@KhizarAbba2078 بھولڑو۔۔ یہ اسلام آباد کا ہفتہ وار بازار ہے اور بازار ختم ہونے کے بعد صفائی کی جارہی ہے جس سے سارے جیالے ایک جگہ اکٹھے کر کے اٹھائے جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے جب دیکھا کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والوں کے ساتھ عوام کا اچھا نمبر ہے تو سیاسی بیانیہ بنانا شروع کر دیا اور بلاول نے کہنا شروع کر دیا مذاکرات ہونے چاہیے، کیا مذاکرات ان کے ساتھ ہونگے جو پاکستان کے ساتھ الحاق کی شق ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔جولائی میں پولنگ میں فائدے کیلیے بلاول نے یہ بیان دیا ہے۔ان کے تیر اس بار ہوا میں چل گئے ہیں۔ میرا نہیں خیال ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ہونگے۔
@NadeemAfzalChan ناں چن جی ناں۔۔
صدر، چیئرمین سینٹ، گورنر، دو صوبوں اور کشمیر میں پوری حکومت
ہر بجٹ پر بلیک میلنگ۔۔وزیر خزانہ پی پی پی کا۔
کشمیر فساد کے پیچھے، سندھ نہری معاملے کے ہنگاموں کے پیچھے، کچے کے ڈاکووں کے پیچھے، لیاری گینگ کے پیچھے۔
ہر جگہ پی پی پی ہی نکلتی ہے۔
ہہلے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کا حصہ مارا گیا اب ترقیاتی بجٹ 50 فیصد لوٹ لیا گیا
بجلی چوری کریں سندھ کے پی اور کشمیر بل بھرے پنجاب
اپنے بچے ریڑھی ان کے بچوں کو لیپ ٹاپ اسکالرشپ دے پنجاب
اپنا آٹا 4500 میں خریدے اور انہیں 2100 میں دے پنجاب
اور پھران کتوں کی بکواس سنے پنجاب
I am deeply saddened by the tragic helicopter crash in Muzaffarabad and the martyrdom of all onboard. My heartfelt condolences to the bereaved families and the Pakistan Army. The nation honours the ultimate sacrifice of its brave sons. May Allah grant the martyrs the highest place in Jannah and give strength to their families.
باریک واردات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم کے مشیر @RanaSanaullahPK کا ایک بیان گزشتہ روز نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کہا کہ @JAAC__Official کے مطالبات میں آئین اور الیکشن ایکٹ میں درج اس حلف نامے میں تبدیلی بھی شامل تھی جس میں پاکستان سے وفاداری اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، پہلے یہ بات ناقابلِ یقین لگی، لیکن تھوڑی بہت تحقیق اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے واقعی اس حوالے سے آئینی و قانونی ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔
20 اپریل 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے آٹھ آئینی و قانونی مطالبات میں سے چھ مطالبات ایسے ہیں جن پر عمومی طور پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، تاہم مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے اور حلف نامے میں تبدیلی کے مطالبات نے سوالات کو جنم دیا اور عوامی حقوق کی تحریک کے پس منظر اور سمت کے بارے شکوک و شبہات پیدا کئے۔
آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق صدر، وزیراعظم اور اراکینِ اسمبلی اس حلف کے پابند ہیں جس میں واضح طور پر درج ہے۔
"That I will remain loyal to the country and the cause of accession of the State of Jammu and Kashmir to Pakistan."
اسی طرح آزاد کشمیر کے الیکشن ایکٹ میں مزید وضاحت کے ساتھ درج ہے۔
"I solemnly declare that I believe in the ideology of Pakistan, the ideology of state's accession to Pakistan and the integrity and sovereignty of Pakistan."
اس کے برعکس عوامی ایکشن کمیٹی نے جس متبادل حلف کی تجویز دی، اس میں کہا گیا۔
"Mandatory oath of loyalty by candidates and elected members of the Legislative Assembly to the geographical unity and integrity of the State of Jammu and Kashmir."
بادی النظر میں دونوں حلف ناموں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو فرق واضح دکھائی دیتا ہے، یہی سوال جب ہمارے دوست صحافی @danishirshad89 نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور امجد علی جان کے سامنے رکھا جب یہ شقیں پہلے سے آئین اور الیکشن ایکٹ کا حصہ ہیں تو انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، تو متعدد بار اصرار کے باوجود شوکت نواز میر اور امجد علی خان کوئی کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے، یہ انٹرویوز آج بھی دانش ارشاد کی فیس بک وال پر موجود ہیں۔
سوال یہ ہے جب کسی تحریک کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئیں جو ریاست کے آئینی، قانونی اور نظریاتی ڈھانچے سے متعلق حساس نوعیت کے ہوں تو ریاستی اداروں اور ریاستی مشینری کی توجہ اس جانب جانا ایک فطری امر بن جاتا ہے، بنیادی حقوق، سستی بجلی، عوامی فلاح اور انتظامی اصلاحات کے مطالبات پر عوامی ایکشن کمیٹی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے حمایت حاصل ہورہی ہے، لیکن جب ان مطالبات کے ساتھ ایسے نکات بھی شامل ہوجائیں جو ریاستی وفاداری کے حلف اور پاکستان سے الحاق کے مؤقف جیسے حساس معاملات کو چھیڑتے ہوں تو پھر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور تشویش بھی جنم لیتی ہے، شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی حقوق کی جدوجہد اور سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کے درمیان لکیر دھندلانے لگی ہے، ایسے میں ذمہ داری تحریک کی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ابہام دور کرے، اپنے مؤقف کی وضاحت کرے اور عوام کو یہ یقین دلائے کہ بنیادی حقوق کی جدوجہد کسی اور سمت میں نہیں جارہی ہے۔
پنجاب کا حساب خاندان کے اس فرد کی طرح ہے جو سب سے زیادہ کام کرتا ہے لیکن جتاتا نہیں۔ پاکستان کے لئے سب سے زیادہ قربانی ہمیشہ پنجاب نے دی۔
مجھے یہ کہنے دیجیے کہ پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ civilized صوبہ ہے۔ یہاں لوگ بل دیتے ہیں۔ یہاں کرائم ریٹ پاکستان کے باقی صوبوں کی بنسبت نا ہونے کے برابر ہے۔ یہاں کوئی نو گو ایریا نہیں۔ آپ اپنی املاک کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
تمام تر مشکل حالات کے باوجود پنجاب آگے بڑھتا ہے۔ یہاں کے لوگ ترقی پسند ہیں۔ پنجاب پاکستان کا سافٹ امیج بنانے میں صف اول پہ ہے۔ پنجاب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
پراؤڈ ٹو بی پنجابی پاکستانی
خیبرپختونخواہ کے 109 ارب کٹے ہیں(باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ بجکی چوری، ٹیکس چوری) یہاں ہوتی ہے۔ اتنا شور کر رہے ہیں
دوسری طرف پنجاب ہے جو سب سے زیادہ بل اور ٹیکس دے کر بھی 700 ارب دے آیا، اور کوئی چوں چراں ہی نہیں۔
پھر کہتے ہیں پنجاب کھا گیا ہے۔
کیا فارم 45 اور کیا فارم 47؟ اقتدار اور پختونخوا کی بربادی کیلئے سب ایک ہیں۔
وہ صوبائی وسائل، وہ مالی خودمختاری، وہ حقوق جنہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا، آج ایک ایک کرکے وفاق کے حوالے کئے جارہے ہیں۔
109 ارب روپے ایک ایسے صوبے کے بجٹ سے کاٹ کر وفاق کو دے دیے گئے جو پہلے ہی دہشتگردی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ رقم دفاعی اخراجات پر خرچ ہوگی۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس فیصلے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے؟ عوام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور نامزد کردہ کردار کس کے نمائندے ہیں۔
جو لوگ خود کو وفاقی حکومت مخالف کا سب سے بڑا علمبردار کہتے تھے، آج انہی کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ نے صوبے کے وسائل وفاق کی جھولی میں ڈال دیے۔ پختونخوا کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان کے حقوق، ان کے وسائل اور ان کی قربانیاں اسی دن کیلئے تھیں؟
ہمارے خلاف برسوں پروپیگنڈہ اسی لئے کیا جاتا رہا تاکہ قوم پرست اور حقیقی نمائندہ آوازیں اسمبلیوں سے باہر رہیں اور فیصلے وہ لوگ کرتے رہیں جو صوبے کا مقدمہ لڑنے کے بجائے خاموشی سے ہار مان لیتے ہیں۔
سوچئے، اگر یہ عوامی نیشنل پارٹی کا وزیراعلیٰ ہوتا، تو کیا پختونخوا کے وسائل اس انداز میں قربان کردیئے جاتے؟
اللہ پختونخوا کے عوام کا حامی و ناصر ہو۔
This picture was posted in the 90s. Decades later, nothing has changed.
Punjab is still the elder brother sacrificing, contributing and carrying the weight of the country, yet somehow it remains the easiest target for blame.
The biggest success of failed politicians was convincing people that Punjab, not corruption, incompetence, or bad governance was the reason for their misery. “Punjab hmara haqooq kha gaya”
Heartiest congratulations to Pakistan’s 🇵🇰 football team on winning the 2026 Diamond Jubilee International Football Tournament in the Maldives. Their impressive victory over Afghanistan in the final has brought pride and joy to the entire nation.
Wishing our talented players continued success in the future.
پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ آج کے فیصلے کے بعد 749 ارب ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب ہے۔
پنجاب کا فی کس ترقیاتی بجٹ 749,000 ÷ 127.7 ≈ 5,865 روپے فی فرد ہے جبکہ سندھ کا فی کس ترقیاتی بجٹ 706,000 ÷ 55.6 ≈ 12,698 روپے فی فرد ہے
اسی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ 8 لاکھ ہے اور ترقیاتی بجٹ 455 ارب ہے، کے پی کا ترقیاتی بجٹ بنا 455,000 ÷ 40.8 ≈ 11,152 روپے فی فرد، یعنی ان دونوں صوبوں کا فی کس پنجاب سے دوگنے سے بھی زیادہ۔
کیا بصد احترام یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیوں؟ پنجاب کا جرم کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ متعصب نہیں ہے؟ کسی کو گالی نہیں دیتا؟ اس سے پہلے بھی وہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی اور بلوچستان کو پسماندگی کے نام پر اپنی روٹی کے نوالے دے رہا ہے۔
محبت، اخلاص اور حب الوطنی کو کمزوری، جُرم اور گناہ نہ بنائیں۔ پنجاب کو کشمیر نہ سمجھیں مگر کم از کم پاکستان تو سمجھیں اور یکساں وسائل اس کا بھی حق ۔۔۔
@zarrar_11PK اب سنا ہے ان غدار نمک حراموں سے پھر مزاکرات ہونگے۔۔
ان کے کیس ختم کیئے جائیں گے۔ شہید پولیس والوں کا خون رائیگاں جائے گا۔ انکے مطالبات مانے جائیں گے اور ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے گا 3 روپے بجلی کے یونٹ کیساتھ۔
چھ مہینے یا سال بعد یہ عفریت پھر نکلے گا۔
پیپلزپارٹی کو ھمیشہ بجٹ کے موقع پر گندی بلیک میلنگ کرتی ھے ،سسٹم کا حصہ ھوکر احسان کرتے ھیں ،حکومت کو چاھئے گھر جائے ایسے بلیک میل ھونے سے بہتر ھے حکومت چھوڑیں اور گھر جائیں۔
ن لیگ سادہ اکثریت رکھتی ہیں جبکہ آزاد امیدواران کا جھکاؤ بھی ن لیگ کی طرف ہے آئندہ چند دنوں میں ن لیگ اپنی اکثریت واضح کے کرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی
وفاقی وزیر امیر مقام
@AmirMuqamAM@pmln_org