Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon.
The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland.
We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard.
With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
اکنامک سروے میں ایک اہم بات یہ بھی لکھی کہ 80فیصد کینسر کے مریضوں کا علاج سرکار کے اٹامک انرجی کمشن ہسپتال میں ہوتا ہے 21ہسپتال جہاں ہزاروں کینسر کے مریض مفت علاج کرواتے ہیں
جبکہ کینسر کے تمام مریضوں کے نام پر چندہ زکواة صدقات ایک ہسپتال لے جاتا ہے
ایک بڑے عالمی بحران سے بچانے اور ایران و امریکہ جنگ بندی کروانے پر میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے مثال سفارتی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ایران اور امریکہ کا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے امن کا راستہ اپنانا خوش آئند ہے۔ دعا ہے کہ یہ کاوشیں مستقل عالمی استحکام کی جانب ایک نتیجہ خیز قدم ثابت ہوں۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک صاحب چھا گئے ہیں آپ
علی پرویز ملک صاحب کا قومی اسمبلی میں دبنگ انداز پی ٹی ائی کے رہنماؤں کو ائینہ دکھاتے ہوئے
کہا کے میں میاں محمد نواز شریف کے ٹکٹس پرالیکشن لڑ کےآیا ہوں شیر کے نشان پر میرے مقابلے میں جو امیدوار تھا اس کی نشے کی ویڈیو پورے پاکستان نے دیکھ لی ہیں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں تفصیل بھی بتائی ان کو ۔
It was a pleasure to receive H.E. Mr. Hakan Fidan, Foreign Minister of the Republic of Turkiye and H.E. Dr. Badr Abdelatty, Foreign Minister of the Arab Republic of Egypt, this evening.
I stressed upon the need for collective efforts to urgently bring an end to hostilities that were causing heavy loss of life, economy and property not only in Iran, but across several brotherly Muslim countries.
While appreciating Turkiye and Egypt's valuable contributions, I reaffirmed Pakistan’s strong commitment and resolve to play a positive role in bringing both Iran and the U.S to the negotiating table.
Grateful for their confidence in Pakistan’s sincere efforts for regional peace and stability.
It was a pleasure to receive His Highness Prince Faisal bin Farhan this evening.
I conveyed my respectful regards to His Majesty King Salman bin Abdulaziz Al Saud and warm greetings to my brother His Royal Highness Mohammed bin Salman, the Crown Prince.
I reaffirmed Pakistan’s unwavering solidarity with the Kingdom and appreciated Saudi Arabia’s remarkable restraint in these challenging times.
Recognizing the Kingdom’s leadership role in the Muslim Ummah, I underscored the importance of unity among Islamic countries.
We agreed to remain in close coordination in our shared pursuit of peace and stability in the region.
آگے راستہ ہے مشکل لیکن اگر پاکستان کی کوششوں سے امریکہ ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی ہو گئی اور علاقائی امن بحال ہو گیا تو پاکستان کا یہ کردار تاریخی ہوگا اور پاکستان کا عالمی برادری میں مقام بہت اونچا ہو جاے گا۔
ان شاءاللہ
محترم وزیر صحت صاحب @Kh_ImranNazir پورے پنجاب میں کوئی سرکاری الرجی کا ھاسپٹل نہیں ھے اور نا ھے الرجی کی ویکسین ملتی ھے پنجاب کے باسیوں کو الرجی کی ویکسین کے لیے اسلام آباد جانا پڑتا اس طرف آپکو توجہ دینے کی ضرورت ھے پنجاب میں سرکاری الرجی سینٹر بنائیں اور وہاں Latest ویکسین بھی مہیا کریں
ڈیفالٹ کا مطلب سمجھتy ہیں ؟
ڈیفالٹ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوں گے کہ باہر سے پٹرول منگوا سکے۔ اس کا کیا مطلب ہوا ؟ اس کا مطلب ہوا کہ گاڑیاں ، موٹر سائیکل تک نہیں چل پائیں گے۔ بجلی بنانے والے کارخانے بند ہوجائیں گے۔ ملک میں بجلی نہیں ہوگی تو انڈسٹری ختم ہوجائے گی۔ ہر وہ چیز جو باہر سے آتی ہے نہیں آ سکے گی۔ جب انڈسٹری ختم تو سمجھ لیں کہ پانچ سات کروڑ بلکہ آٹھ دس کروڑ لوگ یکایک بیروزگار ہوجائیں گے۔ کسان فصلیں نہیں اگا سکیں گے کہ کھاد نہیں ہوگی، سپرے کے لئے دوائیاں نہیں ہوں گی۔ باہر سے آنے والے بیج نہیں ہوں گے۔ کوکنگ آئل بھی باہر سے آتا ہے، چائے کی پتی تک۔
پاکستان جیسی معیشت والے ملکوں کو ہر حال میں دوست ممالک کےساتھ مل کر چلنا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں جسے دنیا لازمی لے۔ جیسے ایران کے پاس تیل اور گیس ہے۔ اس سے ممالک چوری چھپے بھی لیتے رہے۔ پاکستان اگر ڈیفالٹ ہوا تو ملک پتھروں کے دور میں چلا جائے گا۔
جب بھی آئندہ کوئی نام نہاد غیرت کا نام لے کر ملک کو تباہی کی طرف لے جانے کی بات کرے، تو اسے سختی سے ڈانٹ دیں، رد کر دیں اس کی بات اور اس سے یہ سب پوچھیں ۔ ہمارا پورا حق ہے کہ ہم تباہ ہونے کا فیصلہ بھی خود کریں اور تباہی سے بچنے کا راستہ بھی خود نکالیں۔ اسے چند جذباتی، عاقبت نااندیش لوگوں اور سیاسی تلخیوں سے لبریز لوگوں کی نذر نہیں کر سکتے جو اپنا سیاسی انتقام لینے کی خاطر ملک تباہ کرانے پر تل جائیں گے۔
تم تب کہاں تھے جب ایران بھارت کی جھولی میں بیٹھا تھا؟
تم تب کہاں تھے جب پاکستان پر بھارت نے حملہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھا تھا؟
تم تب کہاں تھے جب چاہ بہار سے بھارت پاکستان کے خلاف محاذ گرم رکھے ہوئے تھا،کلبوشن آتا جاتا رہا۔
بھارت تو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،مودی کے دورہ اسرائیل کے فوری بعد ایران پر حملہ ہوگیا۔
اُس کے باوجود ایران نے بھارت کو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی اجازت دی۔
تم اس کو ایران کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہو،یہی کہتے ہو کہ ایرانی کا اندرونی معاملہ ہے وہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔
جب یہ ایران کا اندرونی معاملہ اور فیصلہ ہے تو پھر پاکستان کا کیسے سانجھا ہوگیا؟
پاکستان بھی تو اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئی توازن قائم رکھے گا۔
پاکستانی بنو!!!!