں کہ یہ ہمارا بیڈ روم اسپتال ہے یہاں اب نواز شریف کا علاج ہو گا۔
آج اعظم نذیر تارڑ فرما رہے ہیں سب کے لئے ایک قانون
یہ عورت آج ریٹائر ہو رہی ہے۔ اس کو ساری عمر آپ نے یاد دلانا ہے کہ اس عورت نے کتنی ماؤں کے ساتھ ظلم کیا۔ اس عورت کو اللہ لمبی عمر دے، اور اس زندگی کا ہر دن وہ درد ملے اس کو، جو اس نے مظلوم بچوں کو اور ان کی ماؤں کو دیا۔ اور ایک دن یہ رو رو کر ان ماؤں سے معافی مانگے۔ جس بے غیرتی سے اس نے انصاف کی دھجیاں اڑائیں، اس کا حساب تو قیامت کے دن بھی ایسا ہو گا کہ بس۔ ایسے جج جہنم میں سب سے نچلے درجے میں ہوں گے، ان شاء اللہ۔ مریم ریاض وٹو
#pakistan @soulful7867
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
مسرت ہلالی اُس کٹھ پتلی ٹولے کا حصہ تھی جس نے بڑے اطمینان، بیشرمی اور بے حسی کے ساتھ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی گردن کو آخری جھٹکا دیا، یہ ٹولہ آخری وقت تک سب کچھ کرتا رہا کہ کہیں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، انہوں نے پوری تسلی کی کہ کہیں عمران خان بچ نہ جائے، فائز عیسی کالی آندھی کی طرح آیا جو سب کچھ جڑ سے اکھاڑ گیا۔ یہ آسیب زدہ لوگ جن کی منحوس پرچھائی اس ملک کی ساری میراث کھا گئی، قاضی زندہ لاش کی طرح پھر رہا ہے اور یہ بھی عدالتی تاریخ کے شرمناک اور گھٹیا ترین کرداروں میں شامل ہو کر بطور ضرب المثل یاد رکھی جائے گی جس طرح جسٹس منیر اور مولوی مشتاق جیسے خبیث لوگ آئے
الیکشن سے 2 روز قبل 6 فروری 2024 کو اس وقت کے نگران وزیر اعلی کو چیئرمین پی سی بی منتخب کر لیا جاتا ہے ۔۔۔ 8 فروری کے بعد آنے والی شہباز حکومت کو آج تک کوئی اعتراض نہیں تھا ٹیم پرفارمنس بدتر بھی رہی لیکن شہباز حکومت کی جانب سے ایک لفظ نہیں بولا گیا نا ہی خواجہ آصف کی طرف سے۔۔۔ اب اڑھائی برس بعد بھی خواجہ آصف تب بول رہے ہیں جب اقتدار ٹارگٹ ہوا ہے
وگرنا یہ آج بھی نا بولتے
اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ سوال:
۱) جب آپ اپنے مسلمان بھائی اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولی چلاتے ہیں، آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں اور آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہو سکتے ہیں؟
اگلے سوال خاموش تماشائیوں کے لیے:
۲) کیا آپ اپنے بڑوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اپنے شہریوں کو کیوں مارنا پڑ رہا ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی ہے؟
۳) کیا آپ اپنے بچوں کو قتل کی روزی کھلا کر فخر محسوس کرتے ہیں؟ آپ ٹیم قتل عام نہیں ہیں؟
۴) آپ کے گھر والے مطمعین ہیں آپ کی اس نوکری سے جس سے کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی خاندان کا قیمتی شخص اپنے بچوں سے اور والدین سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ آپ کے بچے شاید اچھی تعلیم حاصل کر جائیں اور آپ کے والدین اچھے ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں، مگر یہ ایک انتہائی خودغرض فیصلہ ہے آپ کا اور آپ کی پوری فیملی کا۔
۵) پچھلے چار سال میں کتنی بار خیال آیا کہ سوال پوچھیں قتل عام کروانے والے بڑوں سے؟ ہم نے سنا تھا فیڈبیک لی جاتی ہے ادارے میں اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں جتنا ظلم ہوا ہے وہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ برکت ہی اٹھ گئی ہے ملک سے، ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آرہی ہے۔
۶) جب یہ ظلم کا زمانہ ختم ہوگا اور جب آپ لوگوں میں جائیں گے تو اپنی کیا شناخت کروائیں گے؟ اور جب وہ پوچھیں گے کہ آپ نے کس طرح آواز اٹھائی ظلم کے خلاف تو کیا کوئی جواب ہوگا؟
۷) جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے، تو وہ کس طرح آپ پر فخر کریں گے اور کیا وہ اپنی شناخت میں آپ کا ذکر کریں گے؟
۸) ڈی چوک، مرید کے، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے شہداء جن کو اللہ کی فوج کے سپاہیوں نے گولیاں مار کر شہید کیا، آپ کے خواب میں اگر آکر سوال پوچھیں گے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
فوری طور پر توبہ کرنے کا وقت ہے یہ۔ اللہ سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ بہت ہی غلط کر رہے ہیں، آخر میں پچھتاوا ہوگا اور آگے شاید معافی کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ دل دکھانا مقصد نہیں ہے اس تحریر کا، پاکستانیوں کی جان قیمتی ہے، یہ احساس دلانا اور ان کو بچانے کی عاجزانہ کوشش ہے!
پاکستان زندہ باد!
ریاست ایک عرصے سے ن لیگ کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے، بلاول زرداری کی جماعت کو بھی باقاعدہ حصہ ملا۔ بجٹ کے موقع پر بلیک میل کرکے گلگت حکومت لے لی، اب آزادکشمیر میں حکومت لینے کے لیے ریاست پر چڑھ دوڑے ہیں۔ حالانکہ ن لیگ کے ہر فیصلے میں یہ بڑھ چڑھ کر انکے ساتھ ہوتے ہیں۔
کہتے ہیں، منہ کو خون لگ جائے تو پھر شکار کی عادت نہیں جاتی۔
اپنے ہی عوام کو 'ہارڈ اسٹیٹ' کے نام پر گولیاں مارنا، انہیں انتشاری اور دہشت گرد ثابت کرنا، کمزور بیانیے گھڑ کر اپنا دفاع کرنا، اشرافیہ کو ساتھ ملا کر ہر ظلم کو معمول بنانا، انتخابات کے نام پر دھونس جمانا، جبر کے ذریعے عوام پر حکومتیں مسلط کرنا، اور پھر اس سب پر اپنے مہروں سے جشن منوانا...
صاحب، منہ کو خون کی عادت لگ چکی ہے۔ بہتر ہے شیشہ تبدیل کرنے کے بجائے چہرے پر غور کریں۔ غلطی پر صرف شیطان اڑتا ہے؛ خود کو چند ساعتوں کے لیے ہی سہی، انسان سمجھ کر دیکھیں