جس صوبے کے اساتذہ رمضان کریم کی مبارک راتوں میں بھی سڑک پر پڑے اپنا حق مانگ رہے ہوں
اور وزیر تعلیم اور وزیر اعلی ان کی بات سننے تک کےروادار نا ہوں تو تعلیم کا وہی حال ہو گا جو ہو رہا ہے۔
#بھولاریکارڈ
ویسے یہ ناجائز چالان ہے
کسی بھی سواری
وہ موٹر سائیکل ہو یا کارگو گاڑی
چالان اُس صورت میں بنتا ہے
جب سامان سواری کی حدود سے باہر نکلا ہوا ہو
یہ تین ڈبے موٹر سائیکل کی سیٹ کی حدود میں ہیں
اور اونچے بھی نہیں ہے
اس قسم کے ناجائز چالان عوام پر ظلم ہیں
@OfficialDPRPP
یہ بھی دیکھ لیں کل کو اس واقع کی رپورٹ بھی آپ کے ایس ہی صاحب بنا دیں گے کہ موٹر سائیکل والے نے پولیس والے کو ٹکر ماری
اس حرامزادے کو نشان عبرت بنائیں یہ کیا طریقہ سے ایک معزز شہری کو روکنے کا یہ پولیس اسٹیٹ نہیں ہے یہ ذہن نشین کر لیں شکریہ
پنجاب اسمبلی کے فلور پر کوئی پارلیمنٹیرین یہ سوال جمع کرائے گا: پنجاب حکومت نے 2022ء سے لے کر اگست 2026ء تک صرف لاہور کی سڑکوں، انڈر پاسز، چوراہوں کی تزئین و آرائش کی مد میں ہر سال کتنے کتنے پیسے خرچ کیے؟ ایک الگ سوال یہ بھی جمع کرائیں کہ لاہور کینال روڈ پر موجود 10 کے قریب انڈر پاسز پر گزشتہ 10 سال میں صرف تزئین و آرائش کے نام پر کتنے پیسے خرچ کیے گئے؟ پھر ایک سپلیمنٹری سوال بھی جمع کرائیں کہ انتہائی ناقص کام کرنے والی کمپنیاں کون سی تھیں اور ان کمپنیوں کے مالکان کون ہیں جنھیں یہ ٹھیکے دیے جاتے ہیں؟ اضافی سوال یہ بھی اسمبلی میں جمع کرائیں کہ ٹھیکہ دینے سے پہلے جو ٹینڈر دیے گئے وہ کن اخبارات میں شائع ہوئے اور ٹینڈر میں مجوزہ مالیت کا تخمینہ کس بنیاد پر لگایا تھا؟
ڈاکٹر اکمل سومرو صاحب کی فیس بک وال سے
لوگوں کےستر سال پرانے کاروبار ختم کرکے
سڑک پر لا پھینکا کہ میڈم کو بیوٹی پسند ہے
چلتی مارکیٹیں گرا دیں کہ میڈم کو میٹرو پسند ہے
لیکن
نالہ لئی کے گرد بنے مکانات کو معاوضہ دےکر کہیں اور منتقل نہیں کر سکے۔ نالہ کھلا نہیں کر سکے۔پوری آبادی کےگھروں میں پانی چلا جائے، لالھوں کا نقصان ہو جائے ہوتا رہے۔
کیونکہ نالے پر بیوٹیفیکیشن نئیں ہو سکتی نا
جن کا نقصان ہوتا ہے ان سے پوچھیں اذیت کیا ہوتی ہے۔
محترمہ شزا فاطمہ جی
آپ نے 5Gلانچ کیا اچھا کیالیکن
صورتحال یہ ہےکہ دو دن سے نا وائی فائے پر واٹس ایپ کال ہو رہی ہے نا موبایل ڈیٹا پر
اور کال بھی بار بار ڈراپ ہو رہی ہوتی ہے۔
رات meta cetified devleoperکا ٹیسٹ دینےبیٹھے تو انٹرنیٹ سروس جواب دے گی۔ دوسری کمپنی کی ٹرای کی وہ بھی سست۔
میڈم جی یہITایکسپورٹ کیا کبوتروں کے ذریعے کرنی ہے؟
ملک میں انٹرنیٹ کا بیڑہ غرق ہوا پڑا ہے
@ShazaFK
جس جماعت علی شاہ کو پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے پر بلیک لسٹ کیا گیا اور کینیڈا فرار ھو گیا تھا وہ کل سید مزمل شاہ کے ایکسپریس نیوز پر پروگرام میں بھاشن دے رھا تھا۔
وہ کینیڈا میں تھا۔ ٹورنٹو میں کونسلیٹ میں میرے پاس پاسپورٹ بنوانے آیا، میں نے اسکا پاسپورٹ ایکسٹیند کرنے یا نیا جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ فارن سروس کے ایک سینئر افسر جو اب سابق سفیر ہیں انکا بہت پریشر تھا۔
ہمارا حافظہ بہت کمزور ھے جلد بھول جاتے ہیں ۔
اس وقت ایک طاقتور ترین گروپ ہے جس میں وزیر مشیر اور طاقتوروں کے قریبی پیادے ہیں اس گروپ نے ہی نگران حکومت میں عہدے طے کروائے ان کے کہنے پر ہی چیف سیکٹریوں سمیت بڑے منافع بخش عہدوں پر تقرریاں ہوئیں چینی سے گندم تک ہر سکینڈل کے پیچھے یہی گروپ ہے اب یہی گروپ بجلی کی منافع بخش تقسیم کار کمپنیاں پر نظر گاڑھے بیٹھا ہے ہمارے صحافت کے بڑے بڑے نام ان سے معمولی فائدے لے کر ان کا نام تک نہی لکھتے ہیں
🚨مشتری ہوشیار باش
پاکستان کے حکمران سیاستدانوں نے پہلے شرمناک ترین نجی بجلی والے معاہدے کیے جس کے نینجہ میں کمر توڑ بل دینے کے باجود لمبی لوڈشیڈنگ جاری اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں حکمران ویسی ہی شرائط پر اپنے ہی پیاروں کو بیچ رہے ہیں سب سے پہلے فیسکو بیچیں گے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی پاکستان میں سب سے منافع بخش ہے یہ سو فیصد سے اوپر ریکوری کر رہی یعنی پچھلے بقایاجات بھی لوگوں سے لے رہے جبکہ خسارے والے سارے ڈسکوز حکومت کے سر رہیں گے جہاں بجلی چوری ہو جاتی ہے فیصل آباد صنعتی شہر ہے اب یہاں سے صنعتیں مکمل ختم کرنے کا پلان حکومت نے بنا دیا ہے ان معاہدوں کی شرائط بھی نجی بجلی گھروں جیسی ان کے نتائج بھی جب تک نکلیں گے یہ حکمران جا چکے ہوں گے مگر بیٹھ کر منافع کھاتے رہیں گے
بجلی کے بلوں میں 35 ارب ستمبر میں فالتو لینے کے بعد نون لیگ کی تجربہ کار حکومت نے گیس کا خسارہ دور کرنے کے لئے گیس سلیب سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا اس سے سب گیس صارفین کے بلوان میں آٹھ سو سے ہزار روپے کا اضافہ ہو جائے گا
اس طرح نون لیگ معیشت درست کر رہی ہے
اٹھارویں ترمیم کا رونا روز روتے اس کے بعد تمام محکمے اور اختیارات صوبوں کے پاس ہیں اب مرکز کے پاس ٹیکس وغیرہ لگانے کے علاوہ کچھ نہی ہے مرکز میں ساٹھ ستر وزیر مشیر لگا رکھے ہے ہیں وہ سارے حرام خور مل کر ایک 24 کلو میٹر کا علاقہ نہی سنبھال سکتے ہیں اربوں ڈکار جاتے مگر ہڈ حرام کام نہی کرتے ہیں
ترجیحات۔۔ پنجاب میں ہزاروں سرکاری اسکول نجی شعبہ کے حوالہ کر دیے گئے، صحت انشورنس کارڈ ختم کر دیا گیا لیکن 465 ارب روپے مالیت کی لاہور ساہیوال بہاولنگر موٹر وے (لمبائی 295 کلومیٹر) کی منظوری دے دی گئی۔
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
The value of FESCO's land situated along the canal in Faisalabad alone far exceeds 100 trillion rupees.
According to reports, the new future owners also have their sights set on FESCO's entire landholding.
#EliteCapture
اب حکومت نے خود تسلیم کیا کہ پچھلے سال جو چینی امپورٹ کی وہ سٹاک میں پڑی ہے اس وقت مارکیٹ میں چینی کا ریٹ 150/160کے درمیان ہے مارکیٹ ڈیمانڈ سپلائی پر چلتی ہے اگر چینی وافر تو پاکستانی مارکیٹ میں ڈالیں اس سے چینی کی قیمت واپس 80/90 روپے کلو ہو گی مگر چونکہ خود چینی کے کارخانے تو اپنا نقصان نہی کرنا عوام کو فائدہ نہی دینا وہ چینی باہر بھیج کر ملک میں شارٹیج کریں گے
شہباز حکومت نے پیٹرولیم مصوناعات سے بجٹ خسارے پورے کرنے کے علاوہ فی لیٹر ڈیلر مارجن بڑھا کر ایک اور مافیا کے آگے سر جھکا دیا ہے
شہباز شریف کی ڈکشنری میں عوام نہی ہے بس الیٹ ہے مافیا ہے اور ان کے آگے سر جھکا کر اقتدار قائم رکھنا ہے
پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں
اپ مانیں یا مانیں شہباز شریف سے زیادہ دلیر وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں تو کبھی نہیں آیا۔
چاچو یوتھیوں کے ساتھ تو ابریشم کی طرح نرم ہیں لیکن چوبیس کروڑ عوام کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔
کروڑوں بدعائیں سمیٹ کر چند درجن پٹرولیم مافیا کو خوش کرنا یہ کسی بزدل کا کام نہیں
بنگلہ دیش میں آخری مرتبہ یکم جون 2026کو پیٹرول کے نرخ بڑھائے گئے ۔تین ماہ سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔پیٹرول 140ٹکہ جبکہ ڈیزل 115ٹکہ فی لیٹر دستیاب ہے مگر پاکستان کے بنارسی ٹھگ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول 331روپے جبکہ ڈیزل 390روپے لیٹر تک لے گئے ہیں۔کیا آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیئے بند ہوتا ہے ؟
پیٹرول پمپ مالکان نے احتجاج کرکے اپنے پرافٹ مارجن میں اضافہ کروا لیا مگر عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔